Wed, September 16, 2026

دہشتگردوں کو غسل دیا جائے نہ نماز جنازہ ادا کی جائے

دہشتگردوں کو غسل دیا جائے نہ نماز جنازہ ادا کی جائے

بلوچستان گذشتہ دو دہائیوں سے ایک ایسے بیانیے کی زد میں ہے جسے دانستہ طور پر ’’بلوچ آزادی کی جدوجہد‘‘ کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ حقائق اس نام نہاد جدوجہد کو کھلی دہشت گردی ثابت کرتے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی یا عوامی تحریک نہیں بلکہ بیرونی سرپرستی میںہونے والی وہ مسلح دہشت گردی ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنااور عام معصوم، نہتے بلوچ عوام کو خوف، جہالت اور محرومیوںکے اندھیروں میں دھکیلنا ہے۔ اگر یہ واقعی آزادی کی جنگ ہوتی تو اس کا رخ عوامی ترقیاتی منصوبوں کے بجائے عوامی شعور، سیاسی جدوجہد اور آئینی راستوں کی طرف ہوتا، مگر یہاں تو سکول، بازار، بسیں، مسافر، مزدور، اساتذہ اور عام شہری نشانہ بنتے ہیں۔ یہ طریقہ کار کسی آزادی کی تحریک کا نہیں بلکہ خالص دہشتگردی کا ہوتا ہے۔ بلوچستان میں سرگرم فتنہ الہندوستان کالعدم تنظیمیں جن میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بی این اے، بی آر پی اور دیگر شامل ہیں، عرصے سے یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ان کا مقصد بلوچ عوام کی فلاح، ترقی اور خوشحالی نہیں، بلکہ ان کا ایجنڈا خوف پھیلانا، خون بہانا اور دشمن طاقتوں کے مفادات کی تکمیل ہے، جس کا واضح ثبوت ان تنظیموں کی بربریت، سفاکیت، حیوانیت اور درندگی کا نشانہ بننے والے زیادہ تر افراد عام شہری ہوتے ہیں، وہ مقامی و غیر مقامی مزدور جو اپنے بچوں کیلئے روزی کمانے نکلتے ہیں، وہ اساتذہ جو علم کی شمع روشن کرنے نکلتے ہیں، اور وہ تاجر جو معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ سب دشمن ہیں؟ کیا یہ سب قابض ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ان پر حملے کس ’’آزادی‘‘ کے اصول کے تحت کیے جاتے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ گھنائونا اور بھیانک کرداران نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کا ہے جو ان دہشتگرد تنظیموں کیلئے نرم گوشہ رکھتی ہیں اور ہر اس دہشت گرد کو، جو ازخود روپوش ہو جائے یا پھر سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں واصل جہنم ہو جائے، فوراً ’’لاپتہ‘‘ یا ’’مجاہد‘‘ بنا کر پیش کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ بی وائی سی، پانک، بی ڈبلیو ایف، بی ایس او آزاد اور بیساک جیسے پلیٹ فارمز درحقیقت دہشت گردوں کی پراکسیز ہیں، جن کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈا کرنا ہے۔ ان کی زبان، ان کا لہجہ اور ان کا سارا بیانیہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچ عوام کے نہیں بلکہ بیرونی آقاؤں کے مفادات کی علمبردار ہیں۔ سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہی گروہ، جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کو ’’شہید‘‘ اور ’’مجاہد‘‘ قرار دے کر ان کے غائبانہ جنازے پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے حق میں مہم چلاتے ہیں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولتے ہیں کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا کوئی باغی، خارجی یا فتنہ پرور نہیں بلکہ قابل تقلید ہیرو ہے۔ یہ طرزفکر نہ صرف ریاست دشمنی کا مظہر ہے بلکہ دین اسلام کی بنیادی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔ قرآن و سنت میں فساد فی الارض کو بدترین جرم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ المائدہ میں واضح ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ زمین میں فساد پھیلائیں، قتل و غارت کریں اور امن کو تباہ کریں، ان کیلئے سخت ترین سزا ہے۔ حدیث نبویﷺ میں بھی خارجیوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے کہ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خارجی ہمیشہ وہ گروہ رہے ہیں جو دین کا نام لے کر سب سے زیادہ خون بہاتے ہیں اور آج کے دہشتگرد انہی خارجیوں کے فکری وارث ہیں۔ اسلام میں ’’جہاد‘‘ کا تصور نہایت پاکیزہ، منظم اور ریاستی نظم کے تابع ہے۔ کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے طور پر جہاد کا اعلان کرے، معصوموں کو قتل کرے، بازاروں کو خون سے رنگے اور پھر اسے ’’دین کی خدمت‘‘ قرار دیدے۔ جو لوگ خودکش دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور مسلح حملوں کے ذریعے بچوں، عورتوں اور نہتے شہریوں کو مارتے ہیں، وہ نہ مجاہد ہیں، نہ شہید، بلکہ شریعت کی رو سے باغی، فاسق اور فتنہ پرور ہیں۔ ایسے افراد کے بارے میں فقہائے امت نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ ’’فساد فی الارض‘‘ کے مرتکب ہیں۔ اسی تناظر میں یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ جو شخص دہشت گردی میں ملوث ہو، معصوموں کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوں اور وہ ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا حصہ ہو، اس کیلئے وہ احکام لاگو ہوتے ہیں جو باغی اور خارجی کیلئے ہیں۔ فقہی کتب میں صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ باغی و راہزن کے لیے نہ غسل ہے اور نہ اس کی نمازجنازہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نمازجنازہ دراصل ایک طرح کی دعا اور عزت کا اظہار ہے، اور جو شخص زندگی بھر انسانوں کو قتل کرتا رہا ہو، بچوں کو یتیم کرتا رہا ہو، عورتوں کو بیوہ کرتا رہا ہو اور معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرتا رہا ہو، اس کیلئے یہ عزت شریعت اسلامیہ کی روح کے منافی ہے۔ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے کہ جب سکیورٹی فورسز کسی دہشت گرد کو آپریشن کے دوران جہنم رسید کرتی ہیں تو فوراً ایک مخصوص طبقہ اسے ’’ریاستی جبر‘‘ قرار دے دیتا ہے، بغیر اس بات کی پروا کیے کہ اس شخص کے خلاف کتنے ثبوت ہیں، اس نے کتنے بے گناہوں کو قتل کیا، اور وہ کن عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کا حصہ تھا۔ اس سارے پراپیگنڈے کا مقصد صرف ایک ہی ہوتا ہے، ریاستی اداروں کو بدنام کرنا، عوام کو گمراہ کرنا اور دہشتگردوں کیلئے ہمدردی پیدا کرنا تاکہ نئے نوجوانوں کو اس آگ میں جھونکا جا سکے۔ آخر میں یہ بات دو ٹوک انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں نہ کوئی مقدس جہاد ہو رہا ہے، نہ کوئی آزادی کی منظم تحریک، بلکہ یہ کھلی دہشت گردی ہے جس کے پیچھے بیرونی ہاتھ، فکری گمراہی اور سیاسی مفادات کارفرما ہیں۔ ان دہشت گردوں کو مجاہد کہنا، ان کے لیے غائبانہ جنازے پڑھنا اور انہیں ہیرو بنانے کی کوشش کرنا شریعت اسلامیہ کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ (بحوالہ الشیخ نظام وجماعۃ من علماء الہند، الفتاوہ الہندیۃ، 159:1دالفکر)

ٹیگز: