دنیا بھر کے مذاہب امن شانتی کا درس دیتے ہیں۔ مگر بدلتے وقت کے ساتھ لوگوں نے مذہب کو عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کا بابرکت رمضان کا مہینہ چل رہا ہے۔ جبکہ عیسائیوں کے بھی چالیس روزہ روزے چل رہے ہیں۔ ساتھ ہی ہندوؤں کا موسم بہار کا مذہبی تہوار ہولی منایا گیا ہے۔ بھارت میں ہولی، برج کی ہولی اور ہولی کا دھان مختلف رنگوں اور روایات پر مبنی رنگ لگانے/ رنگ پھینکنے کا مذہبی تہوار ہے جو ہندوؤں کے بھگوان کرشن اور رادھا کا پسندیدہ کھیل بتایا جاتا ہے۔ اس قدیم ہندو تہوار کو رنگوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے جو برائی پر اچھائی کی فتح کی خوشی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
بھارت میں ہولی کا تہوار جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے خوشی کا باعث بنا وہیں کچھ شہروں اور ریاستوں میں کشیدگی اور تشدد کی واقعات دیکھے گئے۔ رواں سال 2026 میں ہولی کی بہت ساری تقریبات میں خواتین کو کھلم کھلا ہراساں کیا گیا۔ ہندوت کے غنڈوں نے رنگ اور پانی پھینکنے کے بہانے خواتین کو جنسی استحصال کا شکار بنایا جس پر بھارتی خواتین، سول سوسائٹی اور معاشرہ آگ بگولا ہے۔ ہولی کی تکلیف دہ ویڈیوز میں مرد خواتین پر پریشر والا پانی زبردستی ڈالتے رہے جبکہ خواتین اور ان کے اہل خانہ کے بار بار منع کرنے کے بعد بھی یہ اوچھی حرکتیں رکی نہیں بلکہ ریاست اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹرا میں ہولی کے رنگ خواتین کو لگانے کی غرض سے قریب آ کر انکو جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے۔ یہ افسوسناک صورتحال بھارت کے کئی شہروں میں سامنے آئی ہے۔ علاوہ ازیں ہندوتوا تنظیموں کے لوگوں کی جانب سے رنگ لگانے کے لئے خواتین کے کپڑے تک کھینچے گئے۔ یہ کون سا خوشی کا رنگ تھا اور یہ کون سا مذہبی تہوار تھا جہاں ہر گھر کی
ماں بہن بیٹی کو بے ہودہ حرکتیں سہنا پڑیں۔
ہولی کے پہلے روز بڑے پیمانے پر ہراسگی کے واقعات رونما ہونے کے بعد بھارت کے کئی شہروں میں عوامی مقامات پر ہولی کھیلنے کے لئے خواتین شریک نہیں ہوئیں۔ ریاست اتراکھنڈ میں خواتین کو زبردستی رنگ لگانے کے لئے بعض نوجوان نشے کی حالت میں گھروں میں گھس گئے اور رہائشیوں کو زدوکوب کرتے رہے۔ ایسے میں ہولی کی تقریبات کا عوامی بائیکاٹ درست اقدام تھا۔ بازاروں میں برقع پوش مسلمان خواتین کو ہندتوا کے غنڈوں نے خوب پریشان کیا۔ پانی میں رنگ اور گائے کا گوبر ملا کر مسلمان خواتین پر پھینکتے رہے۔ یہ مسلمان خواتین کے ساتھ کیسا کھیل کھیلا گیا جس میں نہ رمضان کا احترام کیا گیا نہ ہی ہولی کا۔ خواتین اپنے دوپٹے چادریں سنبھالتیں تو ہندوتوا کے نعرے لگاتے نوجوان ان کی چادریں کھینچتے رہے۔
دوسری جانب ہندوتوا کے انتہا پسند گروپوں نے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کا بھی گھیراؤ کیا۔جبکہ کچھ شہروں میں مساجد، مدارس اور عیدگاہوں پر رنگ پھینکے گئے۔ مساجد کے در و دیوار رنگنے کے بعد نمازوں پر زبردستی رنگ ڈال کر انکو ہندو مذہبی کلمات ادا کرانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہولی کے تہوار میں تو ہندو اپنی خوشی مناتے ہیں مگر یہ کیسی ہولی تھی کہ ایک مذہب کو نشا بنا کر ہولی منائی گئی۔ ہندو معاشرے کا بگاڑ دیکھیں کہ ہندوتوا کے غنڈوں نے ہولی کے رنگ میں بھنگ ڈال کر اپنے ہی مذہب کی تقریب کو گندا کیا۔
ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک سرکاری کالج میں طلبہ و طالبات نے ہولی کا پروگرام رکھا مگر ایک تعلیمی ادارے میں بھی ہولی ڈھنگ سے نہ منائی جا سکی۔ طلبہ نے مسلمان طلبہ کو پکڑ کر زبردستی انکو بھنگ پلا کر ان کے روزے تڑوائے اور مسلمان طلبہ کے یونیفارم پھاڑ دئیے۔ جس کے ساتھ ہی کالج میں ہنگامے کی صورتحال پیدا ہو گئی۔
ہولی پر بدمزگی اچانک نہیں ہوئی۔ بھارت میں پنپنے والی مذہبی انتہا پسند تنظیموں نے اعلان کیا تھا انہیں مخصوص جگہوں پر ہولی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہندوتوا کے ٹھیکیداروں نے پولیس اور انتظامیہ کے حکم نامے مسترد کر دئیے تھے۔ وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل، راشتر سوئم سیوک سنگھ نے چیلینج کیا تھا کہ پورے بھارت کو ہولی کے رنگ میں بھر دیں گے ہر مسجد ہر مدرسے ہر چرچ ہر بازار ہر گاوں کھیت ہر جگہ ہولی منائی جائے گی کیونکہ بھارت میں ہندوؤں کا راج ہے اور اسی کا انجام طوفان بدتمیزی پر ہوا۔
انتظامیہ کی بات کریں تو ریاستی پولیس کو انتہا پسندوں کو آڑے ہاتھوں لینا چاہیے تھا۔ ہولی کھیلنے کے مقامات پر مرد اور خواتین پولیس تعینات ہونی چاہئے تھی۔ نشے کی حالت میں خواتین کو ہراساں کرنے والوں کو بروقت گرفتار کرنا چاہئے تھا۔ بروقت سخت ایکشن سے انٹرنیٹ پر آگ کی طرح وائرل ویڈیوز، نیوز چینلز پر بدنظمی کی خبریں اور شرمناک واقعات کی گونج سے بچا جا سکتا تھا۔
مگر ایسا تب ممکن ہوتا اگر بھارتی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مذہبی انتہا پسندی کے ہندوتوا گروپس کو بھی آئین اور قانون کے تابع سمجھتے۔ جب ایسی مذہبی منافرت کی کاروائیاں کرنے والوں کو قانون سے بالا تر سمجھا جائے گا تو ہر عید شب رات اور ہولی تکلیف دہ ہو گی۔
ہولی کے رنگ بھی جیسے بھارت میں پھیکے پڑ گئے۔ کیونکہ ہر جگہ ہر شہر ہر ریاست میں ہندو انتہا پسندوں کی لاقانونیت نے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا۔ تہواروں سے محبت اور خوشی پھیلنی چاہیے لیکن لوگوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال کر، خواتین کو ہراساں اور غیر انسانی بنا کر، اور جشن کو افراتفری میں بدل کر معاشرے کو مزید تنزلی کی طرف دھکیلا گیا۔