Wed, September 16, 2026

دہشت گردی کے پیچھے چھپا بھیانک چہرہ ! 

دہشت گردی کے پیچھے چھپا بھیانک چہرہ ! 

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک مضبوط سٹریٹیجی پلان کا حصہ لگتی ہے۔ ملک دشمن طاقتوں نے ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کی ہے۔دہشت گردی کی ان وارداتوں کے ذریعے منظم انداز میں کئی ہدف پورے کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں سے ایک ہدف ترقی کی جانب سفر کرتے ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہے تو دوسری طرف عالمی سطح پر پاکستان کو غیر محفوظ ملک ڈکلیئر کرانے کی کوشش ہے جبکہ تیسرا اہم کام اپنے اصل ٹارگٹس کا خاتمہ ہے جو کہ 2018 سے جاری ہے۔ 
 پاکستان 29 سال بعد آئی سی سی کے کسی ایونٹ کی میزبانی کر رہا ہے جو بعض طاقتوں کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتی تھی۔ شاید اسی لیے چند سال سے پاکستان میں کھیلی جانے والی گریٹ گیم کو ان دنوں مزید تیز کیا گیا۔ پہلے 19 فروری کو بلوچستان کے علاقے بارکھان میں نامعلوم مسلح افراد نے مسافر بسوں کو روکا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 7 غیر بلوچ مزدوروں اور مسافروں کو شناخت کر کے قتل کر دیا۔ اس واقعے کے لگ بھگ 9 دن بعد رمضان المبارک کے آغاز سے قبل 28 فروری کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی مسجد میں مولانا حامد الحق حقانی کو خودکش دھماکے میں ٹارگٹ کر کے شہید کیا گیا۔ ابھی اس پر عالمی میڈیا میں رپورٹس شائع ہو رہی تھیں کہ 4 مارچ کو مسلح دہشت گردوں نے کوسٹل ہائی وے پر ناکہ لگاکر گاڑیوں کو روکا اور ایک درجن سے زائد گیس باوزر جلا دیئے۔ دہشت گردی کی ان وارداتوں کو "سافٹ ٹارگٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی کارروائیاں ہیں جو فوراً ملکی و غیر ملکی میڈیا کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں لیکن ان وارداتوں کے دوران مزاحمت یا مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مسافر بسوں ، شاہراہوں اور مساجد پر حملے نسبتاً آسان ہوتے ہیں۔ 
دہشت گردی کی اس حالیہ لہر میں کن طاقتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اس کا اندازہ دارلعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم اور جمعیت علمائے اسلام(سمیع الحق گروپ) کے سربراہ مولانا حامدالحق کی شہادت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ دارلعلوم حقانیہ کو عالمی میڈیا کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتا کیونکہ افغان طالبان کی قیادت میں شامل کئی اہم نام اس ادارے سے دینی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ دولتِ اسلامیہ یا داعش کی افغانستان اور پاکستان کے لیے قائم شاخ داعش خراساں کی کارروائی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف ہے اور افغان طالبان رہنماو¿ں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ افغان امور کے حامی تجزیہ کار بخوبی جانتے ہیں کہ طالبان حکومت کا مخالف کونسا ملک رہا ہے۔ مولانا حامد الحق کو خودکش حملہ میں ٹارگٹ کرنے کا ایک سرا ان کے والد کے قتل سے بھی ملتا ہے۔اس سے قبل ان کے والد مولانا سمیع الحق کو بھی 2018 میں راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ 
برطانوی میڈیا کے معروف ادارے 'دی گارڈین' نے 2024 میں بھارت اور پاکستان دونوں ممالک کی انٹیلیجنس کے حوالے سے ایک تفتیشی رپورٹ شائع کی تھی جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپنگ سیلز کی جانب سے پاکستان میں ایسے ٹارگٹ کا بتایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے غیر ملکی سرزمین پر رہنے والے اپنے مخالفین کو ختم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی اپنا رکھی ہے جس کے تحت اب تک متعدد پاکستانی شہریوں کو قتل کیا گیا۔ مولانا سمیع الحق کو 2018 میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کیا گیا جبکہ رپورٹ کے مطابق بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے 2019 سے 2024 تک 20 افراد کو پاکستان میں قتل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں بھارتی انٹیلیجنس کی سلیپر سیلز نے انجام دیں۔ ان سلیپر سیلز نے مبینہ طور پر مقامی مجرموں کو قتل کرنے کے لیے لاکھوں روپے ادا کیے۔ بھارتی ایجنٹوں نے مبینہ طور پر قتل کرنے کے لیے جہادیوں کو بھی بھرتی کیا اور انہیں یہ باور کرایا کہ جیسے وہ ''کافروں '' کو مار رہے ہیں۔ ایک آفیسر نے گارڈین کو بتایا کہ اس سلسلے میں بھارت کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد اور روسی انٹیلیجنس ایجنسی کے جی بی سے رغبت حاصل ہوئی، جو ماورائے عدالت قتل کے لیے معروف رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قتل کی نگرانی کرنے والے را کے ہینڈلرز کی میٹنگز نیپال، مالدیپ اور ماریشس میں بھی ہوئیں۔ اس بارے میں یہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان میں قتل عام کرنے والے بھارتی ایجنٹوں کی یہ پالیسی راتوں رات تیار نہیں کی گئی بلکہ ان قاتل سلیپر سیلز کو قائم کرنے کے لیے تقریباً دو برس 
تک کام کیا گیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور ڈیتھ سکواڈ کی اس پالیسی کی نشاندہی دیگر ممالک بھی کر چکے ہیں۔ بھارت پر الزام ہے کہ خالصتان تحریک کے سابق سکھ راہنماو¿ں کو بھی اسی طرح چن چن کر دنیا بھر میں ٹارگٹ کیا گیا۔ امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک بھی بھارت پر غیر ملکی سرزمین پر ہدف بنا کر قتل کرنے کی کوششوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا چکے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ خالصتانی علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی حکام کے ملوث ہونے کے ''معتبر ثبوت'' ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے سکھوں کو قتل کیا گیا جو ماضی میں خالصتان تحریک کے حوالے سے متحرک رہے تھے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ خالصتان تحریک کے سکھ راہنماو¿ں کی طرح اسی عرصہ میں ان کشمیری حریت پسندوں کو بھی ایک ہی انداز میں قتل کیا گیا جو ماضی میں کشمیر کے حوالے سے متحرک رہے تھے۔ اس سلسلے میں 20 فروری 2023 کو راولپنڈی میں 60 سالہ بشیر احمد کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کیا جس کے بعد اسی انداز میں 26 فروری 2023 کو کراچی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے 55 سالہ خالد رضا کو قتل کیا گیا۔ اس سے ایک سال قبل اسی انداز میں مارچ 2022 کو کراچی میں مستری زاہد ابراہیم کو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے قتل کیا تھا۔ ایسے ہی انداز میں مزید کئی افراد قتل کیے گئے جو ماضی میں کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ متحرک رہے تھے۔ خالصتان تحریک اور ماضی کے کشمیری حریت پسندوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد خطے میں ان اہم افراد کو بھی قتل کیا جا رہا ہے جو افغان وار میں کسی بھی طرح اہمیت کے حامل رہے ہیں اور طالبان حکومت کو پاکستان کے حق میں ہموار کر سکتے ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو افغانستان میں پاکستان کا اثر و رسوخ یا اہمیت بڑھا سکتی تھیں۔ مولانا سمیع الحق اس حوالے سے انتہائی اہم راہنما تھے جو ہمیشہ پاکستان کے حق میں رہے۔ ان کے قتل کے بعد ان کے صاحب زادے مولانا حامد الحق حقانی بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ پاکستان کے حامی ایسے ہی بااثر مذہبی راہنماو¿ں میں مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں جنہیں سکیورٹی ادارے کئی بار سکیورٹی تھریڈ سے آگاہ کر چکے ہیں اور ان پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔ اگر ہم ان تمام واقعات کو ایک فریم میں دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ خالصتان اور کشمیر کے بعد اب افغان وار میں اہمیت کے حامل پرو پاکستانی شخصیات بھی ٹارگٹ کلنگ کی زد میں ہیں اور ان سب کے قتل کے ڈانڈے ایک ہی جگہ ملتے نظر آتے ہیں۔

ٹیگز: