Wed, September 16, 2026

یہ دھواں ساکہاں سے اُٹھتا ہے

یہ دھواں ساکہاں سے اُٹھتا ہے

آج کل ہرچیز دھواں، دھواں ہے فضا میں گردوغبار دھوئیں کی سنگت میں ایسا نازاں ہواہے کہ پہلے توخرمن جاں یعنی سینے میں جلن ہوا کرتی تھی اس نے سانس بھی نحیف گردن میں روک رکھا ہے ایسے میں آنکھیں کیوں نہ جلیں وہ بھی ان کی جن کیلئے شاہ حسین نے کہہ رکھا ’’نی سیواسی نیناں دے آکھے لگے‘‘۔
رشتے کبھی اعتبار کے ہوا کرتے تھے آج کل وہ بھی دھواں دھواں ہیں…آئینے ایسے دھندلائے ہیں کہ ہزار بار کے دیکھے آشنا عکس بھی پہچانے نہیں جارہے۔ 
میربھی کیا خوب کہہ گئے ہیں…
دیکھ تو دل سے جاں سے اُٹھتا ہے 
یہ دھواں سا کہاں  سے اُٹھتا ہے
یوں تو اس دھوئیں کے ظاہری اسباب کا سدباب کرنے کی کاوشیں ہیں مگر تقابل گزشتہ حکومت کے دھوئیں سے ہے یہ بھی کہا جاسکتا ہے گزشتہ والوں کا دھواں زیادہ زہریلا اور گہرا تھا بہ نسبت موجودہ والوں کے …
سیاست دانوں کی مجبوری کہ ’’چنگ چی‘‘ جیسی خوفناک آوازوتشخص والی چیز کو اس لیے ختم نہیں کرسکتے کہ غربت کارڈ کھیلا جائے گا اورجس کے نتیجے میں غریبوں کے ووٹوں کو اپوزیشن کے نعروں میں مواد مل جائے گا۔ 
ریڑھی بازاروں کوتو خوبصورت بنادیا گیا مگر پرانی طرز کی ’’ریڑھیاں‘‘آج بھی کونوں کھدروں سے نکل کر کلاسیکل روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اگر جدیدطرز زندگی کے رسیا موجود ہیں تو ماضی پرست خطے میں پرانی مشکل ترین زندگی کو یاد کرنے والے کہیں زیادہ ہیں جو جدید واش رومز کی برائی کرتے ہوئے پرانی ’’ نالیاں یاد کرتے ہیں چارپائیاں مچھر دانیاں اور رشتے داروں کے انبار ایک موبائل فون نے کیا کیا ختم کررکھا ہے تمام رشتے دار ایک مشترکہ فون کال میںنپٹ جاتے ہیں اور اگر اتنا بھی ٹائم نہ ہوتو فیس بک کا ’’ویہڑہ‘‘ کس لیے ہے ایک ہی نظر میںسارے فیملی پیکج پر نظر پڑجاتی ہے کون بیمار کون گزر گیا کون جہاز میں کون اپنے وطن کی گلیوں میں جوتے چٹخا رہا ہے۔ 
باقی کیفیات کی جانچ کیلئے وٹس ایپ کا سٹیٹس کافی ہے نوجوانوں اور عاشقوں کیلئے سینپ چیٹ ماڈرن لوگوں کیلئے انسٹاگرام اور نہ جانے کیا کیا الا بلا۔ 
یہ مندرجہ بالا جتنے بھی سمعی بصری معاونات میں نے گنوائے ہیں یہ بھی بالآخر دھواں دھار تعلق سے شروع ہوکر آنکھوں کا دھواں بن جاتے ہیں۔ 
کبھی لکھا تھا…
ذات کے خول میں دھونی سی مچا رکھی ہے 
گھر کے اندر ہی کہیں آگ لگارکھی ہے 
تویہ سلسلہ روئی کے’’پینچے ‘‘ میں ’’دھنک دھنک‘‘کر سانسوں کی ’’کپاہ‘‘ کو تار تار پروتارہتا ہے صوفیوںنے تو سانسوں کا چرخا کہا مجھے ہمیشہ سردیوں کی آمد پر روئی دھنکتے ’’پینجے‘‘سے زندگی کی مشابہت لگی ۔
آج کل تو گردوغبار اور دھوئیں کوزمین پربٹھانے کے لئے توپ کی شکل والی اینٹی سموگ گن گھوم پھر رہی ہیں جنہیں دیکھ کر مجھے بچپن کی وہ آنٹیاں یاد آجاتی ہیں جو گھر گھر آگ لگاکر پانی بھی ڈالا کرتیں۔ 
مگر دھواں ہے کہ ان ’’گنز‘‘ کی پرواز سے اوپر ہی اوپر پرواز کررہاہے۔ 
’’پھوار‘‘ پڑتی تو ہے مگر دھواں اس کی رسائی سے باہرنکل جاتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے غم معالج کی رسائی سے باہر نکل جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایلوپیتھی درد کی وجہ کو ختم نہیں کرتی درد کو دبا دیتی ہے جبکہ ہومیوپیتھی درد کے مرکز یعنی معدہ جگر پتے تک پہنچ کے اس پرزے کومرمت کرتی ہے جہاں سے درد کا دھواں اٹھ رہاتھا یہی مقدر شہروں کا بھی ہے ان کا بھی ایلوپیتھی علاج ہورہا جہاں درد اٹھا وہاں پیناڈول کی ڈور مار دی اس کے وسیع تر پلان کو کون تیار کرے کون ہے جو نئے بننے والے دفاتر پر پابندی لگائے کہ وہ شہروں سے باہر ہوں گے آبادی کا کثیر دباؤ باہر نکالنے کیلئے سیکرٹریٹ اور عدالتوں کے ذیلی بنچ دیگر شہروں میں قائم کرے کون یہ حکم دے کہ جو بھی نئے سکول کی چین بنانا چاہے وہ شہر کو جغرافیائی تقسیم سے بنائے تاکہ ہرعلاقے کے بچے اپنے ہی بلاک میں پڑھیں کیا شہروں میں، پارکوں سکولوں اور ہسپتالوں کے علاوہ بھی دفاتر ہونے چاہئیں؟ کیا آبادی کا بہاؤآؤٹ ورڈ (باہر کی طرف) نہیں ہونا چاہئے اور کیا اتنی ٹرانسپورٹ کا شہر کے اندر ہی غدر مچائے رکھنا ضروری ہے ؟ لوگ یا دفاتر وکاموں پر نکلتے ہیں اگر وہ شہر سے باہر کی سمت ہوں تو ٹریفک کا دباؤ اندر کم نہیں ہوگا کیا ؟
 ایک مرتبہ تو شہر سے خراب وہیکل رکشے اور چنگ چئیاں ختم کرنا ہوں گی وہیکلز کی باقاعدہ کلیئرنس اور بے تحاشہ پبلک ٹرانسپورٹ جوعوامی ضرورت سے بھی زیادہ ہے کے ہوتے ہوئے دھواں دار پر شور ایکسیڈنٹ کا باعث خوفناک انداز میں چلتی نہ چھوٹی چھوٹی لوڈرزجو ایک موٹر سائیکل کے انجن پر دس انسان بٹھا کر چل رہی ہوتی ہیں ختم کرکے متبادل روز گار جیسے سپیڈوبس اور الیکٹرک بسوں کے عملے میں بھرتی کیا جاسکتا ہے اللہ اللہ کرکے لاہور کی گھوڑے تانگوں سے جان چھوٹی تھی کیا پتہ تھا کہ نائیزپولوشن سے بھرپور دھواں دار یہ ایک ہی فیکٹری سے نکل کر آئے ہوئے ڈرائیور والی بلائیں زمین پر اودھم مچانا شروع کردیں گی۔     

ٹیگز: