Wed, September 16, 2026

 چین کے پاس عالمی چودھراہٹ کا آخری موقع

 چین کے پاس عالمی چودھراہٹ کا آخری موقع

مشرقِ وسطیٰ کی فضائیں اس وقت بارود کے دھوئیں سے بوجھل ہیں اور بحیرہ ہند کی لہریں انسانی لہو سے رنگین ہو رہی ہیں۔ سری لنکا کے قریب امریکی آبدوز کے ہاتھوں ایرانی جنگی جہاز کی تباہی اور سو سے زائد جانوں کا ضیاع محض ایک فوجی کارروائی نہیں، بلکہ یہ بیجنگ کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ دنیا اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کا توازن بدل رہا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین، جو خود کو مستقبل کی واحد سپر پاور کے طور پر پیش کرے گا یا اس نازک وقت میں صرف "مذمتی بیانات" کے پیچھے چھپا رہے گا؟۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک محض معاشی ترقی یا تجارتی راہداریوں (جیسے سی پیک) سے سپر پاور نہیں بنتا۔ سپر پاور ہونے کا اصل ثبوت تب ملتا ہے جب وہ اپنے اتحادیوں کی بقا کے لیے میدانِ عمل میں آئے۔ ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ نشانے پر ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور امریکی جارحیت نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا ارادہ تہران کی اینٹ سے اینٹ بجانا ہے۔ ایسے میں چین کی خاموشی یا "تحمل کی اپیلیں" اس کے اپنے عالمی قد کاٹھ کو چھوٹا کر رہی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ محض ایران کو تباہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ اس 'بیلٹ اینڈ روڈ' منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے بھی ہے جس پر چین نے اربوں ڈالر لگائے ہیں۔ اگر ایران کا دفاعی ڈھانچہ، اس کے میزائل پلیٹ فارمز اور اس کی قیادت (جیسا کہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں) ختم کر دی گئی، تو چین کا مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا۔ کیا بیجنگ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایران کے بعد اگلا نشانہ خود اس کے مفادات ہوں گے؟۔
چین کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ اگر وہ واقعی امریکہ کی عالمی اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے اور ایک (New World Order) کا علمبردار ہے، تو اسے ایران کا ساتھ دے کر امریکہ اور اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملانا ہوگا۔ اب وقت صرف سفارتی خطوط لکھنے کا نہیں، بلکہ ایران کو وہ جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری تعاون فراہم کرنے کا ہے جس سے امریکی جارحیت کا راستہ روکا جا سکے۔
ایران ایک اسلامی ملک ہے، اور امتِ مسلمہ اس وقت کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ جہاں مسلم ممالک کو "کفار" کے جھانسے سے نکل کر متحد ہونے کی ضرورت ہے، وہیں چین کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ایسا دوست ہے جو مشکل وقت میں پیٹھ نہیں دکھاتا۔ اگر چین آج ایران کو تنہا چھوڑ دیتا ہے، تو کل کوئی بھی ملک اس کی قیادت پر بھروسہ نہیں کرے گا۔
بیجنگ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ "سپر پاور" بننے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ اگر چین آج ایران کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا نہیں ہوتا اور امریکہ و اسرائیل کی اس مشترکہ یلغار کو ناکام نہیں بناتا، تو تاریخ اسے ایک ایسے "معاشی دیو" کے طور پر یاد رکھے گی جو فوجی ہمت سے محروم تھا۔ چین کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ ایران کا دفاع کر کے امریکہ کی عالمی چودھراہٹ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے اور دنیا کو بتائے کہ اب فیصلے واشنگٹن میں نہیں، بلکہ بیجنگ میں ہوتے ہیں۔
فقط بیانات سے نہیں، میدانِ جنگ میں جرأت دکھا کر ہی تاریخ بدلتی ہے۔

ٹیگز: