کینبرا/اسلام آباد: عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے بیانیے کو اس وقت بڑی کامیابی ملی جب آسٹریلوی حکومت نے شدت پسند تنظیم 'بلوچستان لبریشن آرمی' (BLA) پر باضابطہ پابندی عائد کر دی۔
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وانگ کے مطابق، اب سے بی ایل اے کے خلاف درج ذیل سخت قانونی اقدامات نافذ العمل ہوں گے۔ کسی بھی قسم کی مالی معاونت ثابت ہونے پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا۔ تنظیم کے نیٹ ورکنگ اور فنڈز اکٹھا کرنے کی کوششوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔آسٹریلوی حدود میں تنظیم کی کسی بھی قسم کی سرگرمی کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق، آسٹریلیا نے یہ فیصلہ بی ایل اے کی حالیہ خونی کارروائیوں کے بعد کیا ہے۔ خاص طور پر جنوری 2026 میں شروع کیے گئے نام نہاد "آپریشن ہیروف 2.0" کے دوران ہونے والے خودکش دھماکوں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ نے عالمی برادری کو سخت قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
اس فیصلے کے بعد بی ایل اے اب عالمی سطح پر مزید تنہا ہو گئی ہے۔ آسٹریلیا اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جنہوں نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے، جن میں پاکستان، امریکہ، برطانیہ شامل ہیں۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ثمر ہے۔ اس سے نہ صرف تنظیم کی بیرونِ ملک مالیاتی سپلائی لائن کٹ جائے گی، بلکہ اس کے نظریاتی پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری اب خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے موقف کی تائید کر رہی ہے۔