Wed, September 16, 2026

مودی کی 'یک طرفہ' خارجہ پالیسی بھارت کے لیے معاشی خطرہ بن گئی: امریکی جریدے کی رپورٹ

مودی کی 'یک طرفہ' خارجہ پالیسی بھارت کے لیے معاشی خطرہ بن گئی: امریکی جریدے کی رپورٹ

واشنگٹن/نئی دہلی:  امریکی جریدے 'ڈی سی جرنل' نے بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل نوازی اور ایران مخالف رویے نے بھارت کے سٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی غیر متوازن پالیسیوں کے باعث بھارت کو بین الاقوامی سطح پر درج ذیل چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
 جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ مودی کی پالیسیاں خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں بھارتی ورکرز کے روزگار اور ویزا کے عمل پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں، جس سے بھارت کو ملنے والے زرمبادلہ (Remittances) میں کمی کا خدشہ ہے۔بھارت کی نیتن یاہو حکومت سے بڑھتی ہوئی قربت کی وجہ سے اسے اب خطے میں ایک 'اسرائیل نواز سکیورٹی کیمپ' کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے عرب دنیا اور بھارت کے روایتی تعلقات کو مشکوک بنا دیا ہے۔
ایران مخالف صف بندی سے بھارت کے توانائی کے شعبے اور خطے میں اس کے طویل المدتی سٹریٹجک منصوبوں کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ڈی سی جرنل کے مطابق، مودی کی 'غیر متوازی' خارجہ پالیسی نے بھارت کے لیے معاشی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا نہ کیا تو اسے مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں اور توانائی کے وسائل تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹیگز: