واشنگٹن : امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن سمجھوتہ آئندہ چند دنوں میں ممکن ہے، تاہم اگر تہران نے آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کے حوالے سے تاخیر کی تو امریکا سخت ردعمل دیتے ہوئے مزید کارروائیاں کر سکتا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو ٹیلیفونک گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے جلد پیش رفت نہ دکھائی تو صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے اور نئے حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں رابطوں میں بہتری آئی ہے اور ایران امریکی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔
ان کے مطابق بات چیت مثبت سمت میں جاری ہے اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ دونوں ممالک کسی معاہدے تک پہنچ جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں ایسے عناصر سے رابطے جاری ہیں جو معاہدے کے حق میں ہیں، اور اب یہ فیصلہ تہران کو کرنا ہے کہ وہ ڈیل کو قبول کرتا ہے یا نہیں۔