صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اس خطہ کے حالات اتنے پیچیدہ بھی نہیں کہ ان کی سمجھ نہ آ سکے ویسے کوئی سمجھنا نہ چاہے تو اور بات ہے ۔ تین دن میں 216سے زائد دہشت گردوں کو واصل جہنم کیا گیا اور یہ دہشت گرد کون تھے جنھوں نے بلوچستان کے کم و بیش 12شہروں پر ایک ساتھ یلغار کی تھی لیکن خدائے بزر گ و بر تر کا بڑا کرم ہے کہ ہماری افواج پاکستان نے ان تمام حملوں کو نہ صرف یہ کہ ناکام بنایا بلکہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی اکثریت کو بھاگنے کی بھی مہلت نہیں دی ۔ مئی 2025میں ہندوستان پہلگام واقعہ کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور ایک بات یاد رکھیں کہ اسے اس حملے کی کبھی جرات نہ ہوتی لیکن یو ٹیوب پر وہ سارا مواد موجود ہے کہ جس میں پاکستانی مودی سوشل میڈیا پر کہہ رہے تھے کہ پاکستان پر حملہ کرنے کا یہ بہترین وقت ہے اور اگر اس وقت ہندوستان حملہ کرتا ہے تو پاکستان کے عوام کی اکثریت خدا نخواستہ ہندوستان کا ساتھ دے گی ۔ ہمارے قومی میڈیا کے بہت سے سند یافتہ صحافیوں کی طرح جو سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کا اکثر شکار ہو جاتے ہیں ۔ ہندوستان کے پالیسی سازوں نے بھی یہی سمجھا کہ اور پاکستان پر حملہ کر دیالیکن جب فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان اور پاکستان کی ایئر فورس اور بحریہ نے ہندوستان کا جو حشر کیا اس کے بعد بقول مودی ان کے سینہ میں آگ بھڑک رہی ہے ۔ اس وقت کوشش کی گئی کہ پاکستان کو باہر سے حملہ کر کے خدا نخواستہ تباہ کیا جائے لیکن یہ گھناﺅنی سازش کامیاب نہیں ہو سکی ۔ اس کے فوری بعد جون 2025میں یہی حربہ ایران کے ساتھ بھی آزمایا گیا لیکن اس میں بھی بقول ٹرمپ کے کہ جنگ کے آخری 48گھنٹوں میں ایران کی جانب سے اسرائیل کی بڑی تباہی ہوئی تھی ۔ اس وقت دونوں اسلامی ریاستوںکو نقصان پہنچانے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی لیکن انھوں نے اس سے ہٹ کر دوسرے ہتھکنڈوں سے کام لینا شروع کر دیا ہے ۔
بیرونی کوشش کی ناکامی کے بعد اب انھوں نے اندرونی طور پر مذموم سازشوں کے ذریعے وہی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ 2025میں پہلے پاکستان کو ہدف بنایا گیا تھا لیکن اب بوجہ پہلے یہی کوشش ایران میں کی گئی اور پوری دنیا کے میڈیا میں ایران کے اندر رجیم تبدیلی کو یقینی انداز میں بتایا جانے لگا لیکن جب وہاں پر ناکامی ہوئی تو پھر یہ کام پاکستان میں کرنے کی کوشش کی گئی ۔ بلوچستان میں ایک ساتھ 12شہروں پر دہشت گردوں نے حملے کر دیئے لیکن افواج پاکستان اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بر وقت کارروائی نے ملک دشمن عناصر کے دانت کھٹے کر دیئے لیکن تھوڑی دیر اس سارے منظر کو الٹ کر دیکھیں اور سوچیں کہ اگر دہشت گرد کسی بھی طرح ان 12شہروں پر واقعی قابض ہو جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ رقبہ کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پر ان کا قبضہ ہو جاتاکہ جس پر آج کی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے فوری بعد سے ملک دشمن قوتوں اور بیرونی طاقتوں کی نظر ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ اسی صوبہ میں دنیا کی بہترین گہرے پانیوں والی گوادر کی بندر گاہ ہے اور ساتھ میں یہ صوبہ معدنیات سے مالا مال ہے اور آج کے دور میں ان کی کیا اہمیت ہے اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت کرہ ارض کی اکلوتی سپر پاور نے انہی معدنیات کی وجہ سے تمام تر اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وینزویلا کے صدر اور ان کی بیوی کو ان کے صدارتی محل کے بیڈ روم سے اغوا کر کے امریکہ لے گئی ہے اور اب وہ گرین لینڈ کے پیچھے پڑا ہوا ہے تو ان معدنیات سے مالا مال یہ صوبہ اگر دہشت گردوں کے قبضہ میں چلا جاتا جو کہ فتنہ الہندوستان ہیں اور ہندوستان کی پراکسیز کے طور پر کام کرتے ہیں تو ریاست پاکستان کو کتنا نقصان ہوتا اور سب سے بڑھ کر مئی2025میں ہندوستان سے فتح مبین کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کو جو عزت و احترام مل رہا ہے اس کو ایک زبر دست جھٹکا لگنا تھا ۔ اس کے علاوہ اگر یہ سازش کامیاب ہو جاتی اور ایک صوبہ دہشت گردوں کے قبضہ میں چلا جاتا تو اس کے فوری بعد یہی کارروائی اس سے زیادہ بھرپور طریقے سے خیبر پختون خوا میں دہرائی جاتی جو وہاں پر موجود کچھ سیاسی عناصر کی مدد سے بے انتہا خطر ناک ثابت ہو سکتی تھی تو اگر دو صوبے دہشت گردوں یعنی ہندوستان کی پراکسیز کے قبضے میں چلے جاتے تو پاکستان کو ٹکڑے کرنے کا ہندوستان کا 78سالہ خواب پورا ہو جاتا ۔
جو دہشت گرد مارے گئے ہیں ان میں طیب بلوچ سمیت بہت سے ایسے دہشت گرد بھی شامل ہیں کہ جن کا نام مسنگ پرسنز میں شامل ہے اور یہ سارا ریکارڈ عدالتوں میں موجود ہے اور ہماری بعض نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس پر بڑا دکھ تھا ۔ ہماری حکومت اور خاص طور پر سیکیورٹی فورسز سے گذارش ہے کہ اب ان تمام دہشت گردوں کے کوائف کہ جن کا نام Missing Personsمیں شامل کر کے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا جا رہا تھا ان کے نام اور ان مردہ اجسام کو نہ صرف یہ کہ ملکی اور عالمی میڈیا کے سامنے آڈیو وڈیو اور دستاویزی شواہد کے ساتھ پیش کیا جائے بلکہ انھیں اعلیٰ عدلیہ کہ جہاں مسنگ پرسنز کے کیس چل رہے ہیں وہاں محترم ججز کو دکھا کر انھیں اصل حقیقت حال بتائی جائے تا کہ ریاست پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اس طرح کے منفی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا کر پاکستان کا حقیقی روشن چہرہ دنیا کے سامنے لایا جا سکے ۔