یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشی ناہمواری، معاشرتی ناہمواری کا سبب بنتی ہے اور انصاف کی بروقت قانونی فراہمی میسر نہ ہونے سے معاشرے میں عدم توازن کی صورتحال پیدا کر دیتی ہے۔ایسے میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت، لگن اور محبت سے پاکستان کے صوبہ پنجاب میںمثبت اور ہنگامی اقدامات اٹھائے جانے سے عوام کے جان و مال کو احساس تحفظ اور امن دشمن عناصر کو ٹھکانے لگانے سے مشن کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔کام تو بہت سارے ایسے کرکے ثابت کردیا ہے کہ بدلہ نہیں پنجاب میں بدلاؤ لانے کی اشد ضرورت ہے۔فوری طور پراحساس محرومی سے احساس تحفظ کا سفر ایسا شروع کیا کہ اب ہر شہری بے خوف ہو کر گلی ،محلوں سے سڑکوں اور شاہراوں پر ہنستا مسکراتا دکھائی دیتا ہے کہ جرم کا خاتمہ کر دیا ،اکا دکا کرائم ہو رہا ہے لیکن وقت کے ساتھ جرائم پیشہ پولیس ملازمین کے گرد بھی شکنجہ تیار کیا جا رہا ہے ،حالیہ دنوں میںلگ بھگ 100کرپٹ ترین پولیس ملازمین کو حراست میں لیا اور قید کی سزا بھی دی اور مقدمات بھی درج کئے ،ایسے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ،جو اس بار حکومت پنجاب کی کوئین وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے زیر سایہ یہ سب دیکھنے کو ملا۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی )کا وزیر اعلیٰ پنجاب کی امید پرپورا اترنا یہ ثابت کر تا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ میں معاشرے کو جرم سے پاک کرنے کی نہ صرف صلاحیت بلکہ پاکستان پولیس کا نام بھی روشن کرنے کا جذبہ بھی ہے،بات یہاں ختم نہیں ہوتی آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اب تک جتنا کام کر دکھایا ،وہ سب بھی حکومت پنجاب کے بھر پور تعاون سے ہو رہا ہے۔دلیل کا دور ہے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہو تو صوبہ میں مثبت تبدیلیاں ترقی کے سفر پر گامزن ہو ہی جاتی ہیں۔
اس سے پہلے کے حالات پر نظر ڈالیں تومجھے کسی کی لکھی تحریر یاد آگئی!اس میں کچھ باتیں زیر غور ہیں جسے بدلنا ابھی ابھی باقی ہے ،چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے۔۔۔
پاکستان دنیا میں گھی پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک کپاس ،آم اور چاول پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ،گنا ،دودھ اور کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ،گندم ،مالٹا اور خوبانی پیدا کرنے والا چھٹا ملک مگر کرپٹ ترین سیاستدان ،نے ضمیر عوام نا اہل حکمران اور نیم مردہ اداروں کے نیم بے ہوش سربراہان پیدا کرنے والا پہلا بڑا ملک ہے۔اس کے باوجود زندہ ہیں اب تک ڈھیٹ جو ہیں۔
میرے پاکستانیو شکایت کیوں نہیں کرتے ؟تم اتنے ظلم سہہ کر بھی بغاوت کیوں نہیں کرتے۔یہ جاگیروں کے مالک اور لٹیرے کیوں چنے تم نے ؟تمہارے اوپر تم جیسے ہی حکومت کیوں نہیں کرتے ؟یہ بھوک افلاس تنگدستی تمہارا ہی مقدر کیوں ؟مقدر کو بدلنے کی جسارت کیوں نہیں کرتے کیونکہ زندہ ہیں اب تک ڈھیٹ جو ہیں۔جب ہم نے اپنے آپ کو بے حسی بے رخی اور بے دردی سے ایک ایسا لاوارث مریض بنا دیا ہو،جس کی ایک معمولی سی بیماری بد عنوانی کو ڈاکٹر ،سرجن ،طبیب ،حکماء اور کنسلٹنٹ معیشت کے کینسر کا آخری مرحلہ بنائے بیٹھے ہوں ،جبکہ قدرت اور فطرت کی ہر آسائش کے ڈھیروں ڈھیر لگے ہوں مگر بے ضمیریاور خود غرضی کے فالج کا غلبہ ہوتب۔تب ایسے مریض کو زندہ درگور ہو جانا چاہیے مگر زندہ ہیں اب تک ڈھیٹ جو ہیں ،امیرے ملک کے حکمران کی نااہلی سے کوئی آسیب زادہ ڈاکٹر کے روپ میں مسیحائی کے عوض ہمیں نگلتا ہے تو آسیب زادہ تعلیم کے نام پر جعلی ڈگریاں بیچتا ہے۔کوئی آسیب زادہ ہر کھانے کی شہ میں ملاوٹ کرتا ہے تو کئی ہم کو ہی کھاتا ہے۔کوئی آسیب زادہ سیاست کی کرسی پر براجمان ہے تو کوئی قانون اور انصاف کی دھجیاں بکھیرتا ہے مگر ہم چْپ ہیں خاموش ہیں ،تعلیم یافتہ ہو کر بھی گونگے اور بہرے ہیں۔کیونکہ ہزاروں ڈگریاں لے کر دسترس پا کر چھلکتے لفظ آنکھوں سے نہ پڑھ پاؤ تو جاہل ہو۔پھر کہنا پڑتا ہے زندہ ہیں اب تک ڈھیٹ جو ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان بنتے وقت ایسا کیا جادو کیا گیا تھا کہ لوگ اپنے گھر با ر چھوڑ کر اپنے کاروبار چھوڑ کر یہاں تک کہ اپنی ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کو عصنت داری کے خوف سے خود ملک الموت کے حوالے کر کے اپنے آپ کو اپنے پیاروں کو اپنے راج دلاروں کو خون میں نہلا کر یہاں لینے کیا آئے تھے۔ لاقانونیت ؟بے انصافی ؟ملاوٹ ؟اخلاقی گراوٹ ؟شر انگیزی؟یا جمہوریت ؟ان مرنے والوں کی اولاد کیا ہوا ؟شہدا جو منوں مٹی تلے دفن ہوئے ان کے جذبات کے لئے احساسات کو کیا ہوا۔
آخر میں پھر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں اور سب کو بتانا چاہتا ہوں یہ انقلاب وقت کی تصویر ہے کہ جس شہری کی جگہ پر ناجائز اور غیر قانونی طور پرکوئی بھی قابض ہو ،اس کا فوری کیس حل کرنے کے ساتھ صرف 24گھنٹوں میں پلاٹ ،رقبہ واگزار کروانا مشن جاری کرنا مظلوموں کی آواز بننے پر فخر محسوس ہورہا ہے۔یہ بھی ایک انقلاب وقت کی تصویر ہے کیونکہ زندہ جو ہیں ضمیر زندہ جو ہیں۔یہاں رکاوٹیں کھڑی کرنا ناممکن نہیں لیکن انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے کیونکہ ہم پاکستان سے ،ہم پاکستانی جو ہیں۔