Wed, September 16, 2026

سفارتی محاذ پر پاکستان کا بڑا بریک تھرو: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان اہم رابطہ، ایران پر حملے معطل،دو ہفتے کی جنگ بندی 

سفارتی محاذ پر پاکستان کا بڑا بریک تھرو: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان اہم رابطہ، ایران پر حملے معطل،دو ہفتے کی جنگ بندی 


اسلام آباد،واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سائے چھٹ گئے؛ پاکستان کی متحرک سفارتکاری کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر متوقع 'تباہ کن حملوں' کا حکم واپس لیتے ہوئے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی تفصیلی مشاورت کے بعد انہوں نے ایران پر حملے معطل کرنے کی درخواست قبول کر لی ہے۔ صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ آج رات ایران پر ایک بڑا حملہ طے تھا، جسے پاکستانی قیادت کی مداخلت پر روک دیا گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے لیے بمباری اور ہر قسم کی عسکری کارروائی روک دی گئی ہے۔ایران نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم 'آبنائے ہرمز' کو فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے پہلی بار 'دی کنٹری آف ایران' کے بجائے 'اسلامی جمہوریہ ایران' کا سرکاری نام استعمال کیا، جسے ماہرین تناؤ میں کمی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں تہران کی جانب سے 10 نکات پر مشتمل ایک جامع تجویز موصول ہوئی ہے، جو مستقبل میں مستقل امن کے لیے ایک 'قابلِ عمل بنیاد' فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور اب وہ ایران کے ساتھ ایک تاریخی اور طویل مدتی معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین اس پیش رفت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی جیت قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مؤثر 'ثالث' کا کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔ دو ہفتوں کا یہ وقفہ اب اس ممکنہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا جو مشرق وسطیٰ میں استحکام کا ضامن بنے گا۔

ٹیگز: