Wed, September 16, 2026

ٹیوٹا پاس آئوٹس کی بیرون ملک روانگی: برین ڈرین نہیں برین گین

ٹیوٹا پاس آئوٹس کی بیرون ملک روانگی: برین ڈرین نہیں برین گین

عمر فاروق صاحب ٹیوٹا کے ایک اہم شعبے کے نمبرون آفیسر ہیں۔ آپ نے ٹیوٹا کو 1998/99 ء میں بنتے دیکھا، اس کے ارتقاء میں اس کے ساتھ رہے، اس کی بنت، تعمیر اور ترقی کے عمل میں اس کے ہم سفر ہی نہیں بلکہ ہم راز بھی رہے۔ بنیادی طور پر ایک ذہین، محب وطن اور شفیق انسان ہیں۔ مثبت سوچ نے ساتھ ساتھ خلق ادارہ یعنی ادارے کے لوگوں کے لئے ہمدردانہ سوچ ہی نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ ٹیوٹا میں میری تعیناتی کے 16سالوں کے دوران مرے دوست کے طور پر پہچانے جاتے رہے ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ کارسرکار کو جاری و ساری رکھنے کے گر سیکھے اور یہ بھی سیکھا کہ خلق خدا کے لئے کس طرح بہتری کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ ٹیوٹا میں کئی ایسے مراحل آئے جب ٹیوٹا ایمپلائز کا کوئی مائی باپ نہیں تھا۔ عمر فاروق صاحب نے چپکے سے بغیر شور شرابہ کئے قواعد و ضوابط کو اس طرح مربوط کیا کہ ٹیوٹا ایمپلائز کو بہت فائدہ حاصل ہوا۔ ٹیوٹا کے تمام کنٹریکٹ ایمپلائز آج اگر ریگولر ہیں اور بہت سے ایمپلائز آج پنشن وصول کر رہے ہیں تو اس کا سارا نہ سہی لیکن بہت سا کریڈٹ عمر فاروق صاحب کو جاتا ہے جنہوںنے بڑی خاموشی سے مثبت انداز میں معاملات کو ایسا رخ دیا کہ کنٹریکٹ ایمپلائز ریگولر بھی ہو گئے اور پنشن کا اصول بھی لاگو ہو گیا۔ آج ہزاروں ایمپلائز ریگولر ہو چکے ہیں اور سیکڑوں ریٹائرڈ ملازمین پنشن کی سہولت سے مستفیذ ہو رہے ہیں۔
عمر فاروق صاحب ٹیوٹا کی کامیابیوں کے بارے میں بہت حساس ہیں وہ ایسی کامیابیوں کو تشہیر سے نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ خود بھی کاوشیں کرتے ہیں کہ ٹیوٹا کا امیج ایک قومی ادارے کے طور پر نمایاں رہے۔ انہوں نے گزشتہ روز مجھے کچھ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کلپس بھجوائے جن میں ٹیوٹا کے 74 پاس آئوٹس کے سعودی عرب برائے ملازمت جانے کی خبر کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میںملازمت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ٹیوٹا پاس آئوٹس کو سعودی عرب بھجوانے کے لئے ٹیوٹا نے منظم طریقے سے کاوشیں کیں۔ ٹیوٹا کے 24 اداروں میں کیمپ لگائے گئے جہاں 500 کے قریب پاس آئوٹس کو بلوایا گیا۔ سعودی عرب کے لوگوں نے ان کے انٹرویو کئے ان کی صلاحیتوں کو پرکھا اور جانچا اور پھر مختلف مراحل سے گزارے جانے کے بعد 74 پاس آئوٹس کو آف لیٹر جاری کر دیئے گئے۔ یہ ایک بہت بڑی اور قابل فخر کارکردگی ہے۔ شاید ہی پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ ہو جو ایسے 
پاس آئوٹس کو روزگار فراہم کرنے کے لئے اس قدر کاوشیں کرتا ہو گا جو اب بھی بیرون ممالک ہیں۔ یہ ٹیوٹا کا ہی اعزاز ہے کہ وہ اس طرح کے کام کرتا ہے، ویسے جب سے ٹیوٹا کی سربراہی بریگیڈئیر محمد ساجد کھوکھر کے ہاتھوں میں آئی ہے ۔ ٹیوٹا اپنے پوٹینشل کے مطابق آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ویسے میری ان سے کبھی بالمشافہ ملاقات تو نہیں ہوئی ہے لیکن مختلف ذرائع سے ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور ٹیوٹا کی ترقی کے بارے میں جو اطلاعات ملتی رہتی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیوٹا شاندار انداز میں آگے بڑھ رہا ہے نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کے وژن کے مطابق بلکہ ملکی و بین الاقوامی جاب مارکیٹ میں ہوتی ہوئی تبدیلیوں کے مطابق ٹیوٹا اپنے آپریشنز میں تبدیلیاں لا رہا ہے۔ دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہنے اور دستیاب وسائل سے بہترین نتائج حاصل کرنے کی کاوشیں جاری ہیں۔ بریگیڈئیر محمد ساجد کھوکھر صاحب بطور چیئرمین ٹیوٹا اپنی بھرپور کاوشوں کے ساتھ بہترین نتائج ظاہر کرنے میں مصروف ہیں اور ان کی زیر نظر پاس آئوٹس کو بیرون ملک بھجوانے میں کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان کی آبادی 25کروڑ 57لاکھ 58ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس میں 67فیصد 30سال اور اس سے کم عمر پر مشتمل ہے۔ 40فیصد آبادی 15 سال سے کم عمر پر مشتمل ہے۔ 34.39 فیصد لوگ شہروں اور 65.61 فیصد نفوس دیہاتوں میں بستے ہیں۔ 2017ء میں آبادی 20کروڑ 70 لاکھ تھی جس میں 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر پر مشتمل تھی۔ سردست معیشت کی شرح افزائش 3.2 فیصد سالانہ ہے جبکہ شرح افزائش آبادی 3.6 فیصد سالانہ ہے یعنی ہمارے ہاں فرٹیلیٹی ریٹ 3.6 فیصد ہے۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ معاشی گروتھ اور اقتصادی پھیلائو کے بغیر روزگار کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکتی ہے۔ زرمبادلہ کی کمی یعنی درآمدات کے لئے درکار مطلوبہ فارن ایکسچینج کی عدم دستیابی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہماری صنعتی ترقی کا انحصار درآمدی مال پر ہوتا ہے، اس کے لئے زرمبادلہ درکار ہوتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، کھانے کا تیل و دیگر اشیاء صرف واشیاء تعیش کی درآمدات پر بھی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ہمارا توازن تجارت ہو یا توازن ادائیگی عموماً بلکہ ہمیشہ ہی عدم توازن کا شکار رہا ہے۔ ہم اس میں بہتری کے لئے ہمیشہ زرمبادلہ کے حصول میں مشغول رہے ہیں۔
روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث نوجوانوں میں بیرون ممالک جانے کے رجحانات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ کچھ نوجوان بغیر مواقع سوچے سمجھے بغیر بھی بیرون ممالک جانے کی کاوشیں کرتے ہی غیر قانونی طور پر ایسا کرنے کے باعث نہ صرف ملک کی بدنامی ہوتی ہے بلکہ خوفناک حادثے بھی ہو جاتے ہیں۔ ٹیوٹا نے جاری معاشی صورتحال کے پیش نظر اپنے پاس آئوٹس کو روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور انہیں برسر روزگار بنانے کے لئے پلیسمنٹ سیل قائم کیا ہے تاکہ انڈسٹری اور اکیڈمیاں روابط و ضوابط کو موثر بنایا جائے۔ اس طرح نہ صرف مارکیٹ کی ضروریات کے عین مطابق ٹریننگ کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ پاس آئوٹس کو لوکل و عالمی مارکیٹ میں جاب دلانے کی منظم طریقے سے اور مسلسل کاوشیں کی جاتی ہیں۔ یہ ایک قومی خدمت بھی ہے۔ سال 2025ء میں ایسے ہی بیرون ممالک گئے ہوئے پاکستانیوں نے پاکستان 38 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ بھجوایا ہے۔ ہمارے زیادہ تر ورکر ہنرمند نہیں ہوتے ہیں، اس لئے انہیں پست درجے کی تنخواہیں ملتی ہیں۔ کچھ نیم ہنرمند ہوتے ہیں، ان کی شنوائی بھی نہیں ہوتی ہے، حد تو یہ ہے کہ جو ہنرمند ہوتے ہیں ان کے پاس کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہوتا ہے ، اس لئے وہ سب رلتے کھلتے محنت مزدوریاں کر کے وطن ڈھیر سارہ زرمبادلہ پہنچاتے ہیں۔ ہمارے ہاں صرف ٹیوٹا ہی ایک ایسا سرکاری ادارہ ہے جو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق صنعت و حرفت کو درکار ہنرمند تیار کرتا ہے۔ ٹیوٹا مشرق وسطیٰ، مشرق بعید، امریکہ اور یورپ میں مصروف اور مانے و جانے پہچانے اداروں کی سرٹیفکیشن کا بھی بندوبست کرتا ہے تاکہ ہمارے پاس آئوٹس کو بیرون ممالک روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہو۔
بریگیڈئیر محمد ساجد کھوکھر کے بارے میں بطور چیئرمین اچھا اور مثبت تاثر پایا جاتا ہے۔ ویسے بھی جو شخص پاک فوج میں ایک سٹار جنرل کے عہدے تک پہنچا ہو اس کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں تو شک تو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بریگیڈئیر صاحب ٹیوٹا کو ایک بڑے نازک دور میں چلا رہے ہیں۔ ایسا وقت جب ہمارے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف ہمارے پالیسی سازوں کے اعصاب پر سوار ہے، ضروری و غیر ضروری اخراجات پر کٹ لگایا رہا ہے۔ تعلیم و ہنر پر خرچ کرنے کے لئے رقوم درکار نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹیوٹا کے ملازمین کو بروقت تنخواہیں بھی مل رہی ہیں، بونس بھی مل رہے ہیں، افسران کو سیکرٹریٹ الائونس بھی دستاب ہے۔ مہمان داری بھی کھل کھلا کر کی جا رہی ہے۔ ٹیوٹا سیکرٹریٹ انہیں پوری شان اور آب و تاب کے ساتھ پورے صوبے میں پھیلے ٹیوٹا اداروں کی رہنمائی و نگرانی میں مصروف ہے تو کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے اور ہاں سب سے اہم اور اچھی بات ٹیوٹا کے ریٹائرڈ ملازمین پنشن بھی وصول کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک نظم و ضبط اور قائدے کلیے کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

ٹیگز: