بلوچستان کو اکثر دوسرے صوبوں کی نسبت پسماندہ اور محرومیوں کا شکار صوبہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ برسوں سے عوام کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو ان کا حق نہیں مل رہا۔ لیکن جب حقائق پر نظر ڈالی جائے تو ایک بالکل مختلف تصویرابھر کر سامنے آتی ہے۔ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کی جانب سے اس وقت صوبے میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، لیکن بدقسمتی سے رواں سال کے گذشتہ 10 ماہ کے دوران بلوچستان میں بظاہر بلوچ حقوق کی دعویدار اور در حقیقت فتنہ الہندوستان کی پروردہ کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف نے 28 ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا اور ان حملوں کی باقاعدہ ذمہ داریاں بھی قبول کیں۔ ایک نظر ان منصوبوں پر جنہیں دہشت گردوں نے نقصان پہنچا کر صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ مورخہ 18جنوری 2025ء کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے آواران کے علاقے پیر اندر میں تعمیراتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، 7 فروری کو خضدار کے علاقے گریشہ جاور جی میں تعمیراتی منصوبے پر حملہ کر کے تمام مشینری نذر آتش کر دی، 28 فروری کو خاران کے علاقے کلان میں تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کر کے تمام مشینری کو جلا دیا، 2 مارچ کو مشکے کے علاقے روجھان میں مقامی تعمیراتی منصوبے پر حملہ کر کے مشینری کو بھاری نقصان پہنچایا، 4مارچ کو پسنی میں تعمیراتی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، 6 مارچ کو پنجگور کے علاقے تسپ میں تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی، 2 اپریل کو خاران کے علاقے نارگٹ میں یوفون کے ٹاور پر حملہ کر کے مشینری کو نذر آتش کر دیا، 10 اپریل کو خاران اور وڈھ میں تعمیراتی مشینری کی گاڑیوں پر دستی بم اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے شدید نقصان پہنچایا، 13 اپریل کو خاران کے علاقے راسکوہ میں یوفون کے ٹاور پر حملہ کر کے مشینری کو نذر آتش کر دیا، یکم مئی کو آواران مالار میں تعمیراتی منصوبے کو نقصان پہنچایا، 3 مئی کو دشت بلنگور کے علاقے سورک میں مقامی ٹھیکیدار کے ٹریکٹروں کے ٹائر برسٹ کر دئیے جبکہ 4 مئی کو خاران میں زریں جنگل میں تعمیراتی مشینری کو نذرآتش کیا، 5 مئی کو مسلح دہشت گردوں نے گوادر کے علاقے ریکانی میں زونگ موبائل ٹاور کو نذر آتش کیا۔ 6 مئی کو پروم کے علاقے جائین میں مقامی تاجر کا اشیائے خورونوش سے بھرے ٹرک کو نقصان پہنچایا، 23 مئی کو ساجدی بازار کولواہ میں مواصلاتی نظام پر حملہ کر کے مشینری کو نقصان پہنچایا، 31 مئی کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے کولواہ کے علاقے شاہو باتل میں مواصلاتی نظام پر حملہ کر کے تمام مشینری نذر آتش کر دی، 9 جون کو جیونی پانوان کے کوہ سر بازار میں موبائل ٹاور کو آگ لگا دی، 15 جون کو خضدار کے علاقے وڈھ بازار میں صادق ہوٹل کے قریب یوفون ٹاور پر حملہ کر کے مشینری نذر آتش کر دی، 17 جون کو خضدار کے علاقے وڈھ میں حبیب ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے ٹرک پر حملہ کر کے انجن اور ٹائروں کو نقصان پہنچایا، 20 جون کو مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں بلوچستان ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے جنریٹر ٹرکوں پر حملے کر کے انہیں نقصان پہنچایا، 22 جون کو خضدار کے علاقے وڈھ ڈھکلو میں مقامی ٹھیکیدار کی دو گاڑیوں پر حملہ کر کے سامان کو نقصان پہنچایا، 7 ستمبرکو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے سوراب میں مقامی روڈ کی تعمیراتی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، 9 ستمبر کو آواران تابیلہ شاہراہ ’’انگریزی چڑھائی‘‘ کے مقام پر تعمیراتی مشینری کو نذر آتش کیا۔ جبکہ 17 فروری 2025ء کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں نے تربت کے علاقے ناصر آباد میں 4 تعمیراتی گاڑیوں اور دیگر مشینری نذر آتش کر دی، 26 جون کو بی ایل اے نے مستونگ میں تین مختلف مقامات پر مقامی ٹھیکیدار کی گاڑیوں پر حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا، 28 جون کو مستونگ میں تعمیراتی گاڑیوں پر حملہ کر کے نذر آتش کر دیا گیا، 21 ستمبر کو ڈھاڈر میں مقامی گیس پائپ لائن کو دھماکے میں اڑا دیا گیا، 27 ستمبر کو قلات کے علاقے خزینئی میں مقامی ٹھیکیدار کی تعمیراتی گاڑی پر حملہ کر کے نقصان پہنچایا گیا۔ یہ دلخراش واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں ترقی کو شعوری طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ محرومیوں کے بیانیے کو زندہ رکھا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت فنڈز فراہم کر چکی ہے، بلوچستان کی ترقی کے لیے ویژن 2030 کے تحت صوبے میں ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔ خوشحال بلوچستان کے اس پروگرام کے تحت صوبہ بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے جھال بچھائے جا چکے ہیں اور عوام کو سہولتیں دینے کی عملی کوششیں جاری ہیں، جن کا مقصد مستحکم اور خوشحال بلوچستان ہے، مگر بھارت کی پروردہ کالعدم تنظیمیں نہیں چاہتی کہ یہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، یہاں کے عوام کی زندگیاں آسان ہوں، اس لیے وہ باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان ترقیاتی منصوبوں پر حملے کراتی ہیں۔ اب عوام کو بلوچستان کی محرومیوں اور پسماندگی کے اصل ذمہ داروں کو پہچاننا ہو گا، کیونکہ بھارتی سپانسرڈ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ترقیاتی منصوبوں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کر کے نوجوان نسل کو ریاست کے خلاف گمراہ کر رہے ہیں۔ ذرہ سوچیے کہ ان حملوں میں نقصان کس کا ہوا؟ جب کہ یہ منصوبے تو صرف بلوچ عوام کے خوشحالی کے لیے تھے مگر پھر ان پر حملے کیوں؟ واضح رہے کہ بلوچستان کی ترقی بھارت کی آنکھ میں کھٹکتی ہے یہی وجہ ہے کہ جب سی پیک منصوبے کا معاہدہ ہوا تو اس وقت بھارت کے پیٹ میں شدید مروڑ اٹھے، اس لیے کہ وہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد دفاعی حوالے سے پاکستان کو چیلنج نہیں کر سکتا تو سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان کی اہمیت و حیثیت بڑھے گی اور ترقی کی دوڑ میں وہ بھارت کو پیچھے چھوڑ دے گا، اور یہ حقیقت ہے کہ دفاعی لحاظ سے پاکستان بھارت سے ہزار گناہ زیادہ مضبوط ہے۔ اس لیے اس نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی خفیہ ایجنسی را کے ذریعے اپنی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف کو ہتھیار اور فنڈنگ فراہم کر کے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنایا۔ مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بلوچ عوام ان کالعدم تنظیموں کی حقیقت اور اصلیت کو بخوبی جان چکے ہیں۔