Wed, September 16, 2026

کاروباری افراد کی فیلڈ مارشل و وزیر اعلیٰ پنجاب کو دعائیں

کاروباری افراد کی فیلڈ مارشل و وزیر اعلیٰ پنجاب کو دعائیں

کبھی کبھی شہر کا مزاج بدلتا ہے تو لگتا ہے جیسے ہوا میں بھی سکون گھل گیا ہو۔ چند دن پہلے ایک فیکٹری مالک کے ہاں جانا ہوا۔ ہمیشہ کی طرح یہ سوچ کر گیا کہ گیٹ کے سامنے بندوق بردار محافظ کھڑے ہوں گے، اندر جاتے ہی ہر کونے سے مسلح پہریدار جھانکیں گے، اور میزبان خود بھی کسی خفیہ خوف کے حصار میں ہوں گے۔ مگر اس بار منظر مختلف تھا۔ دروازے کے باہر نہ کوئی گارڈ، نہ اسلحے کی نمائش، نہ چوکیداروں کا شور۔ صاحب خود ہنستے ہوئے استقبال کو آگے بڑھے۔ میں نے حیرت سے پوچھا، "یہ امن کا ماحول کہاں سے آگیا؟" وہ مسکرائے اور بولے، " فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کو دعا دو، اب ڈر ختم ہو گیا ہے۔"میں نے پوچھا، "مریم نواز اور تمہاری فیکٹری کی حفاظت کا کیا تعلق؟"۔
کہنے لگے، "پہلے بھتہ مانگنے والے، اغوا کرنے والے اور بدمعاش ہر ہفتے یاد دلاتے تھے کہ ہم یہاں کے اصل حاکم ہیں۔ اب سی سی ڈی والوں نے ان کا قلع قمع کر دیا ہے۔ کچھ پکڑے گئے، باقی بھاگ گئے۔ شہر سکون میں ہے، کاروبار چل رہا ہے، لوگ ڈر کے بغیر کام پر جاتے ہیں۔"
یہ گفتگو میرے لیے حیرت انگیز تھی۔ وہ شہر، جس کی شامیں کبھی خوف کے سائے میں ڈوبی رہتی تھیں، وہاں اب لوگ رات گئے تک چائے خانوں پر بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ لاہور کے بڑے کاروباری حضرات گھر سے نکلنے سے پہلے اسلحہ بردار قافلہ ساتھ رکھتے تھے۔ فیکٹریاں چلانے والوں کو فیکٹری سے زیادہ فکر اپنی جان کی ہوتی تھی۔ جرائم کا یہ جال کسی ایک شہر تک محدود نہ تھا، پورا پنجاب ان گروہوں کے رحم و کرم پر تھا جو خود کو "ناقابلِ گرفت" سمجھتے تھے۔پنجاب میں بدمعاشی کا ایک نظام تھا، جس کے تانے بانے تھانوں سے ہو کر عدالتوں اور کبھی کبھی سیاسی دروازوں تک پہنچتے تھے۔ بڑے ناموں کے سائے میں چھوٹے غنڈے پروان چڑھتے رہے۔ ایک طرف عام شہری دن دیہاڑے لوٹے جاتے، دوسری طرف مجرم شام کو کسی طاقتور کی گاڑی میں ساتھ بیٹھے نظر آتے۔ پولیس بے بس تھی، عوام مایوس۔پھر منظر بدلا۔
ایک خاموش مگر فیصلہ کن حکمتِ عملی کے تحت پنجاب پولیس میں "کاؤنٹر کرائم ڈویژن" یعنی سی سی ڈی نے کام شروع کیا۔ یہ ایک نئی سوچ کا آغاز تھا کہ جرائم کو  قانون کی برتری سے ختم کیا جائے۔یہ کام خیبر پختونخوا میں ہونا چاہئے تھا جہاں پولیس تک کو یر غمال بنا لیا جاتا ہے، اس کی ضرورت بلوچستان میں ہے ،اس کا انتظار کراچی میں کیا جا رہا ہے  لیکن سب سے پہلے وزیر اعلیٰ مریم نواز نے انتظامی سطح پر وہ سیاسی پشت پناہی فراہم کی جس کے بغیر کوئی اصلاحی پالیسی دیرپا نہیں رہ سکتی۔ اب احتساب نیچے سے نہیں اوپر سے شروع ہو گیا ہے،نتیجہ حیرت انگیز تھا: جرائم کی شرح پچھہتر فیصد تک نیچے آگئی۔ اغوا برائے تاوان، ڈکیتی اور بھتہ خوری تقریباً ناپید ہو گئی۔ جن گلیوں میں خوف بولا کرتا تھا وہاں اب اعتماد بولتا ہے۔ بدمعاش ایک برانڈ بن چکے تھے، ان کے علاقے اور بے بس لوگ کلائنٹ کہلاتے ۔اب یہ بدمعاش پکڑے جا چکے یا فرار ہو گئے ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ شہری زندگی کے بدلتے رنگ ہیں۔اب لاہور کے ایک شہری سے پوچھیں کہ شہر کے بڑے بدمعاش کتنے رہ گئے ہیں، تو وہ انگلیوں پر گنتے ہوئے کہے گا "بمشکل بیس۔"دوکروڑ کی آبادی میں صرف بیس لوگ!۔
سوچیں، کتنے سال تک یہ بیس لوگ پورے شہر کو یرغمال بنائے بیٹھے تھے۔ ان کے نیچے درجنوں "چھوٹے کارندے" تھے جن کا کام محض مفت کھانا کھانا، کسی ہوٹل میں مفت نشست حاصل کرنا، یا اپنی "گلی کی حکومت" چلانا تھا۔ مگر جب بڑے پکڑے گئے تو چھوٹے خودبخود غائب ہو گئے۔ پہلے عام شہری یہ سمجھتے تھے کہ بدمعاشی ایک لازم برائی ہے، جس کے بغیر کاروبار، سیاست یا روزمرہ زندگی ممکن نہیں۔ لیکن آج وہی شہری حکومت کو دعائیں دے رہے ہیں۔ "فیلڈ مارشل عاصم منیر" اور "وزیر اعلیٰ مریم نواز" کا ذکر اب خوف کے نہیں، اطمینان کے لہجے میں کیا جاتا ہے۔یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ طاقتور اور کمزور دونوں ایک ہی سمت دیکھ رہے ہیں۔
طاقتور خوش ہیں کہ ان کا سرمایہ محفوظ ہے، کمزور مطمئن ہیں کہ ان کی جان سلامت ہے۔ عورتیں بازار میں بے خوف نکلتی ہیں، مزدور شام کے بعد بھی مزدوری ڈھونڈ سکتا ہے اور کاروباری طبقہ بغیر بھتہ دئیے کام چلا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔اس کے پیچھے وہ انتظامی نظم ہے جس نے پولیس کے ہر افسر کو یہ احساس دلایا کہ جرم پر آنکھ بند کرنے کی قیمت اب نوکری یا عزت سے چکانا ہو گی۔ وہ وقت گزر گیا جب کوئی تھانے دار بدمعاش کے اشارے پر تفتیش روکتا تھا۔ آج وہی تھانے دار شہری کی شکایت کو اپنی عزت سمجھتا ہے۔لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان  ہر شہر کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے۔ ایک لمبے عرصے بعد شہریوں نے محسوس کیا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ فیکٹری مالک کی مسکراہٹ اسی اعتماد کا عکس ہے۔ وہ جو کل تک دیواروں کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا، آج اپنے دفتر کے دروازے پر کھڑا مہمان کا استقبال کرتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہے؟۔
اگر واقعی پورے لاہور میں صرف بیس بدمعاش باقی ہیں،یا پنجاب میں سو ڈیڑھ سو ہیں تو کیوں نہ مسئلے کو جڑ سے پکڑا جائے؟ ۔ حکومت کو یہ احساس رکھنا ہوگا کہ امن ایک زندہ عمل ہے، یہ روز بروز کمزور یا مضبوط ہوتا ہے۔ اگر آج قانون نے سر اٹھایا ہے تو کل کو غفلت دوبارہ بدمعاشی کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ موقع ہے کہ پنجاب کو مستقل امن کی راہ پر ڈالا جائے۔ جہاں تھانے انصاف کی علامت ہوں، عدالت خوف کے نہیں یقین کے ستون بنیں اور شہری کو اپنی عزت کے لیے کسی محافظ کی ضرورت نہ رہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پالیسی اور مریم نواز کی عملیت پسندی نے ایک نئی مثال قائم کی ہے  کہ اگر نیت صاف ہو اور ریاست کا رخ درست سمت میں ہو تو جرائم کے اژدہا کو بھی قابو کیا جا سکتا ہے۔آخر میں میں نے فیکٹری مالک سے پوچھا: "اب تمہیں کیا لگتا ہے، یہ امن کب تک رہے گا؟"وہ ہنسے اور بولے: "جب تک حکومت اپنی آنکھوں سے شہر کو دیکھتی رہے گی اور جب تک قانون کے ہاتھ کسی پر لرزیں گے نہیں، تب تک یہ امن باقی رہے گا۔" یہ جملہ میرے دل میں نقش ہو گیا۔امن کوئی تحفہ نہیں، یہ نظم و عدل کا پھل ہے۔اور شاید ہم پہلی بار وہ موسم دیکھ رہے ہیں جہاں انصاف نے خوف پر غلبہ پایا ہے۔

ٹیگز: