عالمی سیاست اور معیشت کا باہمی تعلق ہمیشہ سے گہرا رہا ہے مگر جب یہ تعلق جنگی صورتحال سے جڑ جائے تو اس کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔ حالیہ (امریکہ–ایران) کشیدگی اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں تیل کی رسد کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایسے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایک ناگزیر حقیقت بن جاتا ہےجسے محض داخلی پالیسیوں کے ذریعے مکمل طور پر قابو میں رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
یہاں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے سے تیل کی ترسیل عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اس راستے سے گزرنے والا تیل سستا ہونا چاہیےمگر حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ جنگی خطرات، انشورنس اخراجات، بحری سکیورٹی، اور سپلائی چین میں خلل تیل کی قیمت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف جغرافیائی راستہ قیمتوں کا تعین نہیں کرتا بلکہ عالمی حالات اور خطرات اس میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ایسے نازک وقت میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف عالمی دبا¶ اور مہنگائی کا سامنا جبکہ دوسری طرف عوام کو ریلیف فراہم کرنا بہت نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومتی پالیسیوں کا امتحان ہوتا ہے۔ حالیہ فیصلوں کو دیکھا جائے تو حکومت نے نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں عارضی کمی کا اعلان کیا بلکہ ایک ماہ کے لیے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ یہ اقدام وقتی ضرور ہے مگر موجودہ حالات میں ایک اہم سہارا فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں پٹرول لیوی میں فوری طور پر 80 روپے کا اعلان ایک ایسا قدم ہے جس پر مختلف آراءسامنے آ سکتی ہیں۔ بظاہر یہ اضافہ عوام پر بوجھ محسوس ہو سکتا ہے لیکن اگر اسے وسیع تر مالیاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حکومتی آمدن کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہےجس کے بغیر سبسڈی پروگرامز کا تسلسل ممکن نہیں۔ دراصل حکومت کو ایک توازن قائم کرنا ہوتا ہے جہاں وہ ایک طرف محصولات بھی حاصل کرے اور دوسری جانب عوام کو ریلیف بھی دے۔حکومت کی جانب سے غریب اور متوسط طبقے کے لیے سبسڈی منصوبہ متعارف کروانا ایک مثبت پیش رفت ہے تاہم موجودہ معاشی حالات میں سب کو یکساں سبسڈی دینا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی پائیدار اور یہی وجہ ہے کہ ہدفی سبسڈی (Targeted Subsidy) کا تصور اپنایا جا رہا ہے تاکہ وسائل کا درست استعمال ہو اور وہی طبقہ مستفید ہو جو حقیقی معنوں میں ضرورت مند ہے۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتی ہے بلکہ سماجی انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرتی ہے۔
جنگی حالات میں معیشت کا دبا¶ بڑھنا ایک فطری امر ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی اخراجات میں اضافہ، اور کرنسی پر دبا¶، یہ سب عوامل مل کر داخلی مہنگائی کو بڑھاتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت مکمل سبسڈی دے تو مالیاتی خسارہ بے قابو ہو سکتا ہے جو طویل مدت میں معیشت کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس لیے یہ کہنا بجا ہے کہ“سب کو سبسڈی دینا ممکن نہیں”ایک حقیقت پسندانہ م¶قف ہے نہ کہ عوام سے بے اعتنائی۔اس ضمن میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حکومت صرف قیمتوں میں ردوبدل تک محدود نہیں بلکہ متبادل راستوں کی تلاش میں بھی مصروف ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، درآمدی حکمتِ عملی میں تنوع، اور علاقائی تعاون جیسے اقدامات مستقبل میں ایسے بحرانوں کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر ان اقدامات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تو پاکستان توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف بھی بڑھ سکتا ہے۔حالیہ فیصلوں کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت نے عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے فوری نوعیت کے ریلیف اقدامات کیے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی چاہے وقتی ہی کیوں نہ ہو مگر ایک نفسیاتی اور عملی ریلیف فراہم کرتی ہے جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔
تاہم اس تمام صورتحال میں عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ ہمیں یہ لازمی سمجھنا ہوگا کہ عالمی بحرانوں کے اثرات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں۔ صبر، ذمہ داری، اور وسائل کے محتاط استعمال کے ذریعے ہی ہم اس مشکل وقت سے نکل سکتے ہیں۔ توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری، متبادل ذرائع کی طرف رجحان، اور غیر ضروری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات اجتماعی سطح پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ضرور ہے مگر یہ حکومتی پالیسیوں کی سنجیدگی اور عوامی شعور کے امتحان کا بھی وقت ہے۔ حکومت کی جانب سے حتی الوسع سبسڈی اور ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں قابلِ قدر ہیں تاہم ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار عوامی تعاون اور مجموعی معاشی نظم و ضبط پر ہے۔ اگر یہی توازن برقرار رکھا جائے تو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے چیلنجز کا مقابلہ بھی زیادہ م¶ثر انداز میں کیا جا سکے گا۔