Wed, September 16, 2026

ایس آئی ایف سی: کاروباری برادری کے بغیر ترقی محال

ایس آئی ایف سی: کاروباری برادری کے بغیر ترقی محال


پاکستان میں سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام ایک بڑے خواب کے ساتھ ہوا تھا۔ ایسا خواب جس میں ریاست نے پہلی بار کھل کر یہ تسلیم کیا کہ سرمایہ کاری کے راستے میں رکاوٹیں خود اسی کے نظام نے کھڑی کی ہیں، اور جب تک یہ دیواریں نہیں گرائی جاتیں، معاشی ترقی محض ایک نعرہ ہی رہے گی۔ سول و عسکری قیادت کے اشتراک سے بننے والا یہ پلیٹ فارم بظاہر اس عزم کا اظہار تھا کہ اب فیصلے تیز ہوں گے، نظام سادہ ہو گا اور سرمایہ کار کو وہ عزت اور سہولت ملے گی جس کا وہ برسوں سے منتظر ہے۔ مگر سوال وہی پرانا ہے اور آج بھی پوری شدت سے موجود ہے: کیا یہ خواب حقیقت میں ڈھل سکا ہے؟
ذرا ماضی کی ایک جھلک دیکھ لیجیے۔ ضیا الحق کا دور تھا۔ میرے نانا، عبدالمجید کٹاری، انجمن تاجران پاکستان فیصل آباد کے صدر تھے۔ اسلام آباد میں ایک میٹنگ ہو رہی تھی۔ دفتری بابوو¿ں کی لمبی چوڑی باتوں سے تنگ آ کر انہوں نے کھلے لفظوں میں کہا: سرکار عقل کے اندھوں پر تکیہ کیے بیٹھی ہے، آپ سب لوگ گھروں میں بیٹھ جائیں، تاجر پورا ٹیکس دیں گے اور معیشت کو چلا کر دکھائیں گے۔“ یہ جملہ محض ایک جذباتی ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک مکمل معاشی فلسفہ تھا اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج کی صورتحال پر بھی صادق آتا ہے۔ سابق وزیر خزانہ شبر زیدی بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں کاروبار کرنا غیر ضروری قوانین، ٹیکس کے دباو¿ اور حکومتی عدم استحکام کی وجہ سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکس کی شرح نہیں، بلکہ ٹیکس سسٹم کا پیچیدہ اور غیر یقینی ہونا ہے۔
جذبات سے ہٹ کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو ایک واضح خلا نظر آتا ہے: پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان ایک گہری خلیج۔ دعوے بڑے تھے، اعلانات دلکش تھے اور ہدف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری۔ خلیجی ممالک کے ساتھ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کی خبریں بھی خوب آئیں، مگر جب ان وعدوں کو زمین پر اُتری ہوئی سرمایہ کاری کے ساتھ ملایا جائے تو تصویر دھندلی پڑ جاتی ہے۔ یہاں مسئلہ صرف اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ اعتماد کا ہے۔ سرمایہ کار اشتہاروں پر نہیں آتا، وہ استحکام دیکھتا ہے، تسلسل چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر یقین مانگتا ہے۔ جب اسے محسوس ہو کہ آج کی پالیسی کل بدل سکتی ہے، یا فیصلے فائلوں کی دلدل میں پھنس سکتے ہیں، تو وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اب بھی اس سطح تک نہیں پہنچ سکی جس کا خواب دکھایا گیا تھا۔
ایس آئی ایف سی کی ایک قابلِ ذکر کامیابی ضرور ہے کہ اس نے چند کلیدی شعبوں زراعت، معدنیات، توانائی اور آئی ٹی کو نمایاں کیا۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں پاکستان واقعی امکانات سے بھرپور ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف پوٹینشل کا ذکر کافی ہے؟ پوٹینشل کو پرفارمنس میں بدلنے کے لیے جس نظام، رفتار اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ابھی تک پوری طرح فعال نہیں ہو سکی۔ منصوبے کاغذوں پر خوبصورت ہیں، مگر زمین پر ان کی رفتار سست اور اثر محدود ہے۔ یہیں ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے کہ بیوروکریسی اور بزنس کمیونٹی کے درمیان فاصلہ۔ بیوروکریسی اپنی فطرت میں محتاط، قواعد کی پابند اور کنٹرول کی عادی ہوتی ہے۔ دوسری طرف کاروبار کی دنیا رفتار، رسک اور فوری فیصلوں پر چلتی ہے۔ جب یہ دونوں جہان ایک دوسرے کو سمجھے بغیر ساتھ چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج ہم دیکھ رہے ہیں: تاخیر، پیچیدگی اور بے اعتمادی۔ سادہ الفاظ میں، کاروبار کی نبض وہی سمجھ سکتا ہے جو خود اس دھڑکن کا حصہ ہو۔ معیشت فائلوں سے نہیں چلتی، میٹنگز سے نہیں دوڑتی۔ اس کے لیے میدان میں اترنا پڑتا ہے، بازار کی زبان سمجھنا اور کارخانے کی دھڑکن سننا پڑتی ہے۔ بدقسمتی سے، ایس آئی ایف سی ابھی تک زیادہ تر ایک ٹاپ ڈاو¿ن ماڈل کے طور پر کام کر رہا ہے جہاں فیصلے اوپر ہوتے ہیں، مگر نیچے تک پہنچتے پہنچتے ان کی تاثیر مدھم ہو جاتی ہے۔ ایک اور سنگین کمی، جو نظر انداز نہیں کی جا سکتی، وہ ہے نچلی سطح تک رسائی کا فقدان۔ پاکستان ایک متنوع معیشت ہے۔ ہر ضلع، ہر شہر، ہر علاقے میں الگ مواقع موجود ہیں۔ اگر ایس آئی ایف سی واقعی ایک سرمایہ کاری پلیٹ فارم ہے تو اسے اسلام آباد اور چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے تھا۔ اسے ڈویژنل اور ضلعی سطح تک اپنا نیٹ ورک پھیلانا چاہیے تھا، تاکہ مقامی صنعتکار، کاروباری افراد اور نوجوان اپنے خیالات اور منصوبے براہِ راست پیش کر سکیں۔ وہ چین والا قصہ آپ نے سنا ہی ہو گا، جہاں حکمرانوں نے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک کاروباری افراد کو رسائی دی، ان کی تجاویز سنیں اور فوری عملدرآمد کے احکامات جاری کیے۔ ترقی اسی طرح آتی ہے، فائلوں کے انبار سے نہیں۔
ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہر دور میں چند افلاطون پالیسی کے نام پر کاروباری برادری سے فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔ اگر کسی بزنس مین کو فوج کا جنرل بنا دیا جائے تو وہ جنگ نہیں لڑ سکتا تو پھر بیوروکریسی سے یہ توقع کیوں کہ وہ معیشت کو چلا لے گی؟ اگر واقعی کاروبار کو ترقی دینی ہے تو کاروباری طبقے کو محض سننا کافی نہیں، انہیں فیصلہ سازی میں شریک کرنا ہو گا۔ ان سے مسلسل مشاورت، رہنمائی اور اعتماد لینا ہو گا۔ ایس آئی ایف سی کے تناظر میں ایک اور اہم پہلو ہے: اوورسیز پاکستانی۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کے پاس سرمایہ بھی ہے، تجربہ بھی اور عالمی مارکیٹ کی سمجھ بھی۔ مگر افسوس کہ انہیں اس پلیٹ فارم کا مو¿ثر حصہ نہیں بنایا جا سکا۔ اگر ان کی شمولیت سنجیدگی سے یقینی بنائی جاتی، تو سرمایہ کاری کے دروازے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے تھے۔ دنیا کے کامیاب ماڈلز ہمیں ایک سادہ سبق دیتے ہیں: ترقی منصوبوں سے نہیں، عملدرآمد سے آتی ہے۔ چین کی مثال سامنے ہے، جہاں بیوروکریسی کو معاون بنایا گیا، حاکم نہیں۔ کاروباری طبقے کو رسائی دی گئی، رکاوٹ نہیں بنایا گیا اور فیصلوں کو فائلوں سے نکال کر عمل میں بدلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پسماندہ معیشت چند دہائیوں میں عالمی طاقت بن گئی۔ پاکستان بھی یہی کر سکتا ہے مگر اس کے لیے ذہنیت بدلنا ہو گی۔ ایس آئی ایف سی کو محض ایک اعلیٰ سطح فورم کے بجائے ایک متحرک، زمینی اور جوابدہ ادارہ بنانا ہو گا۔ ہر سطح پر اس کی موجودگی ہو، ہر فیصلے کا واضح وقت مقرر ہو اور ہر پالیسی کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ سب سے بڑھ کر، بزنس کمیونٹی کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ وہ اس ملک کے مستقبل کے معمار ہیں، محض ٹیکس دینے والی مشینیں نہیں۔ بات سادہ ہے مگر چبھتی ہوئی: پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، صلاحیت کی کمی نہیں۔ مسئلہ صرف نظام اور نیت کے درمیان عدم ہم آہنگی کا ہے۔ ایس آئی ایف سی ایک اچھا تصور ضرور ہے، مگر اگر اسے واقعی کامیاب بنانا ہے تو اسے بند کمروں سے نکل کر حقیقی معیشت کے بیچ آنا ہو گا۔ کیونکہ معیشت دفتری فائلوں میں نہیں چلتی وہ بازاروں میں دھڑکتی ہے، کارخانوں میں سانس لیتی ہے اور کھیتوں میں پروان چڑھتی ہے۔

ٹیگز: