Wed, September 16, 2026

ایرانی نظام اب تک کیوں قائم ہے

ایرانی نظام اب تک کیوں قائم ہے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور بینجمن نیتن یاہو کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ ہولناک عسکری حملوں کا فیصلہ عالمی سیاست میں ایک نئی صف بندی کا پیش خیمہ بن رہا ہے۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی محض ایک فوجی مہم جوئی ہی نہیں بلکہ طاقت، مفادات، نظریات اور عالمی قیادت کے دعوؤں کی آزمائش ہے۔  اسرائیل طویل عرصے سے طاقتور نظریاتی ایران کو اپنی قومی سلامتی کے لیے وجودی خطرہ  سمجھتا آیا ہے، جبکہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تزویراتی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔  اس جنگ کا اصل ایجنڈا ایران کو عسکری طور پر انتہائی کمزور کرنا، اس کی دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا اور داخلی سیاسی تبدیلی کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔ یہاں تک کہ برسوں سے امریکہ اور اسرائیل یک زبان ہو کر تواتر سے ایرانی نظریاتی نظام حکومت کو تبدیل کرنے کی سوچ کھلے لفظوں میں بیان کرنے لگے ہیں۔
یہ تو طے ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے ایران جیسی مضبوط نظریاتی ریاست کو نہیں جھکا سکتے ۔ ایران ایک منظم ریاستی ڈھانچہ، فعال عسکری قوت اور گہری نظریاتی وابستگی رکھنے والی قوم کا ملک ہے۔ اس کے  اتحادی مختلف ممالک میں موجود ہیں، جو کسی بھی تصادم کو وسیع تر جنگ میں بدل سکتے ہیں۔ اگر جنگ محدود فضائی حملوں تک رہتی ہے تو ممکن ہے امریکہ اور اسرائیل کچھ عسکری اہداف حاصل کر لیں، لیکن اگر ایران بھرپور جواب دیتا ہے تو یہ تنازع ایک طویل اور غیر یقینی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بیرونی دباؤ اکثر داخلی اتحاد کو مضبوط کر دیتا ہے، جس سے سیاسی تبدیلی کے امکانات مزید کم ہو جاتے ہیں۔
اس جنگ کی ہولناکی کی قیمت ایران ہی نہیں امریکہ اور اسرائیل کو بھی ادا کرنا پڑے گی۔ ایران شدید معاشی دباؤ میں ہے تو امریکہ بھی داخلی سیاسی تقسیم، معاشی دباؤ اور عالمی سطح پر ساکھ کے مسائل سے دوچار ہے۔ یہ جنگ امریکہ میں آئندہ مڈ ٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کی کہانی بیان کر رہی ہے۔ اسرائیل میں نئے پارلیمانی انتخابات کا وقت ہو چکا ہے۔ ان انتخابات میں شکست کے خوف سے نیتن یاہو جنگوں کا سہارا لے رہا ہے تاکہ انتخابات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نیتن یاہو کو انتخابات میں واضح شکست , گرفتاری اور قید کا خوف لاحق ہے۔ غزہ پر  اسرائیلی حملوں کی حمایت کی قیمت 
امریکی صدر جو بائیڈن, برطانوی وزیراعظم رشی سونک اور فرانسیسی صدر نے چکائی تھی۔  
یہ جنگ اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات کا باعث بنے گی اور امریکی اور اسرائیلی عوام میں سوالات کو جنم دے گی کہ کیا یہ جنگ واقعی انکے قومی مفاد میں ہے؟ ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کا نعرہ دینے والے ٹرمپ کیلئے بیرونی محاذ پر ایک اور طویل جنگ امریکہ میں اس پالیسی سے انحراف سمجھی جا رہی ہے۔ وسائل بیرونی محاذ پر خرچ ہوں گے تو داخلی ترقیاتی منصوبے تو بہت بری طرح سے متاثر ہوں گے اور ٹیکسوں کا بوجھ عوام برداشت کریں گے جس کا ٹرمپ اور حکمران جماعت کو سیاسی نقصان  ہو گا۔
اسرائیل کیلئے بھی یہ جنگ آسان نہیں ہوگی۔ ایران یا اس کے اتحادی اگر براہِ راست یا پراکسی حملے کرتے ہیں تو اسرائیلی شہروں کی سلامتی ٹھیک ٹھاک خطرے میں پڑ جائیگی۔ طویل جنگ اسرائیلی معیشت، سرمایہ کاری اور سماجی استحکام پر تیزی سے منفی اثر ڈالے گی۔ گزشتہ برس میزائلوں کے خوف سے ایک لاکھ دولت مند اسرائیلی ملک چھوڑ کر چلے گئے۔  اسرائیل میں داخلی سطح پر بھی اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں، خصوصاً اگر جنگ متوقع نتائج نہ دے سکی۔
ایک اور سنگین امکان یہ ہے کہ اگر ایران اس جنگ کو اپنے جغرافیے تک محدود رکھنے کی بجائے اسے امریکہ یا اسرائیل کے اندر منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو امریکی اور اسرائیلی سلامتی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایرانی سائبر حملے، پراکسی کارروائیاں اور غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی ایک ایسے دور کا آغاز کر سکتی ہیں جس میں روایتی جنگی حدود بے معنی ہو جائیں۔ ایسی صورت میں یورپ، خلیجی ریاستیں اور جنوبی ایشیا بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔
اس صورتحال سے روس اور چین سفارتی اور تزویراتی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں مصروفیت ایشیا پیسیفک میں اس کی توجہ کم کر سکتی ہے، جس سے چین کو اپنے علاقائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں روس کیلئے  معاشی فائدے کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ مغربی اتحاد میں ممکنہ اختلافات بھی ماسکو کیلئے  سودمند ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی عدم استحکام کسی بڑی معیشت کیلئے مکمل طور پر فائدہ مند نہیں ہوتا۔
پاکستان اور چین کیلئے اس جنگ کے مضمرات نہایت پیچیدہ ہیں۔ چین کو توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان کیلئے  صورتحال مزید حساس ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی ممالک سے قریبی تعلقات اور داخلی فرقہ وارانہ حساسیت اسے توازن قائم رکھنے پر مجبور کریں گے۔ جنگ طویل ہوتی ہے تو پاکستان میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، بالخصوص اگر علاقائی کشیدگی داخلی عناصر کو متحرک کر دے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے اہم منصوبے بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کار استحکام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر خطہ مسلسل کشیدگی کا شکار رہا تو سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی سرگرمیوں اور تجارتی توازن پر بھی اثر انداز ہوگا۔ اسکے علاوہ سکیورٹی اخراجات میں اضافہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے  مختص وسائل کو محدود کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم سوال قیادت کی بصیرت کا ہے۔ جنگی فیصلے وقتی سیاسی فائدہ دے سکتے ہیں، مگر انکے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ جنگ سے قبل امریکہ اور ایران کے مابین سفارت کاری کے تمام راستے بند نہیں ہوئے تھے۔ امریکہ کی جانب سے مذاکرات، ثالثی اور عالمی اداروں کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہی نہیں گئی تھی ۔
 طاقت کے استعمال کو مسئلے کا واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملہ ایک ایسے سلسلے کا آغاز ہے جس کے اثرات طویل المدتی اور دور رس ہوں گے۔ ممکن ہے کچھ عسکری اہداف حاصل ہو جائیں، مگر سیاسی اور تزویراتی سطح پر کامیابی یقینی نہیں۔ اسکے برعکس عالمی معیشت، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
 پاکستان جیسے ممالک کیلئے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ وہ متوازن خارجہ پالیسی، داخلی استحکام اور سفارتی فعالیت کو ترجیح دیں۔ عالمی قیادت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگیں شروع کرنا آسان مگر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ طاقت کا استعمال وقتی برتری دے سکتا ہے مگر پائیدار امن صرف مکالمے، تحمل اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ اگر عقل و دانش غالب نہ آئی تو یہ تنازع ایک ایسے دائرے میں داخل ہو سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ دنیا کو آج محاذ آرائی نہیں بلکہ تدبر، ذمہ داری اور دور اندیش قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

ٹیگز: