Wed, September 16, 2026

آر ایس ایس ”این جی او“ نہیں دہشت گرد!

آر ایس ایس ”این جی او“ نہیں دہشت گرد!



وزیرِاعظم نریندر مودی کی یومِ آزادی تقریر اس سال بھارت میں ایک نئی بحث کا دروازہ کھول گئی۔ جب انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو ”دنیا کی سب سے بڑی این جی او“ قرار دیا تو نہ صرف اپوزیشن جماعتوں بلکہ عام عوام اور غیر جانبدار حلقوں میں بھی شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ایک طرف مودی حکومت اسے ”قوم پرستی اور ثقافتی بیداری“ کا استعارہ قرار دیتی ہے، تو دوسری جانب ناقدین کے نزدیک آر ایس ایس وہ تنظیم ہے جس نے جمہوریت، سیکولرازم اور قومی وحدت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ آر ایس ایس کا قیام 1925 میں ہوا۔ بظاہر یہ تنظیم ہندو سماج کی اصلاح اور قوم پرستی کے فروغ کے لیے وجود میں آئی، مگر تاریخ اس کے کردار پر بڑے سوالیہ نشان لگاتی ہے۔ بھارت کی آزادی کی تحریک کے دوران کانگریس، گاندھی اور نہرو کی قیادت میں جدوجہد عروج پر تھی لیکن آر ایس ایس نے براہِ راست تحریکِ آزادی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس کے برعکس مختلف مو¿رخین لکھتے ہیں کہ تنظیم کے کئی اراکین نے انگریز سرکار کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی کے قتل کا داغ بھی آر ایس ایس کے دامن سے کبھی نہیں دھل سکا۔ اگرچہ تنظیم نے باضابطہ طور پر اس الزام سے انکار کیا، لیکن قاتل ناتھورام گوڈسے کا آر ایس ایس سے تعلق ہمیشہ تاریخ کی کتابوں میں ایک ناقابلِ فراموش حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے رہنماو¿ں نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ اس تنظیم کو راشٹریہ سندگدھ سنگٹھن یعنی مشکوک تنظیم کہا جانا چاہیے۔
مودی نے آر ایس ایس کو دنیا کی سب سے بڑی این جی او قرار دے کر ایک ایسا سوال پیدا کر دیا ہے جو قانونی اور اخلاقی دونوں حوالوں سے اہم ہے۔ کانگریس نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ اگر آر ایس ایس واقعی ایک این جی او ہے تو اس کے پاس رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کہاں ہے؟ اس کے بینک اکاو¿نٹس کہاں ہیں؟ کون سی آڈٹ رپورٹس عوام کے سامنے رکھی گئی ہیں؟ ایک این جی او کے لیے شفافیت بنیادی شرط ہوتی ہے لیکن آر ایس ایس ہمیشہ اس سے گریز کرتی رہی ہے۔ این جی اوز عموماً تعلیم، صحت، فلاحی خدمات یا سماجی ترقی کے میدان میں کام کرتی ہیں، لیکن آر ایس ایس کی سرگرمیاں زیادہ تر سیاسی و نظریاتی ہیں۔ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیے نظریاتی پشت پناہی کا کردار ادا کرتی ہے۔ سکولوں میں نصاب کی تبدیلی سے لے کر میڈیا اور بیوروکریسی تک اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ ایسے میں اسے این جی او کہنا دراصل حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ اپوزیشن نے درست کہا کہ آر ایس ایس کا اصل مقصد رام راجیہ کے قیام کی تشہیر ہے۔ اس اصطلاح کے پیچھے ایک مخصوص ہندو قوم پرستانہ ریاست کا خواب چھپا ہے جس میں اقلیتوں کے لیے کوئی حقیقی جگہ نہیں ہو گی۔ بھارتی سیکولر آئین جس کی بنیاد مذہبی رواداری اور برابری پر ہے، آر ایس ایس کے منشور سے متصادم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن رہنماو¿ں نے خبردار کیا ہے کہ آر ایس ایس کے عزائم جمہوری اقدار کو کمزور کر کے بھارت کو ایک ہندو راشٹر کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کیرالہ کے وزیرِاعلیٰ پینارائی وجیئن نے مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس نے آزادی کی جدو جہد کی مخالفت کی تھی۔ یہ تنظیم نہ صرف انگریزوں کی وفادار رہی بلکہ بھارت کے آئین کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ساورکر کو گاندھی کے برابر لا کھڑا کرنا تاریخ نہیں بلکہ تاریخ سے غداری ہے۔ اسی تناظر میں راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس کا اعتراض بھی اہم ہے جنہوں نے یومِ آزادی کے اشتہارات میں ساورکر کی تصویر کو گاندھی، بھگت سنگھ اور سبھاش چندر بوس سے اوپر رکھنے پر افسوس ظاہر کیا۔ یہ صرف ایک علامتی عمل نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند نظریاتی مہم ہے جس کا مقصد سیکولر اور کثیر الثقافتی بھارت کے چہرے کو مسخ کرنا ہے۔ بھارت کی جمہوریت کی جڑیں ہمیشہ سے تنوع، رواداری اور اختلافِ رائے کی آزادی پر استوار رہی ہیں۔ آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اثر ان تمام اصولوں کے لیے خطرہ ہے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ پر حملے، صحافیوں کو دھمکیاں، اقلیتوں پر تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات کی پشت پناہی اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔ مودی کے بیانات اس سوچ کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ مودی نے جب آر ایس ایس کو ”دنیا کی سب سے بڑی این جی او“ کہا تو اس سے بھارت کا عالمی تشخص بھی متاثر ہوا۔ دنیا بھر میں این جی اوز انسانی ہمدردی، خدمت اور شفافیت کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن آر ایس ایس کے دامن پر خون اور نفرت کے دھبے ہیں۔ ایسے میں بھارت کی اپوزیشن کا ردِعمل بالکل فطری ہے کیونکہ اس بیان نے نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھی بھارت کے سیکولر تشخص کو مجروح کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں جمہوری قوتیں آر ایس ایس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے متحد ہو پائیں گی؟ اگر اپوزیشن واقعی سیکولرزم اور جمہوریت کے دفاع کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے صرف بیانات سے آگے بڑھ کر ایک متفقہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی۔ میڈیا، سول سوسائٹی اور عدلیہ کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔ مودی کا بیان دراصل اس بڑے خطرے کی علامت ہے جو بھارتی جمہوریت پر منڈلا رہا ہے۔ اگر آر ایس ایس کو کھل کر این جی او کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تو یہ مستقبل میں آئینی ڈھانچے کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا۔

ٹیگز: