کچھ تاریخیں انسان کی زندگی میں جیسے امر ہو جاتی ہیں۔ جیسے سالگرہ تو آپ سب ہی مناتے ہوں گے؟ آپ کی زندگی سے جڑے چند انتہائی اہم رشتوں کی برسیاں بھی آتی ہی ہوں گی؟ یا آپ کے بچوں کی پیدائش کی تاریخ وغیرہ وغیرہ جس طرح افراد کے لیے کچھ تاریخیں غیر ضروری اہمیت کی حامل ہوتی ہیں بالکل ایسے ہی کچھ تاریخیں اقوام کے لیے یاد گاربن جایا کرتی ہے۔ اور آنے والی نسلیں ان تاریخوں پر ناز کیا کرتی ہیں۔ ہم سب نے بچپن سے "میرا پیارا وطن" مضمون یاد کر کے اس کے آخر میں وہ والا شعر کہ
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر۔۔۔۔۔۔ رٹ تو لیا تھا، کبھی اسے جی کے نہیں دیکھا تھا، آج ہم میں سے ہر ہر شخص بشرطِ حیات جب کبھی بوڑھا ہوگا اور اپنے پوتے پوتیوں کو مئی 2025 کا قصہ سنائے گا تو اس کے اختتام پہ جب وہ شعر کہا جائے گا تو کیا ہی لطف آجائے گا واہ واہ۔۔۔۔۔ تو چلیں پہلے کچھ امر تاریخوں کا تذکرہ کر لیتے ہیں پھر فقط ایک سال میں وطنّ عزیز کا بین الاقوامی تشخص جس تیزی سے پروان چڑھا اور جو سفارتکاری کے میدان میں پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ٹکی رہیں اس پہ بات کریں گے۔ تو خیر قصہ کچھ یوں ہوا کہ ہمارے ہمسائے کو لگا ہمارے گھریلو معاملات کچھ کشیدہ چل رہے ہیں، تو اگر وہ کچھ ڈرامہ رچ لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ تو اسی سلسلے میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کیا اور ہائی ہوئی مچا دی کہ لٹ گئے برباد ہو گئے۔ ادھر پاکستان نے کمال ضبط سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا اور ادھ±ر بالی و±ڈ کی پاکستان کے بخیے ادھیڑنے والی فلموں سے متاثر ہو کر بھارت نے کم ظرفوں کی طرح رات کی تاریکی میں "آپریشن سندور" لانچ کر دیا، ارے وہی آنکھیں دکھانا اور گھر میں گھر کر مارنے والی بڑھکی۔۔۔۔ لیکن یہاں چوک گئے۔۔۔۔ ایک غلطی تو ان سے یہ ہوئی کہ یہ اداروں اور عوام کے ناکشیدہ تعلقات کو کچھ اور سمجھ بیٹھے اور دوسرا انہوں نے پاکستانی فوجی دیکھے ہی اپنی فلموں میں تھے وہاں وہ ہتھیار ڈال دیتے تھے۔ خیر افواجِ پاکستان نے 12 مئی کو بعد از نمازِ فجر ساری دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "آپریشن بنیان مرصوص" کا آغاز کیا۔ جیسے کسی لڑائی میں ایک بھائی گھسے اور باقی بھائی زورِ بازو بن کے ساتھ آ کھڑے ہوں ویسے ہی آن کی آن میں عوام اپنے سپاہیوں کے ساتھ آ کھڑے ہوئے، کبھی بہت فرصت سے بیٹھ کر میزائل فائر ہوتے دیکھے گئے، کبھی ذاتی بندوق تھامے باوردی سپاہی کے کندھے سے کندھا ملا کر ڈرون گرائے گئے تو کبھی گلی کوچوں سے گزرتی افواج کی گاڑیوں پہ گلاب کی پتیوں کی بارشیں کر دی گئیں، اور نوجوان طبقے نے ایکس المعروف ٹوئٹر پہ جو ہندوستانی دعوو¿ں کے بت پاش پاش کیے اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ پوری قوم نے معرکہِ حق کو حقیقی معنوں میں "انجوائے" کیا پھر چاہے وہ رافیل گرنے پہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ہو یا ہر تازہ اپڈیٹ پہ میمز بنانے والے لوگ، سب کی شوخی کا عنصر دیدنی تھا۔۔۔ اب حالات ہو گئے خاصے دلچسپ ایک طرف تو گودی میڈیا انوراگ سنگھ سے سکرپٹ لے آیا، کبھی بھارتی سینا لاہور کی بندرگاہ پہ قبضہ کر لے تو کبھی نور خان ائیر بیس کو راکھ کا ڈھیر بنا دے، اور محاذ میں چھترول پہ چھترول کرائی جائے، رائیٹرز سی این این الجزیرہ اور بی بی سی جیسے غیر جانبدار اداروں نے کہا کہ بھئی پاکستان رافیل گرانے والا دنیا کا پہلا ملک ہے لیکن نا جی میں نہ مانوں میں نہ کھیلوں کے مصداق منہ پھلائے بیٹھا رہا، پھر جب تاریخی لتریشن ہوئی تو صلح کے لیے ہاتھ پیر مارنے لگا، جنگ بندی تو خیر ہوگئی لیکن پوری دنیا میں "پاکستان ہمیشہ زندہ باد" کے چرچے ہو گئے۔ کہاں "بگ اسٹک" پالیسی رکھنے والا امریکہ کہاں ٹرمپ ہمارے وزیرِ اعظم اور چیف کی مالا جپتے نہیں تھکتا۔
میں سکول کالج میں تقریری مقابلے کرتی تھی، پھر جب بہت کر لئے تو vision 2025 میں بطور جج بیٹھ گئی گویا آپ جب بہت زیادہ جیت جائیں تو پھر آپ دوسروں کی کار کردگی جج کیا کرتے ہیں یہ جو آج پاکستان ایران اور امریکہ/ اسرائیل کی جنگ بندی کرا رہا ہے اس کا کارن یہی ہے۔کہ اس شان سے جیتا ہے کہ دنیا دیکھتی رہ گئی، لعنت کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اپنا ہدف ڈھونڈ کر ملتی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں اسلام آباد دنیا بھر کی نظروں میں رہا، بین الاقوامی پریس نے لائیو کوریج کی کہ فلاں فلاں وفد نور خان ائیر بیس پہ اتر آیا، ادھر ہمسائی عوام نے لعنتوں کی ڈائریکشن اپنی سرکار کی جانب موڑ دی کہ جب وہ ائیر بیس ہی تم نے اڑا دی تھی اس پہ لوگ کیسے اتر رہے ہیں؟ یہ تو جی اوپر والے کے کھیل ہیں۔۔۔!!! بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارا زور آپ جناب والی فلمیں بنانے پہ نہیں ہوتا، ہماری عسکری قیادت لازوال تربیت کی حامی ہے، پھر ہم گھر میں بہن بھائیوں کی طرح لڑ لڑ کر ایک دوسرے کے بال بھلے نوچ لیں جب دشمن میلی نگاہ کرے گا تو یک جان ہو جائیں گے۔ اب یہ تاریخیں بھی امر ہی ہو گئی ہیں، ہر سال مئی کا مہینہ چڑھے گا ادھر صفِ ماتم بچھے گا ادھر شہنائی۔