Wed, September 16, 2026

مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بو اور سفارتکاری کی آخری امیدیں

مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بو اور سفارتکاری کی آخری امیدیں

 ایران اور امریکہ ، اسرائیل کے درمیان جاری جنگ آج 40 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کشیدہ اور سنگین تر ہو رہی ہے۔ اگرچہ اس جنگ میں اسرائیل بھی ایک اہم فریق ہے لیکن اب یہ امریکہ اور ایران کی براہِ راست جنگ ہی معلوم ہو رہی ہے اور اسرائیل کا کردار ظاہری طور پر ثانوی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ بحران کی اصل وجہ وسائل کی جنگ ہے یا کچھ اور، اس کا فیصلہ تاریخ جلد ہی کر دے گی۔ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ تنازع محض ایک معمولی جنگ نہیں بلکہ یہ خطے کی تاریخ کا ایک ایسا موڑ ثابت ہو رہا ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 28 فروری 2026 ءکو شروع ہونے والی اس جنگ نے نہ صرف فوجی لحاظ سے بلکہ معاشی اور سفارتی سطح پر بھی دنیا کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اس روز امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل سازی کے مراکز اور قیادت کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نشانہ بننے کی خبروں نے تہران کے سیاسی ڈھانچے میں ایک بڑا خلا پیدا کر دیا، جس کے جواب میں ایران نے سیکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرونز کے ذریعے پورے خطے میں امریکی اڈوں اور اتحادیوں پر جوابی کارروائی کی۔ اس جنگ کو اب چالیس روز ہو چکے ہیں اور آج صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ امریکہ نے اپنی فضائی برتری ثابت کی ہے لیکن ایران نے اپنی ”غیر متناسب جنگ“ کی حکمت عملی سے امریکی فوج کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔
3 اپریل 2026ءکو ایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا، جس کے عملے کو بچانے کے لیے امریکہ کو ایک پیچیدہ ریسکیو آپریشن کرنا پڑا۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو مو¿ثر طریقے سے بند کر رکھا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر مزید حملے ہوئے تو خلیج فارس کی تمام مواصلاتی لائنوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دیا جائے گا۔ ا س جنگ نے عالمی معیشت کو 1970ءکی دہائی کے بعد کے سب سے بڑے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ 200 ڈالر تک جا سکتی ہیں۔ صرف مارچ کے مہینے تک امریکی فوج پر اس جنگ کے اخراجات 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جبکہ پینٹاگون نے مزید 200 ارب ڈالر کے اضافی بجٹ کی درخواست کر رکھی ہے۔ عالمی سطح پر اس جنگ کو روکنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک 15 نکاتی امن فارمولا پیش کیا ، جس پر امریکی صدر اور ایرانی حکام کے درمیان بالواسطہ بات چیت کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جنگ بندی پر مذاکرات ہو رہے ہیں تاہم فی الحال دونوں فریقین اپنے سخت موقف پر قائم ہیں۔ ان سطور کے تحریر کرنے تک کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ جنگ کسی ایک فریق کی مکمل فتح پر ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ”پہلے ایک گھنٹے میں فتح“ کے دعوو¿ں کے باوجود، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادیوں (حوثی) کی شمولیت نے اس تنازع کو ایک نہ ختم ہونے والے ”خونی دلدل“ میں بدل دیا ہے۔
آج 8 اپریل 2026ءکو جب دنیا اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مگن ہے، مشرقِ وسطیٰ کا خطہ آگ کی لپیٹ میں ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ”آپریشن ایپک فیوری“ کے آغاز نے خطے کے جغرافیائی اور سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر پیغام میں ایک حتمی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کےلئے فوری کھولے اور ایک نیا سکیورٹی معاہدہ کرے، ورنہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بجلی گھروں کو ”پتھر کے زمانے“ میں دھکیلنے والی بمباری کی جائے گی۔ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے امریکی صدر نے ڈیڈلائنز اور دھمکیاں تو کئی دیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اس حد تک قطعی ثابت نہیں ہوئی اور اللہ کرے ایسا نہ ہی ہو۔ دو روز قبل انہوں نے کہا ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر ’تباہ کن‘ ہو گی۔ یہ حملے منگل کے روز واشنگٹن ڈی سی کے وقت کے مطابق رات آٹھ بجے (پاکستانی وقت بدھ کی صبح پانچ بجے) شروع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چار گھنٹوں کے اندر ایران میں ہر پل اور ہر بجلی گھر تباہ کر دیا جائے گا۔ کم ہی ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں ہدف نہ بنایا جائے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کی گئی تازہ معلومات کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی افواج ایران بھر میں 13 ہزار سے زائد حملے کر چکی ہیں۔ ایران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے اور اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ تنازع کا مستقل خاتمہ کیا جائے اور پابندیاں اٹھائی جائیں۔
عالمی برادری کےلئے اب سب سے بڑا چیلنج اس جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے ورنہ یہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان، ترکی، مصراس وقت ایک امن معاہدہ کرانے کے لیے سرگرم ہیں۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور 15 نکاتی تجاویز اس وقت امن کی آخری امید سمجھی جا رہی ہیں جہاںجنگ بندی کا فریم ورک زیرِ بحث ہے۔ یہ جنگ اب محض دو ملکوں کا تصادم نہیں رہی بلکہ ایک عالمی بحران بن چکی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کا سخت لہجہ اور فوجی دباو¿ ہے، تو دوسری طرف ایران کا یہ موقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ آنے والے چند دن یہ طے کریں گے کہ دنیا ایک طویل علاقائی جنگ کی دلدل میں اترے گی یا سفارت کاری بارود کی اس بو کو ختم کرنے میں کامیاب ہو پائے گی۔ اللہ کرے مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران ختم ہو اور دنیا سکھ کا سانس لے ورنہ یہ بحران پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور شاید اس کی چنگاڑی سے کوئی محفوظ رہ سکے۔

ٹیگز: