Wed, September 16, 2026

عدالتی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال ہوگا ،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عدالتی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال ہوگا ،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد : اسلام آباد میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر ہونے والی جوڈیشل کانفرنس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتوں میں اب ڈیجیٹل سروسز شروع ہو چکی ہیں اور جلد آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کا استعمال بھی ہوگا، مگر ابھی اس کے لیے مکمل تیار نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اندرونی آڈٹ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مقدمات کو جلد نمٹانا ہماری ترجیح ہے تاکہ عوام کو بروقت انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 61 ہزار کیس فائلز کو ڈیجیٹل کرنے کا منصوبہ مکمل کیا جائے گا جس سے مقدمات کا نظم و نسق آسان ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے وکلا اور عوام کے لیے ایک فیسیلی ٹیشن سنٹر بھی قائم کیا ہے جو یکم اکتوبر سے مکمل کام کرے گا، جہاں ضروری معلومات آسانی سے ملیں گی۔

انہوں نے عدالتوں میں سیکورٹی میں نرمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ریڈزون میں ججز کی سکیورٹی میں کمی کی گئی ہے تاکہ ان کی زندگی آسان ہو سکے۔

سپریم کورٹ میں اینٹی کرپشن ہیلپ لائن بھی شروع کی گئی ہے اور ججز کی چھٹیوں کے قواعد بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالتوں میں فوری انصاف کی فراہمی پر زور دیا اور کہا کہ قانون اور آئین کی پاسداری سے ہی شفافیت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ضرورت ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین طاہر نصر اللہ وڑائچ نے چیف جسٹس کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ وکلا برادری انصاف کی فراہمی میں آسانیاں چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں کی عدالتوں کو انٹرنیٹ اور سولر توانائی کی سہولت دی جا رہی ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار میاں محمد رؤف عطا نے کہا کہ وکلا آئین کی پاسداری کے لیے کام کر رہے ہیں اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے مسائل پر سنجیدہ سوچنا ہوگا اور موثر حکمت عملی بنانی ہوگی۔

ٹیگز: