بی ایل اے اپنی کارروائیوں کو ’’مزاحمت‘‘ کا نام دے کر جس انداز میں پیش کرتی ہے، وہ دراصل دہشت گردی کو رومانوی رنگ دینے کی ایک پرانی حکمتِ عملی ہے۔ قبضے، وسائل کے استحصال اور ریاستی جبر جیسے نعروں کی آڑ میں وہ اس بنیادی حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کی تمام تر سرگرمیوں کا سب سے بڑا نشانہ خود بلوچستان کا عام شہری ہے۔ کوئٹہ ہو یا مکران، پنجگور ہو یا کیچ،بی ایل اے کی کارروائیوں نے نہ اسکول چھوڑے، نہ بازار، نہ مزدور، نہ اساتذہ اور نہ ہی وہ بچے جو محض بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں بسائے ہوئے تھے۔
بی ایل اے کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز زبان و بیان کے اعتبار سے ایک مکمل جنگی دستاویز ہے، جس کا مقصد صرف اپنی صفوں کو حوصلہ دینا نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک ایسا تاثر قائم کرنا ہے کہ جیسے بلوچستان میں کوئی منظم “آزادی کی تحریک” چل رہی ہو۔ حالانکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ یہ بیانیہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور سیاسی راستوں کے بند ہونے جیسے الزامات دہرا کر ریاست کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، مگر اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ بی ایل اے نے خود کتنے بلوچوں کو “مخبر” یا “ریاست کا ایجنٹ” قرار دے کر قتل کیا؟ کتنے خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے اجاڑا؟ کتنی ماؤں کی گودیں سنسان کیں؟۔
بی ایل اے کا ایک اور خطرناک پہلو اس کا معاشی محاذ پر حملہ آور ہونا ہے۔ غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو دھمکیاں دے کر وہ بلوچستان کو ترقی کے کسی بھی امکان سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ریاست اور سکیورٹی فورسز ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں، وہیں بی ایل اے ان منصوبوں کو “قبضے کی علامت” قرار دے کر تباہی کا جواز پیش کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرمایہ کاری بھی جرم ہے اور سکیورٹی بھی، تو پھر بلوچ نوجوان کے لیے روزگار کہاں سے آئے گا؟ اسکول، اسپتال اور سڑکیں کون بنائے گا؟۔
افواجِ پاکستان اور سکیورٹی فورسز کو “قابض افواج” کہنے کا بیانیہ بھی اسی منظم سازش کا حصہ ہے۔ یہ وہی افواج ہیں جن کے جوان بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں، ریگستانوں اور شہروں میں اپنی جانیں قربان کر کے عام شہریوں کو دہشت گردی سے بچاتے رہے ہیں۔ یہ وہی جوان ہیں جو سیلاب ہو یا زلزلہ، سب سے پہلے متاثرہ علاقوں میں پہنچتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کر کے انہیں دشمن کے طور پر پیش کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ بلوچستان کے اپنے بیٹوں کی قربانیوں کی توہین بھی ہے، کیونکہ ان شہداء میں بڑی تعداد خود بلوچ جوانوں کی ہے۔
اس کے علاوہ بی ایل اے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کرتی ہے کہ اس کی قیادت تعلیم یافتہ طبقے کے پاس ہے اور یہ ایک “باشعور قومی تحریک” ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی سیاسی تحریکیں بندوق کے زور پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد، دلیل اور مکالمے سے آگے بڑھتی ہیں۔ جب کسی تحریک کا سب سے بڑا ہتھیار خوف، دھمکی اور تشدد بن جائے تو وہ تحریک نہیں رہتی، بلکہ ایک مسلح گروہ بن جاتی ہے جو اپنے ہی لوگوں کو یرغمال بنا لیتا ہے۔
بلوچستان کے عوام آج سب سے زیادہ جس چیز کے خواہاں ہیں وہ امن، تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ جینے کا حق ہے۔ یہ حق نہ بم دھماکوں سے مل سکتا ہے اور نہ ہی نام نہاد شہری جنگوں سے۔ بی ایل اے کا بیانیہ دراصل اسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ نوجوانوں کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلتا ہے جس کا انجام صرف مزید لاشیں، مزید تباہی اور مزید پسماندگی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ اس منظم پروپیگنڈے کو اس کے اصل چہرے کے ساتھ بے نقاب کیا جائے۔ بلوچستان کسی “قابض فوج” کے خلاف میدانِ جنگ نہیں، بلکہ پاکستان کا دل ہے، جہاں کے عوام نے ہر دور میں دہشت گردی کو مسترد کیا ہے۔ افواجِ پاکستان اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں اسی دل کی حفاظت کے لیے ہیں۔ بی ایل اے جتنے بھی خوش نما الفاظ استعمال کر لے، حقیقت یہی رہے گی کہ تشدد اور نفرت پر کھڑی کوئی بھی سوچ نہ عوام کی نمائندہ ہو سکتی ہے اور نہ ہی کسی روشن مستقبل کی ضامن ہوسکتی ہے۔
یہ امر نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے روابط اور سہولت کاری کے شواہد مسلسل سرحدوں سے باہر جا ملتے ہیں، جبکہ اندرونِ ملک موجود سہولت کار انہیں ایسا محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں جس سے وہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے نے پوری قوم کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد ہونے والی گرفتاریاں کراچی، پشاور، نوشہرہ اور اسلام آباد تک پھیلا ہوا نیٹ ورک اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فتنہ الخوارج جیسے دہشت گرد گروہ نہ صرف منظم ہیں بلکہ ایک منظم سہولت کاری کے تحت ریاستِ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔
تاہم دشمن یہ حقیقت ذہن نشین کر لے کہ قوم اور ریاست ایسے بزدلانہ ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والی نہیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں کی جانب سے پورے ملک میں آپریشنز کا آغاز اس عزم کی علامت ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور ہر اس ہاتھ کو توڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں جو پاکستان کے امن، استحکام اور یکجہتی کی جانب بڑھتا ہے۔ یہ جنگ صرف اداروں کی نہیں، پوری قوم کی ہے، اور ان شاء اللہ فتح حق اور پاکستان کی ہو گی۔