پاکستان کی معیشت اس وقت ایک ایسے مریض کی مانند ہے جو ابھی مکمل طور پر صحت یاب بھی نہیں ہوا اور اسے ایک نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مہنگائی، قرضوں کا بوجھ اور تجارتی خسارہ جیسے مسائل تو موجود ہی تھے لیکن اب یہ خبربھی سامنے آ رہی ہے کہ پاکستان کو ان ممالک کی کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے کہ جنہیں امریکہ کی طرف سے جبری مشقت کے خلاف قوانین کے مو¿ثر نفاذ میں مبینہ ناکامی پر 10 فیصد تک اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ یہ معاملہ ابھی صرف تجویز کے مرحلے میں ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے پاکستانی برآمد کنندگان اور معاشی حلقوں بالخصوص سٹاک مارکیٹ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ کیونکہ دنیا کی ایک بڑی معیشت کی جانب سے آنے والی ایسی کسی بھی بات کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی دفتر برائے تجارتی نمائندہ یعنی یو ایس ٹی آر کی جانب سے 60 معیشتوں کے بارے میں مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہاں جبری مشقت کے خلاف قانونی اور انتظامی ڈھانچہ موجود ہے لیکن اس کا نفاذ مطلوبہ حد تک مو¿ثر نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو ممکنہ طور پر اضافی تجارتی ڈیوٹیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی ادارہ کی جانب سے دی گئی تجویز اپنی جگہ پر لیکن یہاں سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹیرف نافذ ہو جاتا ہے تو پاکستان پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس کا پہلا اور سب سے بڑا اثر ہماری برآمدات پر پڑے گا۔ امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات، ملبوسات، تولیے، بیڈ شیٹس، کھیلوں کا سامان، جراحی آلات اور چمڑے کی مصنوعات بڑی مقدار میں امریکی مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں۔ اگر ان مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد ہو جاتا ہے تو پاکستانی اشیا امریکی خریداروں کے لیے نسبتاً مہنگی ہو جائیں گی اور اگر پاکستانی مصنوعات مہنگی ہوں گی تو امریکی درآمد کنندگان بنگلہ دیش، ویتنام، بھارت، ترکی یا کسی اور ملک سے سامان خریدنے پر غور کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں پاکستان کی برآمدات متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسرا بڑا اثر روزگار پر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کی برآمدی صنعتوں سے لاکھوں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اگر برآمدی آرڈرز میں کمی آتی ہے تو فیکٹریوں کی پیداوار متاثر ہو گی، نئی سرمایہ کاری رکے گی اور بعض ادارے تو افرادی قوت کم کرنے پر مجبور بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک اثر پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر پڑ سکتا ہے۔ آج دنیا میں تجارت صرف قیمت کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ کاروباری اخلاقیات، مزدوروں کے حقوق اور سپلائی چین کی شفافیت کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کو کسی بین الاقوامی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ماضی میں بھی اسے مختلف قسم کے تجارتی، مالیاتی اور سفارتی دباو¿ کا سامنا رہا ہے۔ کئی مواقع پر پاکستان نے اصلاحات کے ذریعے مسائل سے نکلنے کی کوشش کی اور کامیاب بھی رہا۔ اس لیے اس معاملے کو صرف خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا نا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان اپنے لیبر قوانین اور ان کے نفاذ کو بہتر بناتا ہے تو اس کا فائدہ صرف امریکہ کو مطمئن کرنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خود پاکستان کو بھی پہنچے گا۔
ہماری حکومت کو امریکہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ فوری سفارتی رابطے بڑھانے چاہئیں۔ پاکستان کو اپنے مو¿قف، اپنی اصلاحات اور اپنے اقدامات کو مو¿ثر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ صرف بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ اعداد و شمار اور عملی شواہد کے ساتھ دنیا کو قائل کرنا ہوگا۔ دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مزدوروں کے حقوق کے نفاذ کے نظام کو جدید بنائیں۔ آج دنیا ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کی طرف جا رہی ہے۔ فیکٹریوں کی رجسٹریشن، مزدوروں کا ریکارڈ اور لیبر انسپیکشن کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ تیسری تجویز یہ ہے کہ پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں کا دائرہ وسیع کرے۔ ہمیں مشرق وسطیٰ، افریقہ، وسط ایشیا اور مشرق بعید کی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھانی چاہیے۔ اگر برآمدات مختلف خطوں میں پھیل جائیں تو کسی ایک ملک کی پالیسی سے ہونے والا نقصان محدود ہو سکتا ہے۔ چوتھی تجویز یہ ہے کہ پاکستان صرف خام یا کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ دے۔ جب کسی ملک کی مصنوعات منفرد اور اعلیٰ معیار کی ہوں تو خریدار صرف قیمت نہیں دیکھتا بلکہ معیار کو بھی ترجیح دیتا ہے۔ اس طرح اضافی ٹیرف کا اثر نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔ پانچویں اور شاید سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ ہم مزدوروں کو بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ سمجھیں۔ ایک خوشحال، محفوظ اور باوقار مزدور دراصل زیادہ پیداواری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کارکن مطمئن ہوں گے تو صنعت بھی بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
بلاشبہ کاروباری برادری کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ صنعتکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی فیکٹریوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کریں۔ اکثر ہم بیرونی دنیا کی تنقید کو سازش قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یقیناً بین الاقوامی سیاست میں مفادات بھی ہوتے ہیں اور طاقتور ممالک اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرتے ہیں، لیکن اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ ہمارے اندر کمزوریاں واقعی موجود ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایک قومی ایکشن پلان تشکیل دے جس میں خزانہ، تجارت، خارجہ اور صنعت کی وزارتیں،تمام صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں۔ یہ ٹیم نہ صرف موجودہ خطرے کا جائزہ لے بلکہ آئندہ بھی اس قسم کے مسائل سے بچنے کے لیے حکمت عملی مرتب کرے۔
اسی طرح پارلیمنٹ کو بھی اس معاملے پر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے کیونکہ یہ صرف ایک تجارتی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا معاملہ ہے۔ اگر آج ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو کل ہمیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی معیشت میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو وقت کے اشاروں کو سمجھ لیتے ہیں۔ امریکی ٹیرف فی الحال صرف ایک تجویز ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔ لیکن سمجھدار قومیں خطرے کے دروازے پر دستک دینے کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ اس کی آہٹ سن کر تیاری شروع کر دیتی ہیں۔ پاکستان کو بھی کچھ ایسا ہی کرنا ہو گا کیونکہ یہی سب کے مفاد میں ہے۔