پاکستان اکنامک موومنٹ کی معاشی بحالی کے حوالے سے سوچ اور کردار پر گفتگو کرتے ہوئے پہلی قسط میں ہم اس نکتے تک پہنچے تھے کہ نیت کے دعوے بہت ہیں، مگر نظام کی سمت اب بھی دھندلی ہے۔ اب بات آگے بڑھانا ناگزیر ہے، کیونکہ اصل مسئلہ کسی ایک ادارے، کسی ایک شخصیت یا کسی ایک میٹنگ تک محدود نہیں۔ یہ دراصل اس فکری تضاد کا نام ہے جو برسوں سے پاکستان کی معاشی شہ رگ میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ تضاد بیوروکریسی اور بزنس کمیونٹی کے درمیان عدم اعتماد، انا اور پالیسی کی کشمکش کا ہے۔
دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے مختصر وقت میں معاشی جست لگائی، وہاں ریاست نے ایک بنیادی حقیقت جلد تسلیم کر لی کہ سرمایہ کاری فائلوں سے نہیں، انسانوں سے آتی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق جن ممالک نے کاروبار میں آسانی کے اشاریے میں مسلسل بہتری دکھائی، وہاں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اوسطاً 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا۔ ویتنام کی مثال سامنے ہے جہاں صرف دس برس میں ایف ڈی آئی 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ریاست نے خود کو سرمایہ کاری کا دربان نہیں بلکہ سہولت کار بنایا۔
ایس آئی ایف سی کا قیام ایک درست خیال تھا۔ کاروباری برادری نے اسے خوش دلی سے سراہا۔ ون ونڈو آپریشن، تیز فیصلے، سول و عسکری قیادت کا مشترکہ وژن۔یہ سب وہ اجزا تھے جن سے امید بندھی کہ شاید اب معاملات بدلیں گے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ادارہ تو قائم ہو گیا، مگر ادارہ جاتی سوچ وہی پرانی ہے۔ نئی بوتل میں پرانی شراب ڈال دی گئی۔ سرمایہ کار کو آج بھی وہی سوال، وہی فائلیں، وہی تاخیر اور وہی غیر یقینی صورتحال درپیش ہے۔ سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 2024 میں پاکستان میں خالص ایف ڈی آئی 30 فیصد کم ہو گئی۔یہ صرف اعداد نہیں، یہ اعتماد کے زوال کی علامت ہیں۔
اصل مسئلہ اعتماد کا ہے۔ سرمایہ کار سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ کیا حکومت اس کے وقت، سرمائے اور نیت کی قدر کرتی ہے یا نہیں۔ جب ایک سنجیدہ سرمایہ کاری تجویز کے بعد ہفتوں اور مہینوں تک خاموشی چھا جائے، جب فیصلے افراد کے بجائے میزوں کے گرد گھومتے رہیں، تو اعتماد ٹوٹتا ہے۔ یہی وہ نقصان ہے جو کسی بجٹ خسارے یا مالیاتی رپورٹ میں نظر نہیں آتا، مگر معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت ماننا ہو گی کہ سرمایہ کار خیرات نہیں دیتا۔ وہ شراکت داری چاہتا ہے، عزت چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر پیش بینی (Predictability) چاہتا ہے۔ اگر پالیسی آج کچھ ہو اور کل کچھ اور، اگر ایک افسر وعدہ کرے اور دوسرا اس سے مکر جائے، اگر صوبہ کچھ کہے اور وفاق اس کی نفی کر دے، تو سرمایہ رک جاتا ہے۔ پیسہ جذباتی نہیں ہوتا، وہ محفوظ بندرگاہ تلاش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے ممالک میں سرمایہ جا رہا ہے اور ہم اب بھی فائلوں کے تعاقب میں ہیں۔
یہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار اس لیے نمایاں ہو جاتا ہے کہ وہ ان چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستی نظم و ضبط، سنجیدگی اور عملداری کی بحالی کی عملی کوشش کی ہے۔ ان کی نیت، ان کے عزم اور ان کی ترجیحات پر سنجیدہ حلقوں میں کم ہی سوال اٹھتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ ایک فرد، چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اکیلا نظام نہیں بدل سکتا، جب تک کہ حکومت اور بیوروکریسی میں بیٹھا پورا ڈھانچہ اس تبدیلی کو دل سے قبول نہ کرے۔
بیوروکریسی کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا بدل چکی ہے۔ یہ انیسویں صدی کا نوآبادیاتی نظام نہیں جہاں فائل ہی اقتدار کی علامت تھی۔ آج فیصلے رفتار، مسابقت اور اعتماد سے ہوتے ہیں۔ دبئی میں ایک کاروبار 48 گھنٹوں میں رجسٹر ہو جاتا ہے، روانڈا میں سرمایہ کار کو 72 گھنٹوں میں لائسنس ملتا ہے، سعودی عرب نے صرف پانچ برس میں نان آئل ایف ڈی آئی کو دوگنا کر دیا۔ وہاں افسر سرمایہ کار سے یہ نہیں پوچھتا کہ ”آپ کون ہوتے ہیں“ بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ ”ہم آپ کی مدد کیسے کر سکتے ہیں“۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں کاروباری آدمی کو آج بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، جیسے وہ ریاست کو لوٹنے آیا ہو۔ حالانکہ ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 70 فیصد سے زائد ٹیکس ریونیو براہِ راست یا بالواسطہ اسی کاروباری طبقے سے آتا ہے۔ یہی طبقہ روزگار پیدا کرتا ہے، برآمدات لاتا ہے اور معیشت کو حرکت دیتا ہے۔ اگر یہی طبقہ بددل ہو جائے تو ریاست پھر قرضوں اور امداد کے سہارے تو چل سکتی ہے، ترقی نہیں کر سکتی۔
بیرونِ ملک پاکستانی اس ملک کا سب سے بڑا خاموش اثاثہ ہیں۔ گزشتہ سال انہوں نے 30 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر بھیجیں، مگر جب بات سرمایہ کاری کی آتی ہے تو انہیں سب سے زیادہ ذلت، تاخیر اور بے یقینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ایس آئی ایف سی واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے محض سیمینارز نہیں بلکہ ایک قابلِ عمل، قابلِ اعتماد اور قابلِ نفاذ فریم ورک دینا ہو گا، جہاں وعدہ معاہدہ بنے اور معاہدہ نتیجہ دے۔اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم معیشت کو فائل سے چلانا چاہتے ہیں یا فیصلے سے۔ اگر فیصلہ بروقت نہ ہوا تو نہ سرمایہ رکے گا، نہ بحران۔ بحران بڑھے گا، گہرا ہو گا اور پھر کسی ایک ادارے یا شخصیت کے بس سے باہر ہو جائے گا۔ آج بھی وقت ہے کہ محض کوآرڈینیشن فورم کے بجائے ایک بااختیار ڈلیوری پلیٹ فارم بنایا جائے، جہاں بزنس کمیونٹی کی نمائندگی رسمی نہیں بلکہ مو¿ثر ہو۔
یہ کالم کسی پر الزام نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہے۔سنجیدہ، مخلص اور درد مند انتباہ۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، لوگ بھی اور مواقع بھی۔ کمی صرف اس فیصلے کی ہے کہ ہم کب تسلیم کریں گے کہ پرانا طریقہ ناکام ہو چکا ہے۔ اگر واقعی معاشی خودمختاری مطلوب ہے تو بیوروکریسی اور بزنس کے درمیان دیوار نہیں، پل بنانا ہو گا۔ پاکستان اکنامک موومنٹ یہ کردار اپنی بساط کے مطابق ادا کر رہی ہے، حکومت ہم پر اعتماد کر سکتی ہے۔سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم سننے کو تیار ہیں؟ کیا ہم ماننے کو تیار ہیں کہ معیشت تقریروں سے نہیں، شراکت سے چلتی ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کو زمین پر اترنے کا موقع مل سکتا ہے۔ اگر جواب نہیں، تو پھر ہم یہی کالم، یہی شکوے اور یہی ضائع ہوتے مواقع دہراتے رہیں گے اور تاریخ ایک بار پھر لکھ دے گی کہ موقع موجود تھا، مگر فیصلہ نہیں ہو سکا۔