Wed, September 16, 2026

مودی خاموش کیوں؟ بی جے پی رہنماؤں کے ریپ کیسز پر کانگریس کا سوال

مودی خاموش کیوں؟ بی جے پی رہنماؤں کے ریپ کیسز پر کانگریس کا سوال

نئی دہلی : انڈین نیشنل کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے پوچھا ہے کہ "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" کا نعرہ لگانے والے مودی آخر اپنی پارٹی کے رہنماؤں پر لگنے والے ریپ اور جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات پر کیوں خاموش ہیں؟

کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی کے کئی لیڈروں پر ریپ اور ہراسانی کے الزامات ہیں، لیکن ان کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی کوئی مؤقف سامنے آیا۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی کے ایم ایل اے راج کشور کیسری پر 2010 میں ریپ کا الزام لگا، اس وقت نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اور انہوں نے ان کا دفاع کیا۔ اسی طرح ہریانہ کے سابق وزیر کھیل سندیپ سنگھ پر بھی الزامات لگے، مگر پارٹی نے کوئی قدم نہ اٹھایا۔

ڈاکٹر شمع نے مزید کہا کہ اولمپک میڈلسٹ کھلاڑیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والے برج بھوشن شرن سنگھ کو بھی بی جے پی نے تحفظ دیا۔
ان کا کہنا تھا: "یہ سب دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ بیٹیوں کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا ریپسٹ پارلیمنٹ میں بیٹھیں گے اور متاثرہ خواتین جیلوں میں ہوں گی؟"
انہوں نے بلقیس بانو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے ریپ کیا تھا، ان کی رہائی پر انہیں ہار پہنائی گئی اور بی جے پی نے انہیں اپنی الیکشن مہم میں بھی شامل کیا۔

منی پور میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی، اور شکایت کرنے والی گورنر کو ہی ہٹا دیا گیا۔ بہار کی صورتحال پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی۔ ڈاکٹر شمع کا کہنا تھا کہ ان تمام واقعات پر مودی کی خاموشی شرمناک ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ نعرے کچھ اور ہیں، عمل بالکل مختلف۔

ٹیگز: