Wed, September 16, 2026

معصوم نوجوانوں کا برین واش، خوارجی مراکز منشیات اور جرائم کے اڈے بن گئے:  نیٹ ورک کے اہم کارندے عمردین عرف جذبہ کا اعترافی بیان

معصوم نوجوانوں کا برین واش، خوارجی مراکز منشیات اور جرائم کے اڈے بن گئے:  نیٹ ورک کے اہم کارندے عمردین عرف جذبہ کا اعترافی بیان

راولپنڈی : پاکستانی سکیورٹی فورسز کی گرفت میں آنے والے فتنہ الخوارج کے اہم کارندے عمردین عرف جذبہ نے اپنے اعترافی بیان میں تنظیم کے اندرونی بھیانک حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ گرفتار خوارجی نے واضح کیا ہے کہ یہ گروہ اسلام اور شریعت کا نام صرف نوجوانوں کو ورغلانے اور انہیں ریاست کے خلاف استعمال کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔

عمر دین نے انکشاف کیا کہ جنوری 2025 میں گھریلو جھگڑے کا فائدہ اٹھا کر اسے اس گمراہ کن راستے پر ڈالا گیا۔ اس نے بتایا کہ خوارجی کمانڈروں کے گروپس میں60سے70افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے تربیت حاصل کرنے کے بعد شادی خیل بیس حملے اور کوٹہ خواہ روڈ دھماکے جیسی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

اپنے بیان میں اس نے تنظیم کے نام نہاد کمانڈروں کے اخلاقی دیوالیہ پن کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ خوارجی مراکز میں بڑے پیمانے پر منشیات کا دھندا ہوتا ہے اور کمانڈر لڑکوں کے ساتھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ عمر دین کے مطابق یہ نیٹ ورک کوئی مذہبی تحریک نہیں بلکہ ایک مجرمانہ گروہ ہے جو افغانستان سے ملنے والی فنڈنگ کے علاوہ بھتہ خوری، اسٹریٹ کرائمز اور اغوا برائے تاوان کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرتا ہے۔ اس نے ملکی نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے دجالی بیانیے سے دور رہیں۔

ٹیگز: