Wed, September 16, 2026

پاکستانی معیشت: بحران سے بحالی کی طرف سفر !

پاکستانی معیشت: بحران سے بحالی کی طرف سفر !

کچھ حلقوں کی تنقید سر آنکھوں پر تاہم پاکستان کی معیشت  اصلی اعدادوشمار کے مطابق بہرحال مسلسل بحالی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ متعدد اقدامات کے ذریعے استحکام واپس آ نے کے درپے  ہے۔ کئی اہم معاشی شماریاتی حقائق اس دعوے کی تائید کرتے ہیں کہ حالات رفتہ رفتہ معمول پر آ رہے ہیں، اور حکومت اس بات پر سراہا جانا چاہیے کہ 2022 کے سنگین حالات کا راستہ روک لیا گیا ہے!
برآمدات، جی ڈی پی نمو، صنعت اور کئی دیگر اقدامات بالآخر ایک مثبت رجحان اور امید کے کھلتے دریچے دکھا رہے ہیں، اگرچہ سارے معاملات و اقدامات ابھی تک ماضی کے عروج کو نہیں تھام پائے ، لیکن رجحان مثبت ہیں اگر اس فراست اور محنت کو برقرار رکھا جاتا ہے تو پاکستان ممکنہ طور پر ترقی کی اس راہ پر واپس آ جائے گا جس سے یہ کئی سالوں سے بھٹکا ہوا تھا بہرحال چوکنا رہنا اب بھی لازمی شرط ہے کیونکہ تسلی کا دامن تھام لینے سے قبل ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔  
جی ڈی پی پچھلے سال کے 2.5% سے بڑھ کر 3% ہو گئی ہے اور آئندہ مالی سال کے لیے 3.6 تا 4 % تک کا تخمینہ ہے ۔ماضی کے 23% سے کم ہو کر نو سال کا افراطِ زر کم ترین سطح 4.5% پر آ چکا ہے۔دوسری طرف شرح سود کا یہ عالم ہے کہ 22% سے نمایاں طور پر کم ہو کر 11% پر آ گئی ہے، جس سے لیکویڈیٹی (liquidity) اور قوت خرید کو بحال کرنے میں مدد ملنا تسلی کی دلیل ہے۔
بازگشت یہ بھی ہے کہ کاروباری سرگرمی اور کریڈٹ فلو کیساتھ ساتھ صارفین کے اعتماد کو بھی تقویت ملی ہے!
پاکستان ڈیفالٹ کی خوفناک صورتحال سے نکل کر ابتدائی بحالی کی شروعات سے لطف اندوز ہو رہا ہے گویا پائیدار نمو کی بنیاد رکھی جا چکی ہے۔ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے سیاسی استحکام، پالیسی کا تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط کا ایکوسسٹم درکار ہو گا۔ معاشی استحکام کیساتھ ساتھ واضح اصلاحات بھی ضروری ہیں تاکہ کامیابی کی اس کہانی کو ایک قابل رشک عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ قابل توجہ یہ بھی کہ بیرونی اور اندرونی اشاریے لچک اور بہتری کی متوازی علامتیں دکھا رہے ہیں جو معاشی تباہی کے خدشات کی نفی اور مثبت پیش رفت کا اظہار ہے۔
مالی سال 2025 میں، پاکستان نے 14 سالوں میں اپنا پہلا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.2 بلین امریکی ڈالر کا دیکھا۔۔۔ برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، درآمدی بل کنٹرول کیا گیا ہے اور ترسیلات زر (remittances) میں بھی صحت مند اور حوصلہ افزا اضافہ ہوا ہے۔۔۔ سال بہ سال 55% کی نمو کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر 14.5 بلین امریکی ڈالر پر کھڑے ہیں جس نے کرنسی کو مستحکم کرنے میں مدد کی ہے۔۔۔ مالیاتی استقامت کے ذریعے جی ڈی پی کا 2.4% کا ریکارڈ پرائمری سرپلس حاصل کیا گیا ہے جو گزشتہ 9 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔۔۔ قرضہ بہ جی ڈی پی (Debt to GDP) کا تناسب 75% سے کم کر کے 70% پر لایا گیا ہے۔۔۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک،ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور آئی ایف سی سے مسلسل تعاون پاکستان کی معاشی بحالی پر اعتماد ظاہر کرتا ہے۔۔۔ ٹیکس ڈیجیٹلائزیشن، ای-انوائسنگ، زرعی انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی پالیسی اور انتظامی افعال کو الگ کرنے جیسے اقدامات اپنی جگہ ایک اہم اصلاحات کی نشاندہی ہیں۔۔۔ میڈیم ٹرم قرضہ حکمت عملی (Medium-Term Debt Strategy) کے تحت، فعال ادائیگیوں کے ذریعے 3.5 کھرب روپے کا قرضہ ادا کیا گیا ہے۔۔۔  ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، صوبائی محصولات کی وصولی میں اضافہ اور مالیاتی نظم و ضبط کو پروگرام کے سائیکلوں کے دوران اور اس کے بعد بھی برقرار رکھنے پر توجہ کے ساتھ رفتار کو جاری رکھنے کی ضرورت کو بہرحال ذہن نشین رکھنا واجب ہے۔
ساختی اور صنعتی اصلاحات : جاری ساختی اصلاحات کئی سالوں میں پہلی ایسی سنجیدہ کوشش کی نمائندگی کرتی نظر آئی  ہیں جو پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر رہی ہے۔ توانائی کے اہم شعبے میں بہت سی اصلاحات نافذ کی گئی ہیں جیسے گورننس میں بہتری، تنظیم نو، آزاد ڈسکوز بورڈز کا قیام، آئی پی پی (IPP) معاہدوں پر دوبارہ بات چیت اور سسٹم کی نااہلیوں میں کمی شامل ہیں۔۔۔ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے، حال ہی میں ٹیرف (tariffs) کو 38 روپے سے کم کر کے 23 روپے فی یونٹ کیا جانا خوش آئند دکھائی دیتا ہے۔ جس میں تین سال کی قیمت کی یقین دہانی شامل ہے۔ اس سے ہماری صنعتوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت دوبارہ حاصل کرنے میں اہم مدد ملے گی۔۔۔ نجکاری (Privatization) کی سرگرمی جو کئی سالوں سے رکی ہوئی تھی، اب ازسرِنو شروع ہو گئی ہے، جس کی نشاندہی حال ہی میں فرسٹ ویمن بینک کو متحدہ عرب امارات کے ایک سرمایہ کار کے ذریعے حاصل کرنے سے ہوئی ہے۔ معلومات بتاتی ہیں کہ 24 مزید ایس او ایز (SOEs) نجکاری کے لیے اگلی لائن میں ہیں۔۔۔۔ سر دست یہ ناقابلِ ہضم لگتا ہے لیکن پینشن اصلاحات ایک اشتراکی نظام (contributory system) کی طرف منتقل ہو کر طویل مدتی مالیاتی بوجھ کو کم کرنے میں مدد کریں گی۔۔۔ تقریباً 177 ریگولیٹری اصلاحات نے سالانہ 300 ارب روپے کی تعمیلی لاگت (compliance costs) کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔۔۔ استحکام سے پیداواریت پر مبنی نمو کی طرف بڑھنے کی اہمیت اور عجلت کو محسوس کرتے ہوئے، اے آئی (AI)، ڈیجیٹل اور صنعتی ڈومینز میں بہت سی پالیسی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہی نہیں اس اصلاحاتی عمل کو اب تیز کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر بجلی کی تقسیم، ایس او ایز کی سرمایہ کشی، عدالتی کارکردگی، اور سرکاری شعبے کی ڈیجیٹلائزیشن کے شعبوں میں ایک سمت مقرر ہو چکی ہے۔ اب چیلنج یہ ہے کہ تیزی سے عمل درآمد کیا جائے اور اس رفتار کو بیوروکریٹک جمود اور تساہل پسندی عناصر سے بچایا جائے۔
شعبہ جاتی کارکردگی اور مارکیٹ کا جذبہ : ماہرین اس سے آشنا ہیں کہ شعبہ جاتی کارکردگی اور مارکیٹ کا جذبہ جاری معاشی بحالی کا عکاس ہے۔۔۔ مالی سال 25 میں، اشیا کی برآمدات میں 7%، سروسز میں 15%، اور آئی ٹی/ٹیک برآمدات میں 18% اضافہ ہوا۔۔۔ مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی (Q1) میں مجموعی برآمدات میں 8.2% اضافہ، فری لانس آئی ٹی آمدنی میں 71% اضافہ، اور ایل ایس ایم (LSM - بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ) میں 9% اضافہ دیکھا گیا، جو کم توانائی کی لاگت اور بحال شدہ کریڈٹ فلو کی وجہ سے ہوا۔۔۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) میں مالی سال 25 میں 60% اضافہ ہوا اور پہلی بار دس لاکھ سرمایہ کاروں کا ہندسہ عبور کیا۔۔۔ آئی سی ٹی (ICT) برآمدات کے تنوع اور نمو کے اہم ستونوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ اس شعبے نے مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں 953 ملین ڈالر کا آئی سی ٹی تجارتی فاضل (trade surplus) اور 1.06 بلین ڈالر کی ٹیک برآمدات پوسٹ کیں۔۔۔ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے لیے سب سے زیادہ امید افزا محاذ کی نمائندگی کرتی ہے۔ تاہم، اس اہم شعبے کی پوری صلاحیت کو حاصل کرنے کے لیے پیداواریت، صنعتی صلاحیت، لاجسٹکس، انسانی-سرمایہ اور پالیسی سپورٹ کے شعبوں میں ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
 اس کام کو مزید تجارتی سہولت کاری (trade facilitation)، مہارتوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے اپنانے کے ذریعے مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی اعتراف اور سرمایہ کاری: آخر کار پاکستان کی معاشی ترقی کو عالمی مالیاتی منڈیوں اور سٹریٹجک شراکت داروں نے نوٹس کیا اور تسلیم کیا ہے جس پر شادیانے بجانا بنتے ہیں۔۔۔ فچ (Fitch)، ایس اینڈ پی (S&P) اور موڈیز (Moody’s) نے 2025 میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز کو اپ گریڈ کیا ہے، جس کی وجہ زیادہ ذخائر، مالیاتی استحکام اور قابل اعتماد اصلاحاتی نفاذ کو قرار دیا ہے۔۔۔ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی اس پر توجہ دے رہے ہیں اور کاروباری مواقع کے لیے پاکستان واپس آ رہے ہیں۔۔۔ سعودی عرب اب ریفائنری اور کان کنی کے شعبوں میں اپنے وعدوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔۔۔  چین نے سی پیک-2  کے تحت معاہدوں میں 1.5 بلین ڈالر کا عزم کیا ہے۔۔۔ متحدہ عرب امارات (UAE) بینکنگ، بندرگاہوں اور سروسز میں اپنی کاروباری دلچسپیوں کو بڑھا رہا ہے۔۔۔ امریکہ نے معدنیات کی تلاش اور نکالنے کے لیے سٹریٹجک معاہدے کیے ہیں۔۔۔ مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام کے ذریعے شعبہ جاتی اصلاحات کے لیے ایک عوامی - نجی شراکت داری (public-private partnership) شروع کی جا رہی ہے۔۔۔ اب کم افراطِ زر اور شرح سود، فاضل بیرونی اکاؤنٹس ، تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیاں اور ذخائر جو تین ماہ کی درآمدی کوریج کے قریب پہنچ رہے ہیں، کے ساتھ پلیٹ فارم تیار ہے۔۔۔ لیکن ہم ابھی بھی منزل سے دور ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک ترقیاتی و تعمیراتی و ارتقائی رجحان پر ہیں لیکن سیاسی استحکام اور مسلسل پالیسی اصلاحات اور نفاذ کے ذریعے اس سمت کو برقرار رکھنے کی ایسے ضرورت ہے جیسے زندگی کو آکسیجن کی۔
 اگرچہ ہم حقیقی پیش رفت حاصل کرنے کے درپے ہیں اور اعتماد بھی نصیب کا حصہ ہوا ہے لیکن پاکستان کو ایک حقیقی معاشی طاقت بنانے کے لیے ہنوز دن دگنی رات چوگنی محنت کی ضرورت ہے، وہ محنت کہ جو فخر دے اور اعتماد بھی !

ٹیگز: