Wed, September 16, 2026

یورپی یونین کا نیا ڈیجیٹل سرحدی نظام 12 اکتوبر سے شروع ہوگا

یورپی یونین کا نیا ڈیجیٹل سرحدی نظام 12 اکتوبر سے شروع ہوگا

برسلز: یورپی یونین نے غیر یورپی شہریوں کی سرحدی نگرانی کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام "اینٹری/ایگزٹ سسٹم" (EES) متعارف کروا دیا ہے جو 12 اکتوبر 2025 سے 29 شینگن ممالک میں نافذ ہوگا۔

یہ نظام ان مسافروں پر لاگو ہوگا جو شینگن زون میں 90 دن تک قیام کے لیے آ رہے ہیں، چاہے وہ ویزا کے بغیر ہوں یا قلیل مدتی ویزے کے ساتھ۔ نئے نظام میں مسافروں کا بائیومیٹرک ڈیٹا یعنی چہرے کی تصویر، فنگر پرنٹس اور پاسپورٹ کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر محفوظ کی جائیں گی تاکہ ان کے یورپ میں داخلے اور خروج کی درست نگرانی ہو سکے۔

یورپی حکام کے مطابق، اس نظام کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو بہتر بنانا، جعلی دستاویزات کی روک تھام، بارڈر پر انتظار کا وقت کم کرنا اور قانونی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی شناخت کرنا ہے۔

ڈیٹا کو یورپی یونین کے سخت پرائیویسی قوانین کے تحت محفوظ رکھا جائے گا اور صرف متعلقہ حکومتی اداروں کو رسائی حاصل ہوگی۔ علاوہ ازیں، ایسے مسافروں کے لیے جو بار بار یورپ کا سفر کرتے ہیں، “نیشنل فسیلیٹیشن پروگرامز” شروع کیے جائیں گے تاکہ ان کی بارڈر پر کارروائی تیز کی جا سکے۔

یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے سرحدی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ٹیگز: