Wed, September 16, 2026

سعودی عرب پاکستانی آم کی بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے۔۔مگر

سعودی عرب پاکستانی آم کی بڑی مارکیٹ بن سکتا ہے۔۔مگر

نہ جانے کیوں ہماری وزاتوں نے پاکستان کی نیک نامی میں سست روی اور غیر منظم انداز اپنا رکھا ہے، یہ جملہ ہر وزار ت کیلئے نہیں یہاں میرا مقصد وزارت تجارت ہے جس کے ذمہ پاکستان کی اشیاءکو بیرون دنیا متعارف کرا کے اسکی مارکیٹ بنانے کی ہے، اربوں روپیہ عوام کے ٹیکسوں کا ان پر خرچ ہوتا ہے بیرون ملک انکے افسران ہیں جو اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے وہ قابل مذمت ہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں وہ تمام تر نا مساعد حالات میں حتی الامکان دی گئی ذمہ داری پوری کرتے ہیں اور پاکستانی مصنوعات کی مارکیٹ تلاش کرتے ہیں۔ پھلوں کے بادشاہ آم کو ہی لے لیجئے، سعودی عرب میں مقامی آبادی اور یہاں بسنے والے لاکھوں لوگوں کا پسندیدہ پھل پاکستانی آم ہے مگر وزارت تجارت پاکستان کے اہلکار اس کی حکومتی سطح پر تشہیر میں نہ جانے کیوں سستی کا شکار ہیں، وزارت میں بے جا مصارف تو کیے جاتے ہیں مگر بیرون ملک جون، جولائی، اگست میں آم کی اعلیٰ اقسام کی مارکیٹنگ نہیں ہوتی، اس سال یہاںکی سپر مارکیٹ میں چھوٹی سی جگہ لے کر جدہ، ریاض اور شائد دمام میں بھی نمائش لگائی گئی جسے Testing event کا نام دیاگیا، اسکے اخراجات اطلاعات کے مطابق حکومت نے نہیں بلکہ پاکستانیوں نے کیے چونکہ شائد پاکستانی مصنوعات کی تشہیر کیلئے وزارت تجارت کے پاس فنڈ ہی نہیں۔ ایسی نمائش جس میں مقامی اکابرین، حکومتی حلقے موجود نہ ہوں اسکاکیا فائدہ؟ پاکستانیوںکی شرکت تو تجارت نہیں بڑھا سکتی وہ تو ویسے ہی چاہے مہنگی ملیں مگر اپنے ملک کی مصنوعات خریدتے ہیں، تجارت بڑھانے والے میزبان ملک کے تجار ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے سٹال جہاں آٹا، دال، پیاز بھی بک رہی ہو، کیوں آئینگے۔ نمائش کے بعد خبر چلوا دینا کہ ”عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی“ اپنے آپ کو اور پاکستان کو فریب دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کے لذیذ اور خوش ذائقہ آم دنیا بھر میں اپنی منفرد خوشبو، مٹھاس اور اعلیٰ معیار کے باعث پہچانے جاتے ہیں دنیا میں آم کی اتنی شاندار اقسام پیدا نہیں ہوتیں جو اللہ نے پاکستان کی زمیں کو عطا کی ہیں۔ تاہم عالمی منڈی میں پاکستان کی برآمدات اس کی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں بہت محدود ہیں۔ شکایت یہ ہے کہ وزارتِ تجارت کے پاس سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں پاکستانی آم کی برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی نہیں، جو عدم دلچسپی کے مترادف ہے۔ آم کی منظم برآمد ہمارے لئے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ ہے، بہتر حکمت عملی سے قیمتی زرمبادلہ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ غیر سنجیدگی پاکستان کی تجارت اور محنتی کسانوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ پاکستانی آم کو ایک مضبوط بین الاقوامی برانڈ کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں سعودی عرب میں پاکستانی آم کی برآمدات سے آمدن 29.61 ملین ڈالر ہوئی ہے سعودی عرب میں پاکستانیوں کی آبادی 28 لاکھ ہے جبکہ امارات میںپاکستانیوںکی تعداد 18لاکھ ہے اور وہاں سے آمدن 159.74 ملین ڈالر ہے۔ سعودی عرب میں آم کی برآمد پانچویں نمبر پر ہے اس سے قبل عمان، یو کے بھی آتے ہیں ۔ گزشتہ پانچ سال کا جائزہ لیں تو سفار ت خانہ ریاض اور جدہ نے چند ہی نمائشیں ایسی کی ہیں جن میں اعلیٰ حکام، وزارت تجارت، سعودی تجار اور اہم افراد کو جو پاکستان کے اس بادشاہ پھل کی سعودی عرب میں درآمد کو بڑھانے میں کارآمد ہوں شرکت کی دعوت دی ہے۔ ہر سال جون سے اگست تک پاکستان سے سندھڑی، چونسا، انور رٹول، دسہری اور لنگڑا سمیت اعلیٰ اقسام کے ہزاروں ٹن آم سعودی عرب بھیجے جاتے ہیں، جہاں جدہ، ریاض، دمام، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی بڑی پھل منڈیوں اور سپر مارکیٹوں میں ان کی فروخت ہوتی ہے۔ 2017 میں پاکستانی قونصل خانہ جدہ نے یومِ آزادی کے موقع پر ایک شاندار ”پاکستان مینگو فیسٹیول“ منعقد کیا، جس میں سعودی وزارت خارجہ، جدہ چیمبر آف کامرس، وزارت تجارت، بڑی ریٹیل کمپنیوں، درآمد کنندگان، سفارت کاروں اور میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔ جدہ میں یہ شائد آخری باعزت اور بڑی نمائش تھی جو اس پھل کی تشہیر میں کارآمد ثابت ہوئی، تقریب میں صرف تازہ آم ہی نہیں بلکہ آم سے تیارکردہ آئس کریم، لسی، موس، پڈنگ، کیک، ٹارٹ، سلاد اور دیگر مصنوعات بھی پیش کی گئیں۔ 2018ءمیں پاکستانی قونصل خانے نے رومی فوڈز پاکستان کے اشتراک سے Emerging Pakistan Mango Branding EVENT نے چونسہ پاکستانی کا انعقاد کیا، یہ تقریب صرف آم کی نمائش نہیں بلکہ پاکستانی چونسہ آم کی بین الاقوامی برانڈنگ کی ایک منظم کوشش تھی۔ اس تقریب میں جدہ چیمبر آف کامرس، منویل گروپ، بن داو¿د، الراعیہ گروپ، وزارت تجارت کے حکام اور سعودی سپر مارکیٹ چینز کے اعلیٰ نمائندوں نے شرکت کی۔ متعدد سعودی کاروباری شخصیات نے پاکستانی آم کی اعلیٰ کوالٹی کو سراہتے ہوئے درآمدات میں اضافے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ دونوں نمائشیں پاکستانی تجارت میں کارآمد ثابت ہوئیں، یہ کارنامے اسوقت کے قونصل جنرل شہریار اکبر خان نے انجام دئیے۔ کمیونٹی سے رابطوںکے حوالے سے انہیں کمیونٹی ”آدم بیزار“ کا نام دیتی تھی چونکہ وہ کمیونٹی سے ملتے ہی نہیں تھے مگر پاکستانی تجارت کے حوالے سے انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ اس وقت جدہ میں پاکستان کے نئے قونصل جنرل سید مصطفی ربانی ایک سرگرم قونصل جنرل ہیں انہوں نے جدہ میں اپنی ذمہ داریاں دسمبر 2025ءمیں سنبھالی ہیں، معاملات کو سمجھنے میں تاخیر ہوتی ہے اہم افراد وزارت تجارت، حکومتی زعماءسے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ملاقاتوںکی 
مصروفیات نیز جدہ میں نیا قونصلیٹ جو یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ”آدھا پکا آدھا کچا“ انکی ذمہ داری بنا جس میں اب بھی کمیونٹی کو بہتر سہولیات کیلئے انکی نگرانی میں کام جاری ہے۔ اسلئے کسی نمائش کا بندوبست کرنا کم عرصے میں انکے لئے ممکن نہ ہوا ہو گا، اسلئے پاکستانی آم کی نمائش چھوٹے پیمانے پر سفار ت خانہ کے تعاون سے پھر ایک سپر مارکیٹ میں ہی منعقد ہوئی ہے۔ چونکہ اسوقت پاکستان کے پاس جدہ میں ایک نہایت شاندار قونصلیٹ کی عمارت ہے جہاں اس طرح کی نمائش منعقد کرنے کی بڑی جگہ بھی موجود ہے۔ سعودی تجار پاکستانی آمد کی درآمدات میں دلچسپی رکھتے ہیں پاکستان میں بیٹھے ادارے جو پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بھی اسکا عملی حصہ بنیں ، وزارتِ تجارت، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP)، پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ مشترکہ طور پر کولڈ چین، جدید پیکنگ، ویپر ہیٹ ٹریٹمنٹ، بین الاقوامی معیار کی گریڈنگ، ٹریس ایبلٹی اور برانڈنگ کے منصوبوں پرعملی کام کریں۔ آج کے حالات میں فضائی راستے سے مہنگا فریٹ بھی تجار کیلئے درآمد کو مشکل بناتی ہے۔

ٹیگز: