ہمارے بھائی،دوست ،سینئر صحافی اور ملک کے معروف تجزیہ کار نصراللہ ملک نے تین دہائیوں سے زائد پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار،دیانتداری اور جرأت مندی کی وہ مثال قائم کی ہے جس پر بلا جھجک فخر کیا جا سکتا ہے۔۔۔حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ’’ تمغہ امتیاز‘‘ سے نوازا جانا ان کے اسی مسلسل اور شاندار سفر کا باقاعدہ اعتراف ہے اور یہ اعزاز مکمل طور پر میرٹ پر دیا گیا ہے۔۔۔بتیس سالہ صحافتی وابستگی خود ایک سند ہے کہ انہوں نے کس طرح اس شعبے کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقصد سمجھ کر اپنایا۔۔۔۔۔نصراللہ ملک نے ایک رپورٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر بتدریج ایسی منازل طے کیں جن تک پہنچنا ہر صحافی کا خواب ہوتا ہے۔۔۔ انہوں نے میدانِ صحافت میں ہر رنگ،ہر فیز کو قریب سے دیکھا، جانا اور سمجھا۔۔۔۔وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف خبریں دینے کا ہنر سیکھا بلکہ خبروں کے پیچھے چھپے محرکات اور اثرات کو بھی نہایت باریک بینی سے پرکھنے کی صلاحیت حاصل کی۔۔۔یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی شخصیت ایک رپورٹر سے بڑھ کر ایک تجزیہ کار،ایڈیٹر اور قومی سطح پر اثر رکھنے والے صحافی کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔۔۔اے آر وائے نیوز جیسے بڑے ادارے کی کور ٹیم میں بطور بیورو چیف پنجاب ان کی خدمات اور بعد ازاں مختلف چینلز میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ان کا کردار اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صحافت کے انتظامی و ادارتی پہلوؤں پر بھی گہری گرفت رکھتے ہیں۔۔۔۔انہوں نے نہ صرف خود سیکھا بلکہ اپنے کولیگز، نوجوان رپورٹر اور میڈیا سے وابستہ افراد کو سکھایا،سہارا دیا اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔۔۔۔ان کے تجزیے ہمیشہ مدلل،ٹھوس اور قومی و بین الاقوامی تناظر میں گہرائی رکھتے ہیں۔۔۔ ان کی صحافتی زندگی کی ابتدا ایک رپورٹر کے طور پر ہوئی تھی لیکن ان کی لگن،محنت اور پیشہ ورانہ مہارت نے انہیں نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک معروف شخصیت بنا دیا اور وہ آج پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپوں میں سے ایک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔۔۔۔نصراللہ ملک نے اپنی محنت سے خود کو مختلف چینلز پر نمایاں کرایا اور اپنے تجزیوں اور رپورٹنگ کی بدولت ایک خاص پہچان حاصل کی۔اے آر وائے نیوز پنجاب کے بیورو چیف کی حیثیت سے ان کی خدمات نے پورے صوبے میں صحافتی معیار کو بہتر بنایا اور انہوں نے ہمیشہ اپنے ادارے کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آزاد اور غیر جانبدار رپورٹنگ کو فروغ دیا۔ان کے کام کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے بین الاقوامی میڈیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔۔۔نصراللہ ملک کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں ہے کہ انہوں نے کئی نیوز چینلز پر کام کیا بلکہ ان کا کمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت کے اصولوں اور اخلاقیات کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ایک صحافی کے طور پر ان کی ہمیشہ کوشش رہی کہ وہ عوام کو صحیح معلومات فراہم کریں اور ان کے تجزیے کبھی تعصب یا جانبداری سے متاثر نہ ہوں۔ان کا تجزیہ ہمیشہ ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہوتا ہے،جو انہیں دیگر تجزیہ کاروں سے ممتاز کرتا ہے۔۔۔۔نصراللہ ملک کی شخصیت میں ایک اور خاص بات ان کی پختہ ذہانت اور بہادری ہے۔صحافت میں آنے والی مشکلات اور چیلنجز کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے اپنے کیریئر کو آگے بڑھایا۔خاص طور پر وہ تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے کی جانے والی کڑی تنقید کو بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں اور ان کا یہ مثبت رویہ ان کی مضبوط شخصیت کی نشاندہی کرتا ہے حالانکہ ان پر تنقید کی جاتی ہے مگر وہ کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے اور ہمیشہ اپنے تجزیوں کی وضاحت دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔۔۔۔نصراللہ ملک کی شخصیت میں ایک ایسا توازن ہے جو انہیں نہ صرف ایک کامیاب صحافی بلکہ ایک شفیق اور ہمدرد انسان کے طور پر بھی ممتاز کرتا ہے۔وہ اپنے کولیگز کے ساتھ ہمیشہ انتہائی احترام اور محبت کا سلوک کرتے اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ایک صحافی کے طور پر ان کی کامیابی کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زندگی میں بھی انسانیت کی خدمت کو اولین ترجیح دی ہے۔ان کی ہمدردی اور غم گساری نہ صرف ان کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کے لیے بلکہ صحافت کی دنیا میں کام کرنے والے ہر فرد کے لیے ایک مثال ہے۔نصراللہ ملک کی انسانیت اور ہمدردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ کبھی بھی صرف خود کو نہیں دیتے۔ان کا یہ طرز عمل ان کے اندر کی سچائی اور انسان دوستی کو ظاہر کرتا ہے،جو انہیں ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مہذب اور معتبر شخص بھی بناتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے ادارے کے بلکہ اپنے ساتھیوں اور جونیئرز کے لیے بھی ایک رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔۔۔وہ کسی مخصوص بیانیے کے اسیر نہیں بلکہ اپنی رائے میں آزاد اور خودمختار نظر آتے ہیں۔۔۔اگرچہ وہ نواز شریف کو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والا بڑاسیاسی لیڈر سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے کبھی آنکھیں بند کر کے کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کی حمایت نہیں کی۔۔۔ان کے ہاں تنقید کا پہلو ہمیشہ زندہ رہا ہے،چاہے وہ نواز شریف ہوں یا کوئی اور۔۔۔اسی طرح وہ عمران خان کو نئی نسل کے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہیں،جو ان کی رائے ہے اور اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور کیا بھی جاتا ہے لیکن ان کی نیت،دیانت اور اندازِ اظہار کبھی حدود سے باہر نہیں گیا۔۔۔۔۔۔ان کی رائے میں نواز شریف کو ملک کا سب سے بڑا لیڈر قرار دینا ایک ایسا موقف ہے جس سے بہت سے افراد اتفاق نہیں کرتے اور میرے سمیت کئی لوگ اس پر اختلاف رکھتے ہیں تاہم،ان کی شخصیت کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی رائے دلائل اور تجزیوں پر مبنی دیتے ہیں۔۔۔ان کے تجزیوں سے اختلاف کرنا بالکل جائز ہے اور ہم میں سے کئی افراد ان کے اس نظریے سے متفق نہیں ہیں۔ اسی طرح، عمران خان کے بارے میں ان کی رائے بھی ان کے تجزیے کا حصہ ہے،خاص طور پر جب وہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے اس ملک کی نئی نسل کو بگاڑ دیا ہے،اس پر بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ عمران خان کے حامی ان کے کردار اور پالیسیوں کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں لیکن اس تمام اختلافی بیان کے باوجود، یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے اختلافات کو ایک محترم اور مہذب طریقے سے پیش کریں۔نصراللہ ملک ایک تجربہ کار اور سینئر صحافی ہیں اور ان کی رائے چاہے ہمیں پسند ہو یا نہ ہو،ہم انہیں سوشل میڈیا یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔انہیں ماں بہن کی گالیاں دینا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ کسی بھی صحافی یا شخصیت کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کرنے کی غلط روایت کو فروغ دیتا ہے۔۔۔صحافت کا مقصد(صفحہ 4پر بقیہ نمبر1)
عوام کو حقائق اور مختلف نقطہ نظر فراہم کرنا ہوتا ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں۔۔۔نصراللہ ملک کو ان کے تجزیے اور رائے کے لئے تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن ان کی عزت اور مقام کو نقصان پہنچانا یا ذاتی حملے کرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ اختلافات کا اظہار ایک جمہوری معاشرے کی خوبصورتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔۔۔۔۔آخرکار،نصراللہ ملک یا کسی دوسرے فرد کی رائے سے اختلاف کرنے کا حق ہر کسی کو ہے مگر ہمیں اختلافات کو حدود میں رہ کر اور مہذب طریقے سے پیش کرنا چاہیے تاکہ ہم اپنی جمہوری اقدار اور صحافت کے اصولوں کا احترام کر سکیں۔۔۔افسوسناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ان جیسے صحافیوں کو صرف ان کی رائے کی بنیاد پر گالیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے،جو نہ صرف ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ہمارے سماجی و صحافتی زوال کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔۔۔سب کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ’’تمغہ امتیاز ‘‘جیسے قومی اعزاز صرف نام یا تعلق کی بنیاد پر نہیں ملتے۔۔۔ان کے پیچھے سالہا سال کی محنت،قربانیاں،اخلاقی استقامت اور عوامی خدمات کا ریکارڈ ہوتا ہے۔۔۔نصراللہ ملک کا تین دہائیوں پر محیط سفر،جس میں انہوں نے میدانِ صحافت میں درجنوں نشیب و فراز دیکھے،اس بات کا مستحق تھا کہ اسے قومی سطح پر تسلیم کیا جائے اور حکومت پاکستان نے یہی کیا۔۔۔۔آج جب سچ بولنا اور اصولوں پر قائم رہنا دن بہ دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے،نصراللہ ملک جیسے صحافیوں کا وجود ایک تازہ ہوا کے جھونکے جیسا ہے۔۔۔۔وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صحافت صرف مائیک تھامنے یا سکرین پر آنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ذمہ داری، ایک فرض اور ایک عہد ہے۔۔۔سچ کہنے، سچ دکھانے اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا۔۔۔۔۔