اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد پاکستانی قوم پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پُرعزم ہو کر ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھی ہے۔
زلزلے کی 20ویں برسی کے موقع پر جاری پیغام میں صدر زرداری نے جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور متاثرین سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم اُن تمام پاکستانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قدرتی آفات کا سامنا ہمت اور یکجہتی کے ساتھ کیا۔ اصل طاقت مشکلات سے بچنے میں نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور عزم کے ساتھ انہیں عبور کرنے میں ہے۔”
صدر مملکت نے اپنے پیغام میں رواں سال آنے والے تباہ کن مون سون سیلاب کا بھی ذکر کیا، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور زراعت، بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو بھاری نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ فریم ورک اب خطے میں ایک مثالی نظام بن چکا ہے، مگر بار بار آنے والی آفات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ ہمیں اپنی تیاری کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے تمام سرکاری اداروں، نجی تنظیموں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ مل کر آفات کے اثرات کم کرنے اور متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔صدر آصف زرداری نے آخر میں دعا کی کہ “اللہ تعالیٰ ہمیں ایک زیادہ محفوظ، مضبوط اور مستحکم پاکستان بنانے کی توفیق دے۔”
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قومی یومِ استقامت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا دن ہماری تاریخ کا ایک المناک مگر حوصلہ افزا باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ “زلزلے میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، مگر قوم نے جس عزم، اتحاد اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔”
محسن نقوی نے جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ریسکیو اداروں، افواجِ پاکستان، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے متاثرین کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
وفاقی وزیر نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید نظام اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی سانحے سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔