یہ سوال کہ کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا امکان حقیقت بن سکتا ہے محض ایک قانونی نکتہ نہیں بلکہ امریکی سیاست کے گہرے تضادات، ادارہ جاتی کشمکش اور عالمی طاقت کی سمت کا عکاس ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ابتدا ہی سے روایتی امریکی سیاسی اقدار کو چیلنج کرتی رہی ہے۔ وہ خود کو سٹیٹس کو کے خلاف ایک عوامی لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر ان کے ناقدین کے نزدیک وہ اداروں کی ساکھ، جمہوری آداب اور عالمی اعتماد کو بری طرح سے نقصان پہنچانے والے امریکی رہنما ہیں۔ یہی تضاد اس بحث کی بنیاد بنتا ہے کہ آیا ٹرمپ واقعی “امریکہ کو دوبارہ عظیم” بنا رہے ہیں یا ایک سپر پاور کو ناقابلِ تلافی نقصان کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
امریکی نظام میں مواخذہ محض سیاسی خواہش نہیں بلکہ ایک آئینی عمل ہے جس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت اور سینیٹ میں دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں یہ عمل پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی سیاست کتنی منقسم ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹرمپ کو انتخابی یا وسط مدتی (مڈ ٹرم) سطح پر سیاسی دھچکا لگتا ہے تو کیا یہ دباو¿ مواخذے کی نئی راہ ہموار کرے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ وسط مدتی انتخابات اکثر صدر کے لیے ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر عوامی رائے شدید طور پر مخالف ہو، کانگریس میں طاقت کا توازن بدلے اور ادارہ جاتی اعتماد مزید کمزور ہو تو مواخذے کی آوازیں تیز ہو سکتی ہیں۔ تاہم، امریکی سیاست میں پارٹی وفاداری اور پولرائزیشن اس قدر بڑھ چکی ہے کہ قانونی عمل سے زیادہ سیاسی سودے بازی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کے نزدیک ان کی پالیسیوں نے امریکی معیشت کو ترجیح دی، صنعتوں کو تحفظ فراہم کیا، امیگریشن پر سختی کے ذریعے قومی سلامتی کو مضبوط کیا اور “امریکہ فرسٹ” کے نعرے کو عملی شکل دی۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ عالمی اداروں اور اتحادیوں پر غیر متوازن بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹرمپ نے امریکی مفاد کو مرکزیت دی۔ مگر ناقدین کے مطابق اسی طرزِ فکر نے اتحادیوں کو بدظن، عالمی نظام کو کمزور اور امریکی ساکھ کو دھچکا پہنچایا۔ خارجہ پالیسی میں غیر متوقع بیانات، سفارتی آداب سے انحراف اور داخلی طور پر اداروں سے ٹکراو¿ نے امریکہ کو ایک منقسم معاشرے میں بدل دیا جہاں اعتماد کی جگہ تصادم نے لے لی۔
یہاں سوال یہ بھی ہے کہ ٹرمپ کے بعد امریکہ کہاں کھڑا ہوگا؟ ایک پہلو یہ ہے کہ امریکی ادارے.... عدلیہ، کانگریس، میڈیا اور سول سوسائٹی.... اتنے مضبوط ہیں کہ کسی ایک شخصیت کے باعث نظام ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ٹرمپ کا دور ایک عارضی جھٹکا ہے جس کے بعد نظام خود کو ایڈجسٹ کر لے گا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے جس پولرائزیشن کو معمول بنایا، وہ دیرپا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر سیاست مستقل طور پر شناختی تقسیم، نفرت انگیز بیانیے اور ادارہ دشمنی پر استوار ہو جائے تو سپر پاور ہونے کے باوجود داخلی کمزوری خارجہ طاقت کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اسی تناظر میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ کے مابین تقابل بھی ضروری ہے۔ یہ سوال کہ ”کون جائے گا.... ٹرمپ یا خامنہ ای؟“ دراصل شخصیات سے زیادہ نظاموں کا تقابل ہے۔ امریکہ میں قیادت تبدیلی کے آئینی اور انتخابی راستے موجود ہیں؛ ایران میں نظامِ ولایتِ فقیہ ایک مختلف سیاسی،مذہبی ڈھانچہ رکھتا ہے جہاں قیادت کی تبدیلی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ٹرمپ کی سیاست ایران کے خلاف سخت مو¿قف، پابندیوں اور دباو¿ پر مبنی رہی، جس کا مقصد ایرانی نظام کو جھکانا یا کمزور کرنا تھا۔ مگر بیرونی دباو¿ اکثر داخلی سختی کو بڑھاتا ہے اور اصلاحات کی گنجائش کم کر دیتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تبدیلی امریکہ میں آئے گی یا ایران میں؛ زیادہ حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ دونوں ممالک اندرونی تضادات اور بیرونی دباو¿ کے بیچ اپنے اپنے راستے پر چلتے رہیں گے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی سیاست میں قانونی جواز کے ساتھ عوامی تاثر بھی اہم ہوتا ہے۔ اگر ٹرمپ کے بیانیے کو عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی قبول کرتی ہے تو مواخذہ سیاسی انتقام کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے معاشرتی خلیج مزید گہری ہوگی۔ برعکس اس کے اگر شواہد، اخلاقی سوالات اور ادارہ جاتی خدشات عوامی رائے کو واضح طور پر متاثر کریں، تو مواخذہ ایک اصلاحی عمل کے طور پر پیش ہو سکتا ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں امریکہ کو ایک طویل سیاسی تھکن کا سامنا رہے گا۔
عالمی سطح پر ٹرمپ کی سیاست نے کثیرالجہتی نظام کو چیلنج کیا۔ نیٹو، تجارتی معاہدات اور ماحولیاتی ذمہ داریاں سب پر سوال اٹھے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ اور ایشیا میں خودمختار پالیسی سازی کی باتیں بڑھیں، جبکہ چین اور روس نے خلا کو پر کرنے کی کوشش کی۔ اگر امریکہ داخلی انتشار میں مبتلا رہے تو عالمی قیادت کا خلا مزید نمایاں ہوگا۔ تاہم، امریکی معیشت، ٹیکنالوجی اور عسکری قوت اب بھی اسے مرکزی مقام پر رکھتی ہیں. شرط یہ ہے کہ داخلی اتحاد بحال ہو۔
شخصیات عارضی ہوتی ہیں جبکہ ادارے مستقل۔ ٹرمپ ہوں یا علی خامنہ ای، طاقت کے استعمال میں اخلاقی حدود، ادارہ جاتی احترام اور سماجی ہم آہنگی بنیادی اصول ہیں۔ امریکہ ہو یا ایران، پائیدار استحکام بند کمروں کے فیصلوں یا محض دباو¿ سے نہیں آتا بلکہ شفافیت، عوامی شمولیت اور اصلاحات سے جنم لیتا ہے۔ اگر ٹرمپ کا دور امریکہ کو یہ سبق دے کہ پولرائزیشن کی سیاست آخرکار قومی مفاد کو بے حد کمزور کرتی ہے، تو یہ ایک مثبت انجام ہوگا مگر ٹرمپ کی ناقص عقل و محدود سیاسی فہم کی بدولت ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اور اگر ایران پر دباو¿ یہ احساس پیدا کرے کہ داخلی اور سماجی سطح پر لچک اور عوامی اعتماد کے بغیر ریاست مضبوط نہیں رہتی تو وہ بھی ایک تعمیری سمت ہو سکتی ہے مگر ایرانی قیادت کی سخت گیری کی وجہ سے ایسا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے۔
طاقت کا اصل امتحان مخالف کے نظام کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اپنے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ جو قیادت اداروں کو ساتھ لے کر چلتی ہے، اختلاف کو برداشت کرتی ہے اور عالمی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتی ہے، وہی تاریخ میں مثبت کردار کے ساتھ طویل عرصے تک یاد رکھی جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای میں سے اقتدار سے کون جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون سا نظام حالات کی سنگینی اور نزاکت سے سبق سیکھ کر قایم رہے گا.... امریکی یا ایرانی ؟ امریکی جارحیت یا ایرانی مدافعت؟ معروضی حالات سے سیکھنے کی یہی صلاحیت قوموں کی اصل عظمت کا پتہ دیتی ہے۔