لاہور: پنجاب میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جہاں چار ہزار تین سو پینتیس دیہات متاثر ہوئے ہیں اور بیالیس لاکھ سے زائد افراد سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اٹھارہ لاکھ ایکڑ سے زائد فصلیں اور سبزیاں تباہ ہو چکی ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کے مطابق، اب تک ساٹھ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم پندرہ لاکھ سے زائد مویشی منتقل ہوچکےہیں۔
ملتان، جنوبی پنجاب اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تیزی سے جاری ہیں تاکہ سیلاب زدگان کو محفوظ جگہوں پر پہنچایا جا سکے۔ نقصانات کا تخمینہ سولہ ارب روپے لگایا جا رہا ہے۔
سیلاب متاثرین مریم نواز کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ گجرات کے ڈوبنے اور اربوں روپے کے فنڈز کے گم ہونے پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ کا احتساب بھی عوامی مطالبات میں شامل ہے۔
وزیر اطلاعات نے الزام لگایا ہے کہ بھارت نے پانی روک کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جس سے سیلاب کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔