Wed, September 16, 2026

اب تو سب مانیں گے

اب تو سب مانیں گے


ہم بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کے حوالے سے جو دعوے کئے جاتے تھے ( ماضی کا صیغہ اس لئے استعمال کر رہے ہیں کہ 5اگست کا جس قدر شور سنتے تھے تو مکمل ناکامی کے بعد بھی اگر کوئی مقبولیت کے دعوے کرے گا تو یہ بڑے حوصلے کی بات ہو گی ) تو بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کے جو دعوے کئے جاتے تھے 5اگست کو پوری طرح ان کا پول کھل چکا ہے اور ہم ایک سے زائد بار اس کا تذکرہ بھی اپنی انہی تحریروں میں کر چکے ہیں کہ اکتوبر 2022میں خان صاحب کی اپنی قیادت میں جب لاہور لبرٹی چوک سے لانگ مارچ شروع ہوا تھا تو اس کی حالت یہ تھی کہ وہ بمشکل راوی کا پل کراس کر سکا تھا اور شاہدرہ پہنچ کر خان صاحب نے ایک تقریر کی اور اس کے بعد لانگ مارچ والے اپنے گھر اور خان صاحب اپنے گھر چلے گئے ۔ اس کے بعد ہر دوسرے دن شام میں اگلے شہر میں ایک جلسی ہوتی اور خان صاحب ایک تقریر فرماتے اور پھر سب اپنے اپنے گھر اور یہ سلسلہ وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعہ تک چلا ۔ اس کے بعد راولپنڈی میں دھرنے کا اعلان ہوا لیکن ہیلی کاپٹر سے عوام کی مایوس کن تعداد دیکھ کر اس دھرنے پروگرام کو بھی منسوخ کرنا پڑا ۔ یہ سب کچھ اس دور میں ہو رہا تھا کہ جب پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے اور خیبر پختون خوا میں بھی تحریک انصاف کی اپنی حکومت تھی یعنی لانگ مارچ یا دھرنے کے لئے کسی جگہ کہیں کوئی رکاوٹ نہیں تھی یعنی گولی لاٹھی آنسو گیس کسی کا کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن پھر بھی لانگ مارچ کامیاب ہو سکا اور نہ ہی دھرنا پروگرام میں کامیابی مل سکی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کس کی کتنی مقبولیت ہے لیکن اسی 2022کے شروع میں بلاول بھٹو اور اس سے چند ماہ قبل مولانا فضل الرحمن لاہور سے نہیں بلکہ کراچی یعنی1500 کلومیٹر زیادہ دور سے لانگ مارچ لے کر آئے تھے اور دونوں لانگ مارچ میں کوئی اپنے اپنے گھر نہیں گیا تھا بلکہ قیادت سے لے کر کارکن تک لانگ مارچ کے ساتھ ہی رہے تھے اور کامیابی کے ساتھ اسلام آباد پہنچے تھے ۔
اس سے پہلے 2018میں کہ جب خان صاحب اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے اور اس وقت کیا ملٹری اور کیا سول پوری اسٹیبلشمنٹ ان کے آگے بچھی جا رہی تھی ۔ ہم خیال جرنیل ، ہم خیال ججز اور ہم خیال میڈیا جو خان صاحب کی مقبولیت کو چار چاند لگانے کے لئے چوبیس گھنٹے ان کے گن گا رہے تھے اوراس وقت محکمہ زراعت کے پورا زور لگانے کے باوجود بھی وفاق اور نہ ہی پنجاب میں تحریک انصاف کو سادہ اکثریت مل سکی اور پنجاب میں آزاد ارکان کو ملا کر اور وفاق میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی تھی۔ اس سے بھی پہلے 2014کے دھرنوں کے وقت بھی خان صاحب اپنی مقبولیت کے بام عروج پر تھے اور اس میں علامہ طاہر القادری کے ہزاروں مرید جو عوامی تحریک کے کارکن بھی تھے ان کا بھی ساتھ تھا لیکن اس حقیقت سے اب پردہ اٹھ چکا ہے کہ دھرنا شروع ہونے کے چند دن بعد ہی یہ حالت ہو گئی تھی کہ تمام دن وہاں ویرانی کا راج ہوتا تھا اور شام ڈھلے چند سو کارکن وہاں جمع ہوتے تھے اور خان صاحب اپنے فن خطابت کا شوق پورا کرتے تھے لیکن میڈیا کو ان سیکڑوں کارکنوں کو ہزاروں کی تعداد میں دکھانے کا حکم تھا لیکن 126دن کے بعد بھی وہاں سے ناکام و نامراد واپس آنا پڑا کہ جب پشاور میں معصوم بچوںکو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو خان صاحب کو فیس سیونگ مل گئی اور ان دھرنوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ یہ خان صاحب کی مقبولیت کی بڑی مختصر سی داستان ہے جو قار ئین کے نذر کی ہے اور یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ سوشل میڈیا پر جھوٹ کا جو ایک طوفان ہے اس کو بے نقاب کیا جائے ۔
اب احتجاج کامیاب نہ ہونے پر جو جواز دیئے جاتے ہیں کچھ ان کی حقیقت بھی بیان کر دی جائے ۔ سب سے بڑی وجہ جو کہی جاتی ہے کہ کارکن کیا کریں حکومت کی جانب سے سختی بہت ہے ۔ ہمارے سامنے جو بندہ بھی یہ بات کہتا ہے ہم اپنے زمانہ طالب عملی کے دور جو جنرل ضیاءمارشل لاءکا تھا اس کے تجربات ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ کس طرح اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی نے لاٹھی گولی آنسو گیس ہی نہیں بلکہ پھانسیوں کی موجودگی میں کہ جب ہزاروں کارکن جیلوں میں قید تھے لیکن احتجاج پھر بھی ہوتا تھا اور1983میں کہ جب جنرل ضیاءکی طاقت کا سورج سوا نیزے پر تھا تو اس وقت ایم آر ڈی کی تحریک چلی تھی اور اس میں اتنا دم ضرور تھا کہ جنرل ضیاءکو 1985کے غیر جماعتی الیکشن کرانا پڑ گئے تھے۔ اس کے علاوہ جو بھی حکومتی جبر کا جواز دیتا ہے تو اس سے صرف ایک سوال ہے کہ دنیا کی کون سی احتجاجی تحریک ہے کہ جس میں حکومت وقت نے احتجاج کرنے والوں کو پھولوں کے ہار پہنائے تھے۔ جب بھی اور جہاں بھی حکومتوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں چلیں ان میں قربانیاں دینا پڑتی ہیں یہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پوسٹیں لگانے سے انقلاب آ جاتے ہیں ۔ دوسرا سیاسی رہنما کبھی اپنی رہائی کو بنیاد بنا کر تحریک نہیں چلواتے بلکہ ہمیشہ عوامی مسائل کو جواز بنایا جاتا ہے لیکن افسوس کہ تحریک انصاف نے کبھی عوامی مسائل پر احتجاج نہیں کیا کبھی مہنگائی بیروز گاری کے خلاف عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت نہیںدی تو جب عوامی مسائل پر احتجاج ہی نہیں ہونا اور مقبولیت بھی صرف سوشل میڈیا پر ہو تو پھر کوئی احتجاج کامیاب کیسے ہو گا ۔

ٹیگز: