بظاہر یہ آسان لگ رہا تھا کہ جتنا مرضی چاہو فوج کے خلاف زہر اگلتے جاؤ۔ اپنے مقاصد کے لئے جو بھی زبان پر آئے اگل دو۔ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم جاری تھی جس میں واضح ہو رہا تھا کہ یہ ایک منظم گروہ ہے جو باہر سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ اس کے ہینڈلر بھارت سے آپریٹ ہو رہے ہیں یا افغانستان سے۔ پھر تحقیقات میں سب کچھ واضح ہو گیا۔ ایک شخص نے ٹویٹ داغی جسے اس کے بیرونی آقاؤں نے طے شدہ پلان کے تحت فوری وائرل کرنے پر کام شروع کیا۔ یہ بیرونی آقا افغانستان بیٹھے تھے اور بھارت۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس شخص کی ٹویٹ کو مختلف اکاؤنٹس سے ری ٹویٹ کیا گیا اور پھر یہ سمجھے کہ ایک اور ٹارگٹ پورا ہوگیا۔ مگر اس دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک تاریخ ساز پریس کانفرنس کر ڈالی۔ ایک ایسی پریس کانفرنس جس کا پوری قوم کو انتظار تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے وہ مقصد حاصل کر لیا جو ایک لمبے عرصے سے منتظر تھا۔ ڈی جی کی تاریخی اور بے مثال پریس بریفنگ نے پہلی بار عمران نیازی کی مکمل فیک نیوز فیکٹری کو برباد کر کے رکھ دیا۔ عمران نیازی کے نفسیاتی مسائل سے پوری قوم کو آگاہ کر دیا۔ برسوں سے پھیلائے گئے پی ٹی آئی کے منظم جھوٹ، گمراہ کن بیانیے اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کو تار تار کر دیا۔ قومی میڈیا پر پہلی دفعہ روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ پی ٹی آئی ایک فریبی جماعت سے زیادہ کچھ نہیں۔ ملکی ترقی ان لوگوں کی نظر میں یہی اصل تکلیف ہے مگر اب پی ٹی آئی کی جھوٹ کی عمارت منہدم ہو چکی ہے۔ یہ لوگ بظاہر اب بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بلاشبہ فیک نیوز کی ایک آندھی برسوں سے چل رہی تھی۔ اس تاریخ ساز پریس کانفرنس کے بعد انہیں جواب مل گیا تو پوری پارٹی، خصوصاً اس کا سوشل میڈیا مافیا، پاگل ہو چکا ہے، یہ بوکھلاہٹ خود ثابت کرتی ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آرنے ان کے بیانیے پر ضرب لگائی ہے۔ سب سے بڑھ کرپہلی دفعہ ذہنی مریض کی تشخیص ہوئی۔ تسلی کے ساتھ قوم کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ یہ شخص ایک ذہنی مریض سے زیادہ کچھ نہیں۔ سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے تقریباً تمام ٹرولز نے ڈی جی کے جملے ’’Barking dogs seldom bites‘‘ کو جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر غلط معنی پہنائے اور اْسے اپنے ہی وزیر اعلیٰ سے جوڑ کر اسکی تذلیل شروع کر دی، پریسر میں بڑی وضاحت کے ساتھ ڈی جی آئی ایس پی آرنے یہ الفاظ واضح طور پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز کے جھوٹ اور زہرآلود مہم کے تناظر میں کہے تھے نہ کہ وزیر اعلیٰ سْہیل آفریدی کے بارے میں۔ اب تحریک انصاف کے اندرونی تقسیم شدہ لوگ جنہیں سہیل آفریدی سے رنجش ہے سامنے آگئے ہیں۔ یہی لوگ سہیل آفردی کو ذلیل کرنے میں پیش پیش ہیں اور ڈی جی کے جملے کو وزیراعلیٰ پر چسپاں کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پارٹی اندر سے شدید انتشار، گروپ بندی اور فکری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کی نسبتاً سنجیدہ اور سمجھ دار قیادت اب کھل کر عمران خان کے خود پسند، جھوٹ پر مبنی اور ریاست مخالف رویے سے خود کو الگ کر رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی گالی گلوچ، جھوٹے بیانیے، اور نفرت انگیز پروپیگنڈا مہم میں اب پی ٹی آئی کی بڑی لیڈرشپ شامل نہیں ہورہی۔ باوجود اس کے کہ عمران نیازی انہیں میر جعفر، میر صادق اور غدار جیسے نچلے درجے کے القابات دے رہا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر بدلتی ہوئی ہوائیں اب سب کے سامنے ہیں۔پارٹی کی اندرونی صفوں میں واضح بغاوت، فکری تھکن اور عمران خان کے پاکستان مخالف بیانیے سے بیزاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔تحریک انصاف خود عمران نیازی کے زہریلے، انتشار پسند اور اینٹی پاکستان بیانیے سے دوری اختیار کر رہی ہے۔ عمران نیازی کے پروپیگنڈا ماڈل کی بنیاد ہی جھوٹ، بہتان، پر قائم تھی۔قوم نے پہلی بار براہِ راست دیکھا کہ ادارے سے متعلق تمام فیک نیوز، جعلی کہانیاں اور ڈرامے سب ایک ہی لیبارٹری سے نکل رہے تھے جو عمران نیازی چلا رہا تھا۔ ان ٹرولرز سے ہر سیاسی جماعت شاید ڈرتی تھی یا بے بس تھی ، کیونکہ ان کی گالیوں کا جواب دینا جمہوری سیاستدانوں کے شایان شان نہیں تھا۔ لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے پہلی مرتبہ بتا دیا کہ پاک فوج جہاں دشمن کی دھجیاں اڑانا جانتی ہیں وہیں پراپیگنڈا فیکٹری کو اڑانا بھی کوئی مسئلہ نہیں۔