سیاست جدوجہد اور خدمت کا نام ہے لیکن بد قسمتی ہے ایک مخصوص طبقے نے سیاست کو پروپیگنڈے اور پگڑیاں اچھالنے کا نام دے دیا ہے۔ سیاسی لوگ وضع دار ہوتے ہیں ایک دوسرے کی عزت نفس مجروح نہیں کرتے بلکہ تنقید برائے اصلاح کی سیاست کرتے ہیں۔سیاسی لوگ مشکل وقت آنے پر پارٹی قیادت کو تنہا نہیں چھوڑتے بلکہ چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔سیاسی لیڈروں پر ہمیشہ سے ہی مشکل وقت آتے رہے ہیں اس مشکل وقت میں جو سنبھل گیا اسی کی کشتی پار ہوتی ہے اور جو لڑکھڑا گیا اس کی کشتی ڈوب جاتی ہے۔ سیاست دلیروں کا کام ہے بزدلوں کا نہیں۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) پر بہت مشکل وقت تھا جیسا مشکل وقت مشرف دور میں مسلم لیگ نون نے دیکھا تھا۔ اس مشکل وقت میںسوائے چند ایک کے ہر شخص پہلے سے زیادہ مضبوط ارادوں کے ساتھ نواز شریف کے ساتھ جڑا رہا۔ مسلم لیگ نون ایک نظریہ تھی اور سیاسی جماعت ہے جس کی جڑیں گراونڈ لیول پر تھی اس لیے اسکو نہ توڑا جاسکا نہ ختم کیا جاسکا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں مسلم لیگ نون کی لیڈرشپ سے عام کارکنوں تک نے مشکلات اور سختیاں برداشت کیں۔ ایسے وقت میں مریم نواز نے اپنی پارٹی کو بند گلی سے نکالا اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا۔جو لوگ مریم نواز کو کمزور خاتون سمجھتے تھے ان کو دباﺅ میں لانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے گئے لیکن مریم نواز نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے والد کی کمزوری بننے کی بجائے ان کا مضبوط سہارا بنی۔ مریم نواز نے تحریک انصاف کے دور حکومت میں دو مرتبہ بے گناہ جیل کاٹی استحقاق رکھنے کے باوجود بھی جیل میں بی کلاس کی سہولیات نہیں لیں بلکہ عام قیدیوں والی جیل کاٹی۔ کسی لمحے بھی وزیراعظم کی بیٹی ہونے کا فائدہ نہیں اٹھایا اور نہ ہی دباﺅ میں آئی۔ مریم نواز کے خلاف 2014 سے گھٹیا قسم کی کردار کشی پر مبنی مہم چلائی گئی جو آج کے دن تک بھی جاری ہے۔ان سب چیزوں نے مریم نواز کو کمزور کرنے کی بجائے مزید مضبوط بنائے اور وہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ میدان عمل میں نظر آتی رہی۔ مریم نواز کی پنجاب میں حکومت کو دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے انہوں نے بطور وزیراعلی پنجاب میں جو کام کیے کیے ہیں وہ کوئی بھی مرد وزیراعلیٰ نہیں کر سکا۔پنجاب میں تجاوزات کا خاتمے کےلیے پیرا فورس کا قیام اور جرائم پیشہ افراد، بدمعاشوں اورمنشیات فروشوں کے علاج کے لیے سی سی ڈی جیسے ادارے کا قیام ان کی حکومت کے نمایاں کارنامے ہیں۔ آج آپ کو کہیں بھی بدمعاش دندناتے نظر نہیں آرہے منشیات فروش اور جرائم پیشہ افراد بھی مساجد میں دعائیں مانگتے نظر آئے ہیں۔ یہ ایک خاتون وزیراعلیٰ کی سب سے بڑی کامیابی ہے جنہوں نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر ایک عہد کیا کہ کوئی بھی کسی کی ماں، بہن اور بیٹی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی کی بڑی وجہ بھی مریم نواز کا یہ اقدام ہے۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ مریم نواز پنجاب جیسے بڑے صوبے کو نہیں چلا سکتی مریم نواز نے ان کی اس غلط فہمی کودور کر دیا۔ آج مریم نواز کی حکومت کے منصوبوں کو دوسرے صوبے کاپی کر رہے ہیں اور ان کے طرز حکومت کو فالو کر رہے ہیں۔یہی ان کی حکومت کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ مشرف دور میں مسلم لیگ نون پر کٹھن وقت آیا تو بیگم کلثوم نواز نے مسلم لیگ نون کی باگ دوڑ سنبھالی اور پارٹی کو بند گلی سے نکالا۔ایسے ہی تحریک انصاف کے دور حکومت میں آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ نون پر مشکل وقت آیا تو کچھ لوگ خاموش ہو گئے اورخوف سے گھر وںمیں بیٹھ گئے۔ ایسے وقت میں میاں نواز شریف نے پارٹی کے وفادار اور مخلص دوست شاہ غلام قادر کو آزاد کشمیر میں پارٹی کا صدر بنایا ، شاہ غلام قادر نے مسلسل مہم چلا کرپورے آزاد کشمیر میں دوبارہ مسلم لیگ نون کو ایک نئی عوامی طاقت دی۔ آج آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون دوبارہ جس عوامی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے اس میں شاہ غلام قادر کا مرکزی رول ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے پارٹی الیکشن کی تیاریاں کر رہی ہے۔ میاں نواز شریف کا واضح موقف ہے مشکل وقت میں پارٹی کو چھوڑنے والے کی اب دوبارہ پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں ہے اور جو لوگ برے حالات میں بھی پارٹی کے ساتھ جڑے رہے انکو ترجیح دی جائے گی۔شاہ غلام قادر کی جدوجہد اور پارٹی کے ساتھ ایک طویل وفاداری کو مد نظر رکھا جائے تو میاں نواز شریف کو چاہیے کہ ان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کریں۔آزاد کشمیر میں پارٹی کے لوگوں اور کارکنوں کا بھی یہی مطالبہ سامنے آرہا ہے۔ پارٹی کے مخلص کارکن کو اگر وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا جائے گا تو عام کارکنوں میں بھی حوصلہ بڑھے گا اور پارٹی کا امیجن بھی مزید بہتر ہوگا۔ مریم نواز کی صحت سے متعلق گزشتہ دنوں ایک خبر آئی کہ ان کی میجر سرجری ہوئی ہے۔ مریم نواز کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کو صحت دے تاکہ وہ جلد از جلد دوبارہ اپنا آفس جوائن کریں اور پنجاب کے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھیں۔