Wed, September 16, 2026

شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ سفر، تجارت اور سلامتی میں نئے مواقع

شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ سفر، تجارت اور سلامتی میں نئے مواقع

اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان-سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں ایک خاندان کی طرح متحد ہیں اور دونوں ممالک کے روابط مضبوط اور دیرپا ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے 1960 کی دہائی کے بعد سے سعودی عرب کے متعدد دورے کیے ہیں، لیکن حالیہ دورہ ریاض خاص اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے سعودی عوام کی پاکستان کے لیے محبت اور تعاون کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ سعودی عرب نے ہر آزمائش میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط اعتماد اور مستقل وابستگی کی بنیاد پر قائم ہیں، جو تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے مابین حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو بھائی چارے کی علامت قرار دیا اور کہا کہ ہر مسلمان اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو تجارتی، سرمایہ کاری اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں مشترکہ کوششوں کے ذریعے مزید مستحکم کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور مل کر کام کرنے سے عالمی سطح پر اپنی جگہ مضبوط بنا سکیں گے۔

وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دور اندیش قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں سعودی معاشرہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

اسی موقع پر پاکستان-سعودی عرب مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے کہا کہ پاکستان کے دورے سے قبل انہوں نے سعودی وزراء سے ملاقاتیں کی ہیں اور شہباز شریف کی ترجیحات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی کاروباری وفد اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت شہزادہ منصور کر رہے تھے۔ وفد نے پاکستانی حکام، چیمبرز آف کامرس اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں تاکہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھایا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور سعودی عرب نے اپنے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے 18 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ ماہ ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں، جس کے تحت کسی بھی جارحانہ حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل دینے کا عہد کیا گیا ہے۔

ٹیگز: