پاکستان ایک کثیرالسان، کثیرالنسل اور متنوع تہذیبوں کا حامل ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد 1947 میں لاکھوں قربانیوں کے بعد ایک ایسے وطن کے طور پر رکھی گئی تھی جہاں مسلمان رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی تفریق کے بغیر امن سے رہ سکیں۔ مگر بدقسمتی سے دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور چند ناعاقبت اندیشوں کے غلط فیصلوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں لسانی اور صوبائی تعصبات کو فروغ دے کر اس قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس حوالے سے بلوچستان کا مسئلہ سب سے زیادہ توجہ طلب ہے جہاں گذشتہ چند برسوں سے خاص طور پر پنجابیوں کے خلاف ایک منظم نفرت انگیز مہم، پرتشدد کارروائیاں اور قتل و غارت جاری ہے۔بلوچستان میں عام پنجابیوں کے خلاف مظالم اور قتل عام کی داستانیں دل کو دہلا دیتی ہیں۔ پنجابیوں کو سرعام شناختی کارڈ دیکھ کر اور پھر جس خوفناک طریقوں سے ہلاک کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بلوچ عوام کی ایک مخصوص جماعت پنجابیوں کو غاصب سمجھتی ہے حالانکہ حقیقت میں یہ ایک غیر منصفانہ تصور ہے۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت سب سے زیادہ قربانیاں پنجاب کے لوگوں نے دی تھیں۔ 1965 اور 1971کی جنگوں میں بھی قربانی دینے والوں میں پنجابیوںکا تناسب سب سے زیادہ تھا۔ مگر اس کے باوجود افسوسناک امر یہ ہے کہ پنجاب کو اکثر پاکستان کے دیگر صوبوں میں ’’استحصالی‘‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر بلوچستان میں جس طرح مسافر بسوں سے پنجابی شناخت رکھنے والے افراد کو اتار کر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یہ ایک بھیانک اور انتہائی افسوسناک امر ہے جس کے سدباب کے لئے قومی سطح پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں عام بلوچ شہری کی حالت زار کوئی راز نہیں ہے مگر بلوچ عوام کو یہ سمجھنا ہوگاکہ اُن کی اس حالتِ زار کا اصل ذمہ دار کوئی اور نہیں وہاں کا سرداری نظام ہے جو طویل عرصے سے اپنے لوگوں کوشعور، تعلیم اور سیاسی آزادی سے محروم رکھتا آرہا ہے۔ بلوچستان کے سردار نہیں چاہتے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں سے لوگ بلوچستان آکر آباد ہوںیا وہاں کا سماجی ڈھانچہ بدلے کیونکہ اس سے ان کے استحصالی نظام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کے کل رقبے کا تقریباََ پینتالیس فیصد ہے مگر یہاں صرف ڈیڑھ کروڑ بلوچ آباد ہیں مگر اس سے کہیں زیادہ تعداد میں بلوچ پنجاب میںآباد ہیں مگر پورے پنجاب میں ان کو کسی علاقے میں اس طرح تعصب یا نفرت کا سامنا نہیں ہے جس طرح بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجابیوں کا قتل عام کیا جاتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ پنجابیوں کے لئے بلوچوں کی اس یکطرفہ نفرت کے پیچھے ضرور کوئی سازش کارفرما ہے جس کا اصل مقصدپاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی مالی و لاجسٹک معاونت کر رہا ہے۔ مگر اس حوالے سے کہیں نہ کہیں بلوچستان میں ان گروہوں کو وہاں کے چند مقامی سرداروں کی بھی پس پردہ یا کھلم کھلا حمایت حاصل ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ دیگر قومیں اپنی زبان اور کلچر کے ساتھ بلوچستان میں آ کر آباد ہوں کیونکہ وہ اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ان کے ظلم اور زیادتیوں کے خلاف اُن کے لوگوں میں شعور پیدا ہوگا ۔لہذا میرے خیال میں اس سازش کا توڑ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے سیاسی،صحافتی اور علمی ادبی افراد پر مشتمل ایک ایسا غیر متنازعہ قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو پورے ملک سے سات آٹھ کروڑ لوگ جس میں سندھی، پنجابی، مہاجر، پختون، کشمیری، گلگتی، ہزارہ، اور دیگر قومیتیں شامل ہوں کو بلوچستان کے کے مختلف حصوں کو آباد کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کرے ۔ جس کی روشنی میںبلوچستان میںنئی بستیاں، رہائشی اسکیمیں، تعلیمی ادارے اور صنعتی زونز قائم کیے جائیں۔ دیگر صوبوں سے آئے لوگوں کو بلوچستان میں آباد کرنے سے نہ صرف مقامی لوگوں کے لئے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہونگے بلکہ طویل عرصہ سے جاری ان کا استحصال کرنے والا روایتی نظام بھی کمزور ہوگا۔آبادی میں اضافے کے ساتھ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، مواصلات اور صنعتوں کا فروغ ہوگا۔ زیادہ آبادی کا مطلب زیادہ حکومتی توجہ، سیکیورٹی فورسز کی موجودگی اور بہتر سرحدی نگرانی ہوگاجو بیرونی سازشوں کے لیے بھی رکاوٹ بنے گا۔ اس وقت پاکستان کا معاشی مرکز صرف کراچی یا لاہور ہیں اگر بلوچستان میں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی تو پورے ملک کی معیشت میں توازن آ سکتا ہے۔اس کے علاوہ وہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ آباد ہونے سے علیحدگی پسندی کے رجحانات بھی ختم ہونگے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے رقبے کے مقابلے میں اس کی آبادی جس قدر کم ہے یہ صورت حال پاکستان کی ریاستی اور دفاعی پالیسی کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ اس خطے کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے جڑی ہوئی ہیں اگر یہاں آبادی نہ بڑھی تو یہ خالی زمین دشمن طاقتوں کے لیے آسان ہدف بن سکتی ہے۔ وہ نام نہاد دانشور جو وفاق کو پس پشت ڈال کر صرف صوبائیت کی بات کرتے ہیںانہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان صرف پنجاب، سندھ، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کا مجموعہ نہیںبلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے جو تمام پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف صوبائی حق کی بات کریں گے یا قومی وحدت کو فوقیت دیں گے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اتحاد میں طاقت ہے۔قومی یکجہتی کو فروغ دینا تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے تاکہ ہم ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کر سکیں۔پاکستان کی سیاسی قیادت کے ساتھ ملک کے علمی ادبی،صحافتی اور مذہبی طبقے کی بھی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے اپنا بھرپور کردار کریں۔ پاکستان کی بقا کے لئے صوبوں کے درمیان پیدا کی گئی منافرت کا خاتمہ کرنا اور مشترکہ ثقافت اور زبان کی بنیاد پر اتحاد پیدا کرنا بنیادی ضرورت ہے۔ہماری بدقسمتی ہے کہ وہ پاکستان جس کیلئے ہمارے پرکھوں نے بے شمار قربانیاں دی تھیں آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا اور اتحاد اور تنظیم کا وہ سبق جو ہمیں بابائے قوم حضرت قائد اعظم ؒ نے پڑھایا تھا اسے بھول کر ہم اپنی اپنی اکائیوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم سندھی ،پختون ،بلوچ اور پنجابی ہیں مگر شایدابھی تک پاکستانی نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں سندھ،خیبر پختونخواہ،بلوچستان اور پنجاب تو ہیں مگر ہمارا پیارا پاکستان کہاں ہے جس کی خاطر ہمارے بڑوں نے لاکھوں جان کی قربانی دی۔