گلزار بھائی (گلزار احمد بٹ سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل، کوآرڈینیٹر وفاقی محتسب اعلیٰ لاہور رینج) کی شادی پر انتہائی چمکدار چہرے کے مالک خوبرو نوجوان جو دانشوری، حریت، آزادی اور جمہوریت کی باتیں کر رہے تھے پتہ چلا یہ پرویز صالح صاحب ہیں سیاستدان ہیں، بائیں بازو کی سیاست کرتے ہیں۔ برابر میں آئی جی جیل خانہ جات سید شفقت اللہ شاہ صاحب، بیگم بریگیڈیئر شریف، بریگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالقیوم، راو¿ عبدالرشید اور اس وقت پیپلز پارٹی اور ایم آر ڈی کی اعلیٰ قیادت کے علاوہ بہت سے لوگ تھے۔ الیاس کشمیری، اقبال حسن، جمیل فخری، حبیب جالب، ببو برال، امان اللہ ہر شعبہ زندگی کے لوگ تھے سید افضل حیدر وکلا پلیٹ فارم پر جمہوریت کے لیے سرگرم تھے۔ ملک قاسم، حامد سرفراز، محمد سلمان کھوکھر اگر نام لوں تو کالم نہیں کتاب چاہیے۔ میری توجہ جناب پرویز صالح پر تھی ایوب خان مصلی، حاجی محمد سعید بھٹی، پا جی محمد اعظم بٹ صاحب بھی موجود تھے اور میں حیران تھا کہ جنرل ضیا کے زمانے میں آزادی اور جمہوریت کی بات کرنا اور پھر بائیں بازو کی سیاست کرنا۔ اس پر میں نے خدشہ کا اظہار کیا، گلزار بھائی یہ پرویز صالح صاحب گرفتار نہ ہو جائیں؟ کہنے لگے کہ یہ اپنا جیل جانے والا بریف کیس ساتھ رکھتے ہیں، 20 بار جیل جا چکے ہیں، شاہی قلعہ میں بھی کاٹ چکے ہیں۔ میں تھا تو پیپلز پارٹی سے متفق لیکن جناب پرویز صالح کے کہنے پر قومی محاذ آزادی جوائن کی۔ معراج محمد خان چیئرمین تھے مگر جیل میں تھے یہ سب وہ دریا تھے جو پیپلز پارٹی کے سمندر میں گرتے تھے۔ پرویز صالح نقی مارکیٹ، نیلا گنبد مارکیٹ کے مالک بھی تھے۔ بلوچستان میں بہت بڑی کوٹھی اور زمین کے علاوہ لاہور میں جائیداد اور رہائشی گھر چھ کنال 20 اے ماڈل ٹاو¿ن تھا اور سیاست بائیں بازو کی کرتے تھے پھر پیپلز پارٹی میں شامل رہے۔ ایم آر ڈی کے مرکزی کنوینر رہے۔ اسی جماعت میں جہانگیر بدر بھی تھے مگر جناب پرویز صالح اپنی تمام جائیداد، مال و متاع سب سیاست میں لٹا کر پلہ جھاڑ کر بی بی کی شہادت کے بعد گھر بیٹھ گئے۔پرویز صالح 1988ءکے انتخابات میں چالیس ہزار ووٹوں کی برتری سے جیت رہے تھے ہرانے کی بہت کوشش
کے باوجود 16 ہزار ووٹ کی برتری سے کامیاب قرار پائے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی کابینہ میں لٹریسی کمیشن کا چیئرمین بنایا، انہوں تعلیم کو تاریخی فروغ دیا۔ ایک بشیر ریاض صاحب ہیں، جناب گریٹ بھٹو سے بلاول تک سیاسی مشیر ہیں اور 5/6 مرلے کا گھر رحمن ولاز ایئرپورٹ روڈ پر ہے۔ پھر بابائے سوشلزم شیخ رشید کے متعلق چودھری مشتاق برگھٹ ایس پی بتاتے ہیں کہ کسی کام کی غرض سے ان کے پاس اسلام آباد گئے تب وہ وزیر تھے گریٹ بھٹو کے وزیر شیخ صاحب شاور لینے کے بعد کپڑے پہننے لگے، بنیان میں 10/12 نہیں کافی چھید تھے۔ کمرے میں بیٹھے لوگوں نے بنیان کی طرف صرف دیکھا تو شیخ صاحب بابائے سوشلزم بولے کہ اس کی ضرورت نہیں، مجھے بنیان پہننے کی صرف عادت ہے لہٰذا فرق نہیں پڑتا۔ آنکھوں کے سوال کا جواب دے کر بنیان پہن لی۔ پھر آگے چلیے ایک دفعہ ایئرپورٹ پر بھارت سے فلائٹ آئی تو کنویئر بیلٹ پر بورے ہی بورے، مگر مسافروں کا سامان نہیں تھا،یہ سمگلروں کا سامان تھا۔ ایک انگریز عورت نے شور مچا دیا کہ یہ کارگو جہاز ہے۔ میں نے کہا، نہیں! یہ چیرٹی ہے۔ پاکستان کے مخیر حضرات غریبوں کے لیے منگواتے ہیں۔ تب جناب نواز شریف نے گرین چینل کر دیا ہوا تھا۔ سامنے دیکھا تو عاصمہ جہانگیر، ڈاکٹر مبشر حسن و دیگر لوگ تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہوائی چپل (قینچی جوتا) میں تھے۔ میرا ایک دوست مجھ سے کہنے لگا ڈاکٹر صاحب گریٹ بھٹو کے وزیر رہے ہیں اور قینچی جوتے میں ہیں۔ میں نے کہا، جوتا، گھڑی اور گاڑی انسانوں کی پہچان نہیں ہوتی، کردار پہچان ہوتی ہے۔ قارئین بھٹو صاحب کا جب تختہ الٹا گیا، ضیا الحق جو ابھی تک تو وطن عزیز کے جابر ترین حکمران ہیں، کے دور میں لاکھوں لوگ جیل گئے۔ پنجاب اسمبلی کی گولڈن جوبلی پر ضیاالحق نے اپنے خطاب میں خود کہا تھا کہ پاکستان کی جیلوں میں 20 ہزار لوگ ایسے ہیں جن پر کوئی مقدمہ نہیں۔ کوڑے، پھانسیاں، جلاوطنیاں، قیدیں، قلعے عام تھے مگر حیران ہوں گے کہ کسی ایک بھی شخص پر بدعنوانی کا مقدمہ نہیں تھا۔ سب عوامی اور جمہوری حقوق کے مطالبے پر قیدی تھے، رسول بخش پلیجو، پرویز صالح، سید عباس اطہر، منہاج برنا اور نہ جانے کون کون لوگ تھے جو جمہوری حقوق کی بحالی کی نذر ہو گئے۔ اقتدار میں چودھری اعتزاز احسن، جناب پرویز صالح، ڈاکٹر مبشر حسن مجال ہے کسی بیوروکریٹ کی کہ ان کے پاس کوئی غلط فائل بھیج سکے یا کوئی ایک فائل وہ دیکھے بغیر دستخط کر دیں۔ کسی ایک فائل پر بیوروکریٹ کے نوٹ پر کئی جگہ کٹنگ، کئی جگہ اضافہ اور کئی جگہ سپیلنگ درست نہ کیے ہوں تو پھر بیوروکریسی کیسے حاوی ہو سکتی تھی؟ گریٹ بھٹو صاحب کے پاس ایف بی آر کی طرف سے ایک فائل بھیجی گئی جس میں دو تین سو صفحات تھے جب فائل واپس آئی تو اس کا ہر صفحہ پڑھا ہوا، پین سے ٹک کیا ہوا، اضافی نوٹ لکھے ہوئے اور ایک لفظ ”Except obscence literature“ کے ساتھ امپورٹ کی اجازت دی۔ گریٹ بھٹو کلین ٹیبل آدمی تھے، فائل پڑھنا اُن پر ختم تھا، محترمہ بے نظیر بھٹو بھی کمال درجے کی ریڈر اور اصلاح کار تھیں۔ دراصل یہ لوگ سیاسی، نظریاتی اور ذہین ترین کے ساتھ ساتھ محب وطن ہی نہیں محنتی لوگ تھے۔ ان کا بیوروکریسی کبھی مسئلہ نہ رہی اور نہ ہی عدلیہ۔ اکثر کے تو بیوروکریٹ دوست یا کلاس فیلوز ہوتے تھے، پرویز صالح اور ان کے بڑے بھائی فاروق صالح کے سیکڑوں بیوروکریٹ کلاس فیلو تھے۔ نظریاتی، سیاسی، باکردار لوگ اب جو ہیں ان سے سیاسی جماعتوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ نوابزادہ نصراللہ کونسلر بھی نہ ہوتے مگر سیاست کے سرخیل تھے، وہ رکن اسمبلی بھی بنے، محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنا امیدوار نہ دیا اور ان کی حمایت کی جس سے وہ اسمبلی میں پہنچے۔ کیا لاجواب لوگ تھے۔ آج ڈالے ہیں، بڑی گاڑیاں، بڑے گھر اور چھوٹے لوگ ہیں تب بھلے گھر بھی بڑے ہوں مگر بڑے لوگوں نے بڑے مقاصد کے خاطر سب قربان کر دیا۔ اُن میں پرویز صالح کے بغیر سیاسی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، فریال تالپور سے بڑھ کر کس کو پتہ ہو گا قربانی کیا ہوتی ہے؟ کردار، سیاست، نظریہ اور شخصیت کیا ہوتی ہے؟ معروف اور ممتاز صاحب اسلوب شاعر جناب چوہدری نوید اقبال چیمہ کا حسب حال کلام:
جو پاس تھا میرے لوٹا دیا ہے
کچھ لفظوں کو سونپا کچھ اشکوں میں بہا دیا ہے
مرنا تو ویسے بھی ہے ایسے ہی سہی
اپنے ڈر کو میں نے ڈرا دیا ہے
دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے
مصلحتوں نے ایک اندھیر مچا دیا ہے
ظرف دیکھتا ہوں لوگوں کے نوید
خود کو تماشا بنا دیا ہے