’’وہ دیکھو… پھر بمباری شروع ہو گئی۔ کل بھی چھوٹے بچے شہید ہوئے تھے۔‘‘
پہلا فرشتہ غمگین آواز میں بولا۔ اس کی نگاہیں زمین کے اس خطے پر جمی تھیں جسے دنیا فلسطین کے نام سے جانتی ہے۔
’’وہ دیکھو، وہ ننھا سا لڑکا اپنے باپ کے جنازے پر رو رہا ہے۔ اس کے باپ کو بھی کل شہید کر دیا گیا تھا۔ انسان ایسا کیوں کر رہا ہے؟ کیا صرف زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے؟‘‘
دوسرا فرشتہ خاموشی سے یہ منظر دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا:
’’خون ریزی اور فساد انسانی جبلّت کا حصہ بن چکا ہے۔ جب بابا آدم کو تخلیق کیا گیا تھا تو ہم نے بھی عرض کیا تھا کہ کیا آپ ایسے کو پیدا کریں گے جو زمین میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا؟ مگر اللہ بہتر جانتا ہے انسان کی حقیقت کو۔‘‘
ہزاروں برس گزر گئے، مگر انسان کی تاریخ کا بیشتر حصہ جنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ زمانہ جاہلیت سے لے کر جدید دور تک، انسان نے اپنے ہی جیسے انسانوں کو قتل کیا۔ کبھی کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے، کبھی بستیاں صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں۔ سلطنتوں کے نام پر، نظریات کے نام پر، نسل اور رنگ کے نام پر انسان نے انسان کا خون بہایا۔
آج کا انسان خود کو ترقی یافتہ کہتا ہے۔ وہ چاند پر قدم رکھنے اور مریخ پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھتا ہے، مگر زمین پر امن قائم کرنے میں ناکام ہے۔ اس نے علم حاصل کیا، مگر کیا وہی علم؟ جس کی بنیاد پر اسے اشرف المخلوقات کہا گیا تھا؟
یہ کیسا علم ہے جو ایٹم بم بناتا ہے؟ یہ کیسی تحقیق ہے جو حیاتیاتی ہتھیار ایجاد کرتی ہے؟ یہ کیسی ترقی ہے جو بٹن دبانے سے شہروں کو راکھ بنا دیتی ہے؟
پہلا فرشتہ اس سوال پر چپ نہ رہ سکا:
’’کیا یہی وہ علم ہے جو انسان کو فرشتوں سے برتر بنانے کا سبب بنا تھا؟‘‘
دوسرا فرشتہ پھر خاموش ہو گیا۔ اس کی نگاہیں دوبارہ فلسطین کی خون آلود زمین کی طرف اٹھ گئیں، جہاں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی تھیں، جہاں ماؤں کی چیخیں اور بچوں کی سسکیاں فضا میں گونج رہی تھیں۔
پہلا فرشتہ دوبارہ گویا ہوا:
’’یہ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ انہی کے بھائی، انہی کے بچے قتل ہو رہے ہیں۔ یہ تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟‘‘
دوسرا فرشتہ، جو زمانوں کا اتار چڑھاؤ دیکھ چکا تھا، بولا:
’’جب انسان عیش و عشرت میں ڈوب جائے، جب دولت کی ہوس اس کے سر پر سوار ہو جائے، جب حلال اور حرام کی تمیز مٹ جائے، تو اس کے دل سے انسانیت رخصت ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اشرف المخلوقات نہیں رہتا، بلکہ اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔‘‘
انسان کی اصل آزمائش طاقت میں نہیں، کردار میں ہے۔ علم میں نہیں، عدل میں ہے۔ اگر علم انسان کو رحم، انصاف اور امن نہ سکھا سکے تو وہ محض تباہی کا ہتھیار بن جاتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ بمباری کون کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسانیت کہاں کھڑی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر چکے ہیں، یا صرف اپنے قتل کرنے کے طریقے جدید بنا لیے ہیں؟
اور شاید آسمانوں پر آج بھی کوئی فرشتہ یہی سوچ رہا ہو کہ انسان کب اپنے مقام کو پہچانے گا۔