Wed, September 16, 2026

ضم شدہ قبائلی اضلاع کی وفاقی کمیٹی تحلیل کی جائے، صوبائی خودمختاری کی پاسداری ضروری:پی ٹی آئی کا مطالبہ

 ضم شدہ قبائلی اضلاع کی وفاقی کمیٹی تحلیل کی جائے، صوبائی خودمختاری کی پاسداری ضروری:پی ٹی آئی کا مطالبہ

اسلام آباد: پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے امور کے لیے بنائی گئی وفاقی کمیٹی کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمیٹی فاٹا کے منتخب نمائندوں کو شامل کیے بغیر تشکیل دی گئی، جو نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہے بلکہ صوبائی خودمختاری کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت فاٹا خیبرپختونخوا میں ضم ہو چکا ہے، اس لیے تمام انتظامی اور مالی امور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا کہ فاٹا کے عوام کے منتخب نمائندوں کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے علاقائی امن و استحکام متاثر ہوگا۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ وفاقی حکومت فاٹا کے 700 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کر کے قبائلی عوام کے حقوق کی پامالی کر رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فاٹا کے مسائل کا حل صرف اور صرف مقامی نمائندوں کی فعال شرکت سے ممکن ہے۔

پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں اقبال آفریدی، شاہ فرمان، سہیل آفریدی اور آفتاب عالم نے وفاق کی جانب سے فنڈز کی بندش اور انتظامی مداخلت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ فاٹا کے عوام کو ان کے جائز حقوق اور وسائل فراہم کیے بغیر ترقی اور امن ممکن نہیں۔

ٹیگز: