Wed, September 16, 2026

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے.... !

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے.... !

بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئیر رہنما اور سابق وزیرِ قانون سبرا مینن سوامی نے ایک براڈ کاسٹ کے دوران پاکستان کے ہاتھوں پانچ بھارتی طیاروں کے تباہ ہونے کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ مودی کو چاہیے کہ وہ قوم کو سچ بتائے۔ سبرا مینن سوامی کا نے یہ بھی کہا کہ فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے پاکستان کے زیرِ استعمال چینی طیاروں کے مقابلے میں کم تر کارکردگی کے حامل ثابت ہوئے ہیں اور بھارت کی طرف سے رافیل طیاروں کی خریداری میں کرپشن ہوئی جس کی مودی کے ہوتے ہوئے تحقیقات نہیں کی جا سکتیں۔ سبرا مینن سوامی کے اس اعترافی بیان سے بھارتی حکومت پر حقائق چھپانے کی بنا پر تنقید میں اضافہ ہوا تو اسی دوران پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے طیارے گرائے جانے کا ایک اور مستند اعتراف سامنے آ گیا۔ یہ بھارت کی مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کا بیان ہے جو جنرل صاحب نے سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ کے موقع پر امریکی ٹی وی بلوم برگ کو انٹرویو کے دوران دیا۔ بلوم برگ سے انٹرویو اور اسکے بعد خبر رساں ایجنسی رائیٹر کو دئیے گئے انٹرویو کے دوران بھارتی طیارے گرائے جانے کے سوال کے جواب میں جنرل انیل چوہان نے ارشاد فرمایا کہ طیارے گرائے گے اہم بات نہیں ، اہم بات یہ ہے کہ وہ کیوں گرائے گے۔بھارت کی ان دو انتہائی اہم ، باخبر اور مقتدر شخصیات کے ان اعترافی بیانات کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارتی طیارے تباہ ہوئے ہیں کے بعد کیا کسی اور ثبوت کی ضرورت رہ جاتی ہے جس سے پتہ چلے کہ واقعی بھارت کا یہ نقصان ہوا ہے۔ پاکستان نے تو 6 اور 7 مئی کی رات کو جب بھارت اپنی فضائیہ کے7 سکوارڈن (تقریباً80 طیارے ) فضا میں لے آیا تھا اور اُس نے پاکستان کے 8 مقامات پر سویلین آبادی کو نشانہ بنایا تھا اور 3 مساجد بھی شہید کی تھیں اپنے طیاروں کے ہاتھ بھارت کے 6 طیاروں جن میں4 فرانسیسی ساختہ جدید ترین رافیل طیارے شامل تھے کو تباہ کرنے کا دعویٰ ہی نہیں کر دیا تھا بلکہ اس کے شواہد اور حقائق بھی دنیا کے سامنے پیش کر دئیے تھے۔بھارت انتہائی ڈھٹائی سے پاکستان کے اس دعوے کو رد کرتا رہا لیکن 9 مئی کو اُس کی فضائیہ کے ڈی جی آپریشنز کو بھارتی طیاروں کی تباہی کے بارے میں سوال کے جواب میں یہ کہہ کر اپنے طیاروں کی تباہی کو تسلیم کرنا پڑا کہ نقصانات لڑائی کا حصہ ہوتے ہیں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا کہ ایسا کرنے سے فریقِ مخالف کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اب بھارتی حکمران جماعت جنتا پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیرِ قانون سبرا مینن سوامی نے پاکستان کے ہاتھوں 5 بھارتی طیاروں کی تباہی کو تسلیم کیا ہے اور اُس کے ساتھ بھارتی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عہدیدار چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے بھی بھارتی طیاروں کی تباہی کو یہ کہہ کر بالواسطہ طور پر مانا ہے کہ طیارے گرانا زیادہ اہم نہیں ، زیادہ اہم یہ ہے کہ طیارے کیوں گرے تو ان اعترافات کو جادو بلکہ سچ وہ جو سر پر چڑھ کر بولے کے ہی مترادف قراردیا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان کا نشانہ بنانے کے لیے ننگی جارحیت پر تیار ہوا، اُس کا وزیرِ اعظم نریندر مودی انتہائی نخوت ، غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں دینے لگا۔ بھارتی میڈیا جسے گودی میڈیا کے لقب سے پکارا جاتا ہے وہ بھارتی حکمرانوں کی ہمنوائی میں ساری حدیں پھلانگتے ہوئے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے اور جھوٹ کے طومار باندھنے لگا۔ اس طرح پورے بھارت میں ایک ہجان خیز جنگی فضا پروان چڑھی جس کے جلو میںبھارت 6 اور 7 مئی کی رات کو اپنے سات سکوارڈن کے کم ازکم 80 جنگی طیارے جن میں جدید ترین فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے فضا میں لے آیا۔ بھارت نے ان طیاروں کے ذریعے میزائل برسا کر پاکستان میں 7 مقامات جن میں بہاولپور، مریدکے، مظفر آباد اور کوٹلی کی مساجد بھی شامل تھیں تو ان کے ساتھ باغ اور سیالکوٹ میں شکر گڑھ اور کوٹلی لوہاراں کے کچھ مقامات بھی شامل تھے ان کو اپنا نشانہ بنایا جس سے کم از کم 31 بے گناہ شہری جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل تھیں شہید ہوئے تو 56 افراد زخمی بھی ہوئے۔ پاکستان بھی اس رات جوابی کاروائی کرتے ہوئے اپنے تین سکوارڈن تقریباً40طیارے فضا میں لے آیا پھر کیا تھا یہ پاکستانی اور بھارتی طیاروں کی کارکردگی کے ساتھ دونوں طرف کے ہوابازوں کی ہمت، حوصلے، دلیری، جانبازی، مہارت ، چابکدستی، مستعدی اور اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا امتحان تھا۔ اللہ کریم کا کرم، اُس کی نصرت اور اُس کی تائید کے پاکستانی شاہین اور جانباز سرخرو رہے اور بھارتی ہوابازوں پر اُن کی سبقت ، فوقیت اور برتری سامنے آئی۔ بھارتی طیارے جو اپنی فضائی حدود کے اندر دور فاصلے پر تھے اور نظر بھی نہیں آ رہے تھے پاکستانی شاہینوں نے انہیں اپنے طیاروں میں نصب ریڈار سسٹم، زمینی ریڈار سسٹم اور ائیر ڈیفنس کی مدد اور رہنمائی سے اس طرح اپنے ہدف (Target )کے طور پر اپنے حصار میں لیا کہ اُن کے لیے پاکستانی طیاروں سے داغے گے میزائلوں سے بچ کر جانا ممکن ہی نہ رہا۔ اس طرح 6 بھارتی طیارے اور 1 ڈرون ایسے نشانہ بنے کہ چشم زدن میں طیارے شعلوں کی لپیٹ میں آ کر زمین پر آن گرے۔ یہ تو 6 اور 7 مئی کی معرکہ آرائی کا پر تو تھا ۔9 اور 10 مئی کی درمیانی رات بالخصوص صبح فجر کی اذان سے لیکر اگلے تقریباً4 گھنٹوں میں کیا ہوا اس کی روداد بھارت کے لیے اور بھی عبرت انگیز اور شرمناک ہے۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان کے سنگاپور میں دئیے گے انٹرویو میں اس کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔جیسے شروع میں لکھا گیا ہے جنرل چوہان نے تسلیم کیا کہ طیارے گرانا اہم بات نہیں اہم بات یہ ہے کہ طیارے کیوں گرے اور کیا تکنیکی غلطیاں ہم سے ہوئیں۔ ہم نے اُن کو درست کیا اور دو ، تین دن بعد پاکستان میں 300 کلو میٹر دور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جس پر انہیں سخت فضائی دفاع کرنا پڑا۔ 
جنرل صاحب بالکل درست ،واقعی آپ نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات ہمارے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ۔پاکستان نے اس کی کبھی تردید نہیں کی بلکہ تسلیم کیا کہ اُس رات واقعی بھارت نے ہمارے تین ہوائی اڈوں نور خان ائیر بیس چکلالہ راولپنڈی، مرید بیس چکوال اور شور کوٹ ائیر بیس جھنگ کو نشانہ بنایا لیکن اس کے ساتھ پاکستان نے صبح فجر کی اذان سے اگلے 4 گھنٹوں کے دوران جو کاروائی کی اور جسے آپ نے پاکستان کے سخت فضائی دفاع کر نام دینا پڑا اس کی تفصیل بھی سامنے آنی چاہیے۔ بلا شبہ پاکستان نے 10 مئی کو صبح کے اوقات میں بھارت میں 28 مقامات کو اپنے الفتح میزائلوں سے نشانہ بنایا ۔ ان میں بھارتی فوج کے اسلحہ کے ڈپو، فوجی مراکز، بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز، براہموس میزائلوں کے ٹھکانے، ہوائی اڈے اور بھارت کا روس سے خریدا ہوا جدید ترین S400 ائیر ڈیفنس سسٹم بھی شامل تھا۔ اُس دن بھارت کے بھوج، اُودھم پور، آدم پور، بٹھنڈا اور پٹھان کورٹ کے ہوائی اڈے ملبے کا ڈھیر بنے تو دریائے بیاس کے کنارے اُس کے براہموس میزائلوں کا ڈپو بھی تباہی کا شکار ہوا۔ اُس کے ساتھ بھارت کے ملٹر ی سیٹلائیٹ سسٹم کو جام اور وہاں کی سرکاری ویب سائیٹس جن میں بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی آفیشل ویب سائیٹ بھی شامل تھی کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ 
10 مئی کو صبح کے اوقات میں آپریشن” بنیانِ مرصوص“کے معرکہ حق کے تحت اوپر بیان کردہ جو کاروائی ہوئی اس سے بھارت میں جو تباہی اور بربادی پھیلی، جو خوف و ہراس پیدا ہوا اور بھارت کو غرور اور تکبر جس طرح خاک میں ملا پاکستان کی طرف سے اس کے ناقابلِ تردید شواہد اور حقائق دُنیا کے سامنے پیش کر دئیے گے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوجی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی نے بھی 10 مئی کی شام کو اپنی بریفنگ میں تسلیم کیا کہ پاکستان نے 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کو 1:40 منٹ پر ہماری مغربی سرحدوں پر حملہ کیا ،اُس نے اس میں ڈرونز، طویل مسافت تک مارکرنے والے میزائل اور جنگی طیارے استعمال کرتے ہوئے ہمارے 26 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایااس سے ہمارے اثاثوں، فوجی ساز و سامان ، فوجی مراکز اور افرادی قوت کو نقصان پہنچا اور انڈین ائیر فورس کے اُودھم پور، بھوج، پٹھان کوٹ اور بٹھنڈا کے ائیربیسز بطورِ خاص نشانہ بنے۔ بھارت کو اب کھل کر تسلیم کر لینا چاہیے کہ اُسے پاکستان کے خلاف 7 مئی سے 10 مئی تک چا ر روزہ معرکہ آرائی کے دوران بری طرح حزیمت ، پسپائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹیگز: