خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے جب ایک طالبہ نے سوال کیا کہ ان کی حکومت نے تیرہ سال میں صوبے میں کیا کام کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے سوال کرنے کا شعور دیا ہے۔ یہ سن کر ذہن میں یکبارگی بہت سی چیزیں گردش کرنے لگیں جن میں کچھ محاورے تھے، کچھ ضرب الامثال، کچھ کہانیاں کچھ اشعار اور کچھ لطائف شامل تھے۔ اگر ان سب کو ایک ایک کر کے احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کی جائے تو پوری ایک کتاب بن سکتی ہے لیکن آج کے مضمون میں اتنی تفصیل کی گنجائش نہیں۔ اس لیے مشتے نمونہ ازخروارے کے مصداق صرف ایک ہی لطیفے پر اکتفا کرتے ہیں۔
لطیفہ کچھ یوں ہے کہ تین آدمی کہیں بیٹھے اپنے اپنے ملک کی ترقی کی کہانیاں سنا رہے تھے۔ ایک نے کہا ہمارے ملک میں پچاس سال پہلے ہی بجلی آ گئی تھی۔ آپ کہیں بھی کھدائی کر کے دیکھ لیں آپ کو پانچ فٹ کی گہرائی میں بجلی کے تار ملیں گے۔ دوسرے نے کہا یہ کون سی بڑی بات ہے ہمارے ملک میں ایک سو سال پہلے بھی ٹیلی فون موجود تھا۔ آپ کہیں بھی زمین کھود کر دیکھیں آپ کو دس فٹ کی گہرائی میں ٹیلی فون کے تار مل جائیں گے۔ تیسرے شخص نے کہا بھلا یہ بھی کوئی ترقی ہے اصل ترقی یافتہ تو ہمارا ملک ہے۔ ہمارے ملک میں دو سو سال پہلے بھی وائرلیس موجود تھا۔ آپ کسی بھی جگہ بیس بیس میٹر تک کھدائی کر کے دیکھ لیں، آپ کو کہیں کوئی تار نہیں ملے گی۔
تحریک انصاف کی قیادت کا معاملہ بھی اسی تیسرے شخص جیسا ہے۔ جس طرح اس نے تار نہ ہونے کو وائرلیس کا ثبوت قرار دیا اسی طرح خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت بھی اپنی ہر ناکامی کو کامیابی بنا کر پیش کرتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے کارکن بھی ایسے ہر جھوٹ پر آنکھیں بند کر کے یقین کر لیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی نے جو بات کی ایسی باتوں کو عرف عام میں سبز باغ کہا جاتا ہے۔ سبز باغ کبھی سبز نہیں بن سکتا اگر اسے دیکھنے والے کی انکھیں اس کے سبز ہونے پر یقین نہ کریں۔ عام طور پر سبزباغ دیکھنے والا پہلے ہی اسے دیکھنے پر آمادہ ہوتا ہے، اس لیے سبز باغ دکھانے والے کا کام آسان ہوجاتا ہے۔
اب یہی دیکھ لیجیے کہ وزیراعلیٰ کے پی نے طالبہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لوگوں کو شعور دینے کا دعویٰ کیا تو ملک کے طول و عرض میں ان کی جماعت کا ہر کارکن اس بات پر بھنگڑے ڈالنے لگا۔ کسی ایک نے بھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کون سا شعور دیا ہے؟ کیا اس قوم کو پہلے کوئی شعور نہیں تھا؟ کون سی ایسی بات ہے جس کا لوگوں کو پہلے علم نہیں تھا اور اب ہو گیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ قوم پہلے سے سب کچھ جانتی تھی اگر نہیں جانتے تھے تو سہیل آفریدی کی جماعت کے لوگ نہیں جانتے تھے لیکن انہوں نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ جان ہی لینا تھا کہ وقت خود ہی سب سے بڑا استاد ہے اور دنیا سب سے بڑی کتاب۔ اس دنیا میں کوئی کسی کو کچھ بھی نہ سکھائے تو انسان کو از خود ہی بہت سی چیزوں کا پتا چل جاتا ہے۔ اس لیے شعور کا سہرا کسی ایک شخص یا جماعت کے سر باندھنے سے زیادہ احمقانہ بات کوئی اور نہیں لیکن تحریک انصاف کی قیادت اور بانی کی کامیابی یہی ہے کہ وہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی، رنگ بھی چوکھا آئے کے مصداق اپنے پیروکاروں کے منہ میں کوئی نہ کوئی ایسا راگ ڈال دیتے ہیں کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود بھی ان کی جے جے کار ہوتی رہے۔
شعور دینے، تبدیلی لانے اور قوم بنانے جیسے مبہم جملے اسی ذیل میں آتے ہیں جو بانی پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کے منہ میں ڈالے اور یہ کارکن ایسے ہپناٹائز ہوئے کہ ان ہوائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اوراپنے مخالفین کے ٹھوس کاموں کی بھی نفی کرتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک اگر کچھ اچھا کر سکتا ہے تو وہ صرف ایک شخص ہے۔ اگر وہ ہے تو سب ٹھیک ہے، اگر وہ نہیں ہے تو سب غلط ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ پورا طبقہ غالب کے اس شعر کی تفسیر بنا ہوا ہے:
تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں
حالانکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا میں کوئی ایک شخص ناگزیر ہو جائے۔ بڑی بڑی ہستیاں دنیا میں آئیں اور رخصت ہو گئیں مگر دنیا کا نظام چلتا رہا اور چل رہا ہے۔ چیزیں وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہی ہوئی ہیں۔ جو لوگ آج زندہ ہیں انھوں نے بھی اپنی اپنی باری پر چلے جانا ہے۔ چاہے وہ ہم تم ہوں، بانی پی ٹی آئی ہوں یا پھر ان کے مخالفین۔ سب نے مٹ جانا ہے اور ان کی جگہ نئے لوگوں نے اور نئی نسلوں نے آ جانا ہے۔ دنیا کانظام ہمارے بعد بھی اسی طرح چلتا رہنا ہے بلکہ اس میں جدت اور بہتری بھی آتی جانی ہے تو پھر کسی ایک شخص کے ساتھ اپنی تمام امیدوں اور تمناو¿ں کو منسلک کر دینا چہ معنی؟۔
ہوتا اصل میں یہ ہے کہ جب کسی شخص کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ ہو تو وہ ایسی ہی ٹامک ٹوئیاں مارتا ہے جیسی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ماری۔ ان کے پاس ترقی کے سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا تو انھوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ ہم نے شعور دیا ہے اور چونکہ ان کی جماعت کے کارکن پہلے سے اسی مغالطے میں مبتلا ہیں لہذا انھوں نے اس جواب کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ یہ سوچ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور کارکن آخر کب تک اس شعور کے مغالطے میں مبتلا رہیں گے؟۔