2جولائی 2018،ملک میں الیکشن ہوئے اور نیاپاکستان بن گیا۔کرپٹ سارے کے سارے کال کوٹھڑیوں کے مکین ٹھہرے اور صاف چلی شفاف چلی کی ملک میں حکمرانی ہوگئی۔حسب روایت پاکستان کے منتخب ہونے والے وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا ہوا۔ وزیراعظم عمران خان ننگے پیر مدینہ کی سرزمین پر اترے ۔سعودی عرب نے بھی اپنی روایت کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم کا شایان شان استقبال کیا ۔پاکستان کی معاشی مدد جتنی ہوسکتی تھی کرنے کا عزم کیا ۔عمران خان نے بھی آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے دوست ممالک کی طرف دیکھنے کی پالیسی اپنائی ۔
سترہ فروی 2019وہ دن جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے تاریخی دورے پر اسلام آباد پہنچے ۔یہ صرف ایک دورہ نہیں بلکہ پاکستان کی عزت افزائی کے اظہار کی اعلیٰ ترین نشانی تھی۔شہزاہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے جتنے بڑے تاجراور سرمایہ کار ہوسکتے تھے اپنے ساتھ اسلام آباد لائے۔انہوں نے تمام شعبوں کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی وزارتوں کے ساتھ بٹھادیاکہ لوٹ لو جو لوٹ سکتے ہو۔یہ وہی تقریب تھی جب شہزادہ محمد سلمان خطاب کررہے تھے اور ہمارے وزیراعظم صاحب نیچے منہ کرکے کھانا کھارہے تھے۔سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے درجنوںایم او یوز کیے۔ پاکستا ن میں آئل ریفائنری لگانے کا معاہدہ تک ہوگیا۔شہزادہ محمد بن سلمان عمران خان کو بھائی کہہ کر واپس روانہ ہوئے ۔
شہزادہ ابھی مشکل سے واپس اپنے ملک ہی پہنچا ہوگا کہ ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو نجانے کیا ہوگیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی بجائے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا۔ پوری قوم کو ترک پروپیگنڈا ڈرامہ ارتغرل دیکھنے پر لگادیا۔پوری قوم ارتغرل دیکھ دیکھ کر پاگل ہوگئی ۔ایک نہ ختم ہونے والے تاریخی رومانس کا شکار جس کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ عمران خان صاحب نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ مل کر مشترکہ ٹی وی چینل بنانے کا اعلان تک کردیا۔سعودی عرب جس کا ولی عہد کئی دہائیوں کے بعد پاکستان آیا تھا وہ پاکستان کی حکومت کے اس بدلتے طرز عمل کو سمجھنے کی کوشش میں حیران ہوتا رہا۔ایم بی ایس سخت غصے میں تھے کہ ان کی محبت اور دورے کا انہیں یہ صلہ دیا گیا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنالی ۔سعودی عرب کو یہ بات محسوس ہونے لگی کہ عمران خان اوآئی سی کے مقابلے میں کوئی نیا فورم کھڑا کرنے جارہے ہیں ۔یہ ایک خطرناک صورتحال تھی ۔قیام پاکستان کے بعد سے پاکستان میں کوئی بھی حکومت رہی اور سعودی عرب میں کوئی بھی بادشا ہ لیکن پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ایک دوسرے پر جان وارنے جیسے رہے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کیا جارہا تھا۔اس بات کا سعودی عرب کو شدید رنج ہوا اور پھر دورہ امریکا کے موقع پر عمران خان صاحب سے اپنا جہاز واپس لے کر ان کی ”عزت افزائی “ کر نے والا واقعہ بھی کروانا پڑا۔عمران خان صاحب کی خارجہ پالیسی نہ خداہی ملا نہ وصال صنم جیسی صورتحال سے دوچار رہی ۔جس کام کے لیے سعودی عرب کو چھوڑا وہ کام بھی نہ کرسکے اور پھر تعلقات بہتر کرنے کے لیے ہاتھوں کی گرہیں دانتوں سے کھولنے کا کام کیا گیا اور آخری ایام میں اوآئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں کروانے کی بھیک مانگی گئی ۔یہی عمران خان صاحب کا قائدانہ ویژن تھا کہ جو کام ستر سال میں کوئی حکمران نہ کرسکا وہ عمران خان صاحب نے کردیا ۔سعودی عرب کے غصے کے اظہار کے لیے بشریٰ بی بی کا ایک انٹریومیں یہ جملہ کافی ہے کہ ” انہوں نے کہا کہ تم یہ کیا اٹھالائے ہو“۔عمران خان صاحب کے پاس خود چل کر محمد بن سلمان آئے تھے لیکن انہوں نے یہ موقع ضائع کردیاجس کا نقصان پاکستان کو ہوا۔
عمران خان صاحب رخصت ہوئے تو شہباز شریف کے سامنے سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ تعلقات بہترکرنے کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کا موڑا ہوا رخ دوبارہ درست کرنے کا چیلنج تھا۔پاکستان کے وزیراعظم کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ساتھ ملاتو سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ رشتہ جوڑا گیا۔مئی کے معرکہ حق میں شہبازاور فیلڈ مارشل کی جوڑی نے وہ غضب کی پرفارمنس دی کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔اس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کا عروج شروع ہوگیا۔پھر چین سے لے کر امریکا تک پاکستان ہی پاکستان تھا۔دنیا حیران کہ ایک ہی وقت میں چین سے بھی لازوال دوستی برقرار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہر سانس کے ساتھ پاکستان کی مالا جپتا ہے ۔ نائب صدر جے ڈی وینس کو موقع ملتا ہے تو سید عاصم منیر کو پاکستان میں اپنا بہترین دوست کہہ اٹھتا ہے ۔
معرکہ حق پاکستا ن کی دفاعی صلاحیتوں کا امتحان اور سخت آزمائش تھی ۔پاکستا ن اس آزمائش میں کھرااترا۔اس کے بعد دفاعی میدان میں بھی پاکستان کی مانگ بڑھ گئی ۔وہ سعودی عرب جس کو عمران خان صاحب نے ناراض کردیا تھا اسی سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا۔سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ قرار پایا ۔اس کے بعد ایران امریکا کی جنگ شروع ہوئی تو ایران نے خلیجی ممالک پر حملے شروع کردیے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ہونے کی وجہ سے پاکستان نے ایران کو صاف بتادیا تھا کہ سعودی عرب کا رخ کرنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے اس لیے ایران باز رہا لیکن باقی خلیجی ممالک کو نشانہ بنا تا رہا ۔ امریکا جس کے پاس خلیجی ممالک کے دفاع کی ذمہ داری تھی وہ اس ذمہ داری میں ناکام ہوا۔خلیجی ممالک کی دفاعی چھتری میں ایران نے سوراخ کردیے ۔ اس کے بعد ایک آزمایا ہوا دفاعی صلاحیت کا مالک پاکستا ن ان ممالک کی حتمی اور قدرتی چوائس بن رہا ہے۔سعودی عرب کے بعد قطر،لیبیا ،الجزائزاور کویت کے ساتھ دفاعی میدان میں رشتے بن چکے ہیں ۔
ایران نے اپنی پراکسی حوثیوں کو سعودی عرب پر حملے کرنے کا حکم دیا تو بحرہ احمر میں سعودی جہازوں کو خطرات لاحق ہوگئے ۔اس کے لیے سعودی عرب نے نیوی کا اتحاد قائم کیا جس میں پاکستان کی لیڈنگ پوزیشن ہے ۔پاکستان نے حوثیوں کو خبردار کیا کہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے ۔وہاں کچھ مسائل کم ہوئے تو سعودی عرب نے اس اتحاد میں ایک اور اہم مسلم ملک ترکیہ کو بھی شامل کرنے کا کام شروع کیا اور جمعہ والے دن مکہ مکرمہ میں حرمین کے سائے میں پاکستان ،ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ۔اللہ کریم نے پاکستان کو عزت دی۔پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف کو عزت دی اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عزت دی۔پاکستان میں اس وقت بالغ نظر قیادت موجود ہے جس کو اللہ نے موقع دیا تو اس نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور آج ایک بار پھر امت متحد ہورہی ہے اور پاکستان اس کاقائد ۔یہ موقع شہبازسے پہلے عمران خان کو ملا تھا ۔شہبازتو خود چل کر ایم بی ایس کے پاس جاتے رہے لیکن عمران خان کے پاس خود ایم بی ایس چل کر آئے تھے لیکن انہوں نے وہ موقع ضائع کیا۔یہی وہ قیادت کے ویژن کا فرق تھا جس میں ایک نے ملک ڈیفالٹ تک پہنچایا اور دوسری قیادت نے ملک بچایا۔جوحرکت عمران خان صاحب نے سعودی عرب کے ساتھ کی تھی ویسے اس کے بعد یہ کہنا کہ ”تم یہ کیا اٹھالائے ہو“ کافی ہلکا ردعمل محسوس ہوتا ہے۔