پنجاب کی وزیراطلاعات وثقافت عظمیٰ بخاری نے پیپلزپارٹی کے شرمیلافاروقی کو چیلنج کیا ہے کہ 17سالہ حکومت کے دوران ایسے 17منصوبوں کی نشاندہی کردے جن سے سندھ کے عوام کو فائدہ پہنچاہو یہ شرمیلافاروقی کو بلاواسطہ جبکہ درحقیقت سندھ میں سترہ سال سے قائم پیپلزپارٹی کی حکومت کو بالواسطہ چیلنج ہے عظمیٰ بخاری کے اس چیلنج کا جواب حاضر ہے۔
سترہ میں سے پہلامنصوبہ :سترہ سال سے ہرڈیڑھ دوماہ بعد دھابیجی پمپنگ سٹیشن کے پائپ ٹوٹنے کے نتیجے میں کراچی کے وسیع علاقے میں لاکھوں لوگوں کو پانی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن سندھ حکومت نے مبینہ طورپر اپنے ایم پی ایزکی سرپرستی میں واٹرٹینکرزکا زبردست انتظام کررکھا ہے جو فوراًسڑکوں پر آتے ہیں۔ تین ہزار ،پانچ ہزار اور دس ہزار روپے میں لوگوں کی پانی سے محرومی کا خاتمہ کردیتے ہیں ان ’’پاپی‘‘ پائپوں کی مرمت میں چارپانچ دن لگ جاتے ہیں لیکن واٹر ٹینکروں کے تیز رفتار انتظام کے باعث لوگ ایک لمحے کیلئے بھی پانی سے محروم نہیں رہتے۔
سترہ میں سے دوسرا منصوبہ: اندرون سندھ اور کراچی میں گھنٹوں بجلی کی بندش معمول ہے بالخصوص کراچی میں یہ کچھ زیادہ ہی ہے تین اکتوبر 2025ء کو گلشن حدید، سٹیل ٹاؤن سمیت بن قاسم ٹاؤن کے وسیع علاقے میںصبح ساڑھے دس بجے سے اگلی رات ایک بجکر سولہ منٹ تک بجلی کی ترسیل معطل رہی ہر ماہ تین چارمرتبہ ایسا ہوتا ہے روزانہ چھ ، سات، آٹھ گھنٹے بجلی کا تعطل معمول ہے کراچی کو بجلی واپڈا نہیں کراچی الیکٹرک کمپنی فراہم کرتی ہے جس پر وفاقی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اسے غلط طورپر سندھ حکومت کی نااہلی کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے حالانکہ یہ کراچی کے شہریوںکیلئے عوامی خیرخواہی کا منصوبہ ہے کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ جتنے گھنٹے بجلی کی ترسیل معطل رہے گی اتنے گھنٹے بجلی استعمال نہیں ہوگی اور جتنے گھنٹے استعمال نہیں ہوگی اتنے گھنٹوں کا بل نہیں آئے گا اس لیے دراصل یہ بجلی کے بلوںمیں ریلیف دینے کا عملی منصوبہ ہے۔
سترہ میں سے تیسرا منصوبہ: کراچی کے بہت سے علاقوںکی سڑکیں ابلتے سیوریج کے بدبودار پانی میں ڈوبی رہتی ہیں ایسے میں جرابوں سمیت جوتوں اور کپڑوں کو محفوظ رکھنا ناممکن ہے اس لئے ناگزیرضرورت کے بغیر مردحضرات گھروں سے نہیں نکلتے اندازہ کیا جائے شوہروں کا زیادہ سے زیادہ گھروں میں رہنا بیویوں کو کس قدر نہال کرسکتا ہے دوسرے اپنے کپڑے جوتے اورحلیہ خراب کرکے کوئی کسی کے گھرمہمان بن کرجانے سے بھی گریز کرے گا اس طرح خواتین خانہ کو مہمانوں کیلئے کھانے پلانے کی اضافی مشقت سے نجات ملی ہوئی ہے اس طرح یہ بینظیرخواتین سپورٹ پروگرام ہے۔
سترہ میں چوتھا منصوبہ: کراچی ایک مشینی معاشرہ بن چکا ہے ہرکوئی صبح سے رات تک کام کاج میں مصروف رہتا ہے کسی کے پاس ورزش کیلئے وقت نہیں ہے تاہم سندھ کی عوام دوست حکومت نے اس مقصد کیلئے پانی اور بجلی کی طویل بندشوں کی حکمت عملی اختیار ہے جس کے نتیجے میں ہرروز اخبارات اور ٹی وی چینلوں کی مقامی خبروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں مرد، خواتین اور بچے احتجاجی مظاہروں کے نام پر جواچھل، اچھل کر نعرے لگارہے ہوتے ہیں یہ دراصل ورزش کے تقاضے پورے ہورہے ہوتے ہیں چنانچہ یہ کراچی کے لوگوں کو صحت مند رکھنے کا منصوبہ ہے۔
سترہ میں سے پانچواں منصوبہ:یہ جو کراچی میں گندے پانی کے نکاس کے نالوں کی عدم صفائی کا شور مچایا جاتا ہے یہ نری غلط فہمی بلکہ نافہمی کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر نالوں کی صفائی کردی جائے تو یہ جوان پر رنگ برنگے شاپروں کی چادریں ڈھکی ہوتی ہیں وہ بھی برقرار نہیں رہیں گی حالانکہ ان شاپروں کی خوش رنگ چادروں کی وجہ سے نالے رنگ برنگی خوبصورت کہکشاہوں کا منظر پیش کرتے ہیں اور رات کو جب ان پر سٹریٹ لائٹس (اگر جلی ہوں) کی روشنی پڑتی ہے تو رنگین قوس وقزائیں جاگ اٹھتی ہیں اس طرح نالوں کی عدم صفائی سندھ حکومت کی نااہلی نہیں بلکہ کراچی کو خوش رنگ خوبصورت رکھنے کا منصوبہ ہے۔
سترہ میں سے چھٹا منصوبہ: یہ جوکراچی کے مختلف علاقوں میں بننے والی سڑکیں تین چارماہ میں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ دو، ڈھائی فٹ گہرے کھڈ پڑ جاتے ہیں ناسمجھ، نافہم لوگ اس پر ناک بھوں چڑہاتے ہیں مگر وہ اس ٹوٹ پھوٹ کی افادیت سے بالکل نابلد ہیں۔ ناحق اسے کرپشن سے جوڑتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ایک سابق کونسر نے خود مجھے جو بات بتائی اس سابق کونسلر کی سلامتی کیلئے اس کے نام یا شناخت کا اظہار نہیں کروں گا البتہ اس نے جو بتایا اس پر حلف دے سکتا ہوں سابق کونسلر کے بقول ایک روڈ کی تعمیر کیلئے ساٹھ لاکھ روپے کی منظوری ہوئی لیکن یہ سڑک صرف سولہ لاکھ میں تیار ہوگی، یونین کونسل کے چیئرمین نے کونسلر سے کہا کہ سڑک ساٹھ لاکھ میں تیار ہونے کی رپورٹ پر دستخط کردے کونسلر نے کہا یہ سڑک کیونکہ سولہ لاکھ میں تیار ہوئی ہے اس لیے وہ ساٹھ لاکھ کی رپورٹ پر دستخط نہیں کرے گا اصرار کے باوجود کونسلر کے انکار پر چیئرمین نے خود دستخط کرکے معاملہ نمٹا دیا یہ معاملہ اعلیٰ قیادت تک پہنچایا گیا اعلیٰ قیادت کی جانب سے کارروائی کے نتیجے میں یہ چیئرمین اگلے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طورپر دوبارہ اسی یونین کونسل کا چیئرمین منتخب ہوگیا میں نے مذکورہ کونسلر سے کہا بھائی صاحب چیئرمین کو دوبارہ چیئرمین بنانے کا اعزاز اس لئے دیا گیا کہ اس نے ساٹھ لاکھ میں بننے والی سڑک صرف سولہ لاکھ میں بنواکر چوالیس لاکھ کی زبردست بچت کرکے دکھائی ہے اب انصاف یہی ہے کہ اپنی اعلیٰ صلاحیت سے اتنی کثیر رقم بچانے والے چیئرمین کا حق ہے کہ اس رقم کو کہیں بھی اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرے یہ کرپشن کی حوصلہ افزائی نہیں بلکہ اعلیٰ صلاحیت کا سندھ حکومت کی جانب سے منصفانہ اعتراف ہے جہاں تک سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کا تعلق ہے یہ دراصل سندھ حکومت کا غیر مزدوروں کیلئے روزگار کا سلسلہ مسلسل جاری رکھنے کا منصوبہ ہے سڑک جتنی جلدی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگی غریب مزدوروں کے روزگار میں اتنی وسعت پیدا ہوگی ناسمجھو ، سڑکیں جلد ٹوٹنے پر اعتراض نہ کرو بلکہ سندھ حکومت کے غریب مزدور دوست منصوبے کی قدر کرو، بات یہاں تک پہنچی تھی کہ کالم کا دامن سمٹ گیا باقی گیارہ منصوبوں کی تفصیل آئندہ کالم میں ویسے عظمیٰ بخاری کو اپنے چیلنج کا جواب کافی حدتک مل گیا ہوگا۔