اسلام آباد: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا تھا، اور اس حملے کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے ہے، جسے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس حملے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اس سانحے میں شہید ہونے والے افراد کے لیے ہم دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) نے واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور اس حملے کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے بتایا کہ اس کارروائی میں سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا اور دھماکے کے فوراً بعد پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے ہیں۔ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور دہشت گرد کو وہاں تربیت دی گئی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ہمارے پاس واضح شواہد ہیں کہ کس طرح حملہ آور کو افغانستان سے لایا گیا اور اس کی تربیت کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ چھاپے کے دوران خیبر پختونخوا کے ایک اہلکار شہید ہوگئے جبکہ کئی دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
محسن نقوی نے عوام سے درخواست کی کہ چونکہ ہم ایک حالت جنگ میں ہیں، اس لیے کمیونٹی کی انٹیلی جنس بہت اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں 21 دہشت گرد تنظیمیں آپریٹ کر رہی ہیں اور اس بات کا دعویٰ کیا کہ ایک دھماکہ ہونے کے باوجود ہم نے 99 دھماکوں کو ناکام بنایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے سسٹمز کا جائزہ لینا ہوگا اور پولیس کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے بھارت پر الزام لگایا کہ دہشت گردوں کی تمام مالی معاونت بھارت فراہم کر رہا ہے، اور ان دہشت گردوں کی فنڈنگ کا حجم پہلے 500 ڈالر سے بڑھ کر اب 1500 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ مئی میں پاکستان کی شکست کے بعد بھارت نے دہشت گردی کے لیے اپنے بجٹ کو تین گنا بڑھا دیا ہے، اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت بھارت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دہشت گردوں کا بجٹ دس گنا بڑھا دیا جائے، تب بھی ہم انہیں روکے رکھیں گے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے اپنے بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی بھی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) بھارت کے تعاون سے ویڈیوز تیار کر رہی ہے جو بھارتی میڈیا پر نشر کی جاتی ہیں، تاکہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی تشہیر کی جا سکے۔