اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پی ٹی آئی کے پشاور میں ہونے والے جلسے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس جلسے نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی ساری باتوں کو سچ ثابت کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ پی ٹی آئی اپنے 13 سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر بات کرے گی، مگر جلسے میں صرف الزامات، گالم گلوچ اور فوج پر تنقید کی گئی، کارکردگی پر کوئی گفتگو نہیں کی گئی۔
طلال چودھری نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے اس رویے سے یہ ثابت ہوگیا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کر رہی، جیسے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بار بار فوج اور اس کے سربراہ کو سیاست میں گھسیٹ کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے فوج اور اس کے سربراہ کو جواب دینے پر مجبور کیا ہے، حالانکہ فوج نے طویل عرصے تک صبر کا مظاہرہ کیا اور کسی تنقید کا جواب نہیں دیا۔ طلال چودھری نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی نے کبھی اسرائیل یا بھارت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، لیکن دہشت گردوں کے بارے میں ہمیشہ نرم رویہ اختیار کیا۔
طلال چودھری نے کہا کہ جب فوج اور اس کے سربراہ پر مسلسل تنقید کی جائے، تو جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے کئی بار پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں بات چیت کی دعوت دی، مگر اب اس دعوت پر خود حکومت کو شرمندگی محسوس ہو رہی ہے۔
آخر میں، طلال چودھری نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بارے میں کہا کہ ان کی حیثیت "بانی کے سامنے بنی گالہ کے شیروں سے زیادہ نہیں" اور یہ کہ بانی کے اپنے بچے آج بھی گولڈسمتھ کی گود میں پل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص اقتدار میں آ کر خود کو عقل کل سمجھنے لگے، وہ ذہنی طور پر مریض ہو سکتا ہے۔