Wed, September 16, 2026

برہان وانی کی شہادت کو 9 سال مکمل، کشمیر میں ہڑتال اور خاموش احتجاج

برہان وانی کی شہادت کو 9 سال مکمل، کشمیر میں ہڑتال اور خاموش احتجاج

سری نگر: تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے نوجوان چہرے برہان مظفر وانی کی شہادت کو آج نو سال مکمل ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں آج مکمل ہڑتال ہے، بازار بند ہیں، سڑکیں سنسان ہیں، اور جگہ جگہ قابض بھارتی فوج تعینات ہے۔

برہان وانی، جو کہ جنوبی کشمیر کے علاقے ترال سے تعلق رکھتے تھے، نے نوجوانی ہی میں بھارتی ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ ان کے بھائی کی شہادت نے ان کے اندر ایک نئی آگ بھڑکا دی، اور وہ آزادی کی تحریک سے عملی طور پر جُڑ گئے۔

برہان نے صرف بندوق نہیں اٹھائی، بلکہ سوشل میڈیا کو بھی اپنی جدوجہد کا ہتھیار بنایا۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز نوجوانوں میں حوصلہ اور مزاحمت کا جذبہ جگاتی رہیں۔ ان کا انداز، الفاظ اور مقصد نے انہیں کشمیری نوجوانوں کا "ہیرو" بنا دیا۔

8 جولائی 2016 کو بھارتی فورسز نے انہیں ایک جھڑپ میں شہید کر دیا، لیکن ان کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت، اور بعد میں وادی میں اٹھنے والا احتجاجی طوفان، اس بات کی دلیل ہے کہ برہان صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک سوچ کا نام بن چکے تھے۔

ان کی شہادت کے بعد وادی میں 53 دن کا مسلسل کرفیو نافذ رہا، جس دوران 100 سے زائد کشمیری نوجوان شہید کیے گئے۔ مگر برہان کی قربانی نے تحریک کو ایک نیا رخ دیا، اور آج بھی کشمیری نوجوان ان کو آزادی کا استعارہ سمجھتے ہیں۔

یومِ شہادت پر کشمیری عوام دنیا سے ایک بار پھر مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کو اس کے اصل تناظر میں حل کیا جائے۔

ٹیگز: