Wed, September 16, 2026

امریکی صدر کا ہنگامی اقدام: اسرائیل کو 12 ہزار بموں کی فوری ترسیل، کانگریس خاموش تماشائی

امریکی صدر کا ہنگامی اقدام: اسرائیل کو 12 ہزار بموں کی فوری ترسیل، کانگریس خاموش تماشائی

واشنگٹن :ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل گہرے ہوتے ہی اسرائیل کے لیے بڑے عسکری پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 151.8 ملین ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کے لیے اپنے خصوصی صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کی منظوری کی شرط کو ختم کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے اسلحے میں 12 ہزار طاقتور بم شامل ہیں۔ ان بموں میں ایک ایک ہزار پونڈ وزنی بم بھی شامل ہیں جو اپنی تباہ کن صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ یہ اسلحہ کسی غیر ملکی گودام کے بجائے براہِ راست امریکی فوجی ذخائر اور ٹیکساس میں قائم دفاعی فیکٹری سے اسرائیل روانہ کیا جائے گا تاکہ وقت کی بچت کی جا سکے۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ قدم اس لیے اٹھایا تاکہ اسلحے کی فراہمی میں ہونے والی کسی بھی ممکنہ سیاسی یا قانونی تاخیر سے بچا جا سکے۔ امریکی قانون کے تحت صدر مخصوص حالات میں "ایمرجنسی" قرار دے کر کانگریس کی بحث کے بغیر دفاعی معاہدے مکمل کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔
اسلحے کی اتنی بڑی مقدار میں اچانک فراہمی نے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدام خطے میں اسرائیل کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

ٹیگز: