معلوم نہیں اس کا نام کیا ہے اور کہاں کی رہنے والی ہے لیکن گفتگو سے پڑھی لکھی لگتی ہے۔ اس کی ویڈیو پچھلے دو تین روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ کچھ یوں دہائی دے رہی ہے:
"مریم نواز صاحبہ آپ کے پیچھے جتنا بھی عملہ ہے ناں، صرف اور صرف ساز باز ہو چکا ہے، آپ تک کوئی خبر نہیں پہنچتی، اگر پہنچ بھی رہی ہے آپ تک تو مجھے نہیں لگتا کہ مجھے انصاف ملے گا۔ آپ دیکھیں نا جی یہاں پر کیا ہو رہا ہے، میں جیسے چل کے آئی ہوں یہاں پر، میری دادرسی کی جاتی، مجھے بٹھا کر میرے پرابلم کو حل کیا جاتا۔ ان لوگوں نے پیسے لے کر مجھے آگے بھجوا دیا ڈی پی او کے پاس اور ڈی پی او آگے تھانے میں بھجوا دیتا ہے اور تھانے والے ایسی گندی نیت سے عورت کو دیکھتے ہیں جیسے کھلے عام منڈی لگی ہو، اوپر سے لے کے نیچے تک تاڑتے ہیں وہ لوگ۔ اور جس بندے نے مجھے مارا ہے محمد عثمان اکرم، اس بندے نے مجھے برہنہ کیا ہے، اس بندے نے مجھے نوچا ہے، اس نے اپنی ٹانگوں کے نیچے لے کر مجھے نیچے سے میرا منہ ایسے ایسے کچلا ہے۔ میں کیا کروں، بتائیں میری عزت کیا رہ گئی کسی بھی جگہ پہ، میری ماں اپاہج ہے، باپ میرا جو ہے نا، کوئی اتنا زیادہ کام نہیں ہے، غریب لوگ ہیں ہم۔ غریب لوگ سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں اور امیر لوگ جو ہیں وہ اپنی بیلیں کنفرم کرا کے گھر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے مجھے سڑکوں پر، میرے پاس کوئی گھر نہیں ہے، کچھ بھی نہیں ہے۔ کبھی میں پارکنگ میں سو رہی ہوں، سول ہاسپٹل کی پارکنگ میں سو رہی ہوں، کبھی کہاں سو رہی ہوں، کہاں جاو¿ں میں؟ ان لوگوں نے کچھ بھی نہیں کیا میرے ساتھ، یہ لوگ کہتے ہیں ہم تمھیں ہزار روپیہ کرایہ دے دیتے ہیں تم واپس چلی جاو¿، یہ ہے عورتوں کی عزت؟ کوئی عزت نہیں ہے یہاں پہ عورتوں کی۔ بندے کو پکڑا جاتا ہے، بندے کو پوچھا جاتا ہے کہ تمہاری اتنی ہمت کہ تم عورت پہ ہاتھ اٹھا رہے ہو، اس کے ہاتھوں کو توڑ دیا جائے" ۔
خاتون کی گفتگو سے اندازہ ہو رہا ہے کہ اس کا کسی رشتہ دار کے ساتھ جائیداد کا کوئی تنازع ہے اور اس رشتہ دار نے اسے تشدد کا نشانہ بنا کر گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ شخص با اثر ہے اور اپنی ضمانت کرا کے آرام سے گھر بیٹھا ہے جبکہ خاتون بیچاری بے گھر ہے اور انصاف کے حصول کے لیے کھلی کچہریوں اور تھانوں کے دھکے کھا رہی ہے مگر اس کی شنوائی نہیں ہو رہی۔ اسی دوران میں اس کی ملاقات کسی ٹی وی چینل کے رپورٹر یا کسی یوٹیوبر سے ہو جاتی ہے۔ وہ خاتون سے اس کا مسئلہ پوچھتا ہے تو وہ پھٹ پڑتی ہے اور وزیر اعلی پنجاب کے نام نہایت کربناک لہجے میں اپنا پیغام ریکارڈ کرا دیتی ہے۔
گفتگو کا انداز ایسا ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ خاتون کو وزیراعلیٰ سے تو انصاف کی امید ہے لیکن دوسری طرف اس نظام سے کوئی امید نہیں۔ وزیراعلی سے امید اس لیے ہے کہ وہ بارہا خواتین کو اپنی ریڈ لائن قرار دے چکی ہیں اور جہاں کہیں خواتین کے ساتھ ناانصافی ہو وہ انصاف دلانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ خاتون کو اس نظام سے انصاف کی توقع اس لیے نہیں کہ وہ مظلوم کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے اور ظالم کو تحفظ دے رہا ہے۔
خاتون کا یہ کہنا ہے کہ کوئی خبر وزیراعلیٰ تک پہنچتی ہی نہیں اور وہ ڈیڑھ مہینے سے دھکے کھا رہی ہے، نیز یہ کہ تھانے والے گندی نیت سے دیکھتے ہیں، غریب سڑکوں پر دھکے کھا رہے ہیں اور امیروں کی ضمانتیں منظور ہو جاتی ہیں دراصل نظام کی خرابی ہی کی طرف اشارہ ہے اور یہ نظام ہے ہمارا تھانہ کلچر۔ وہی تھانہ کلچر جسے تبدیل کرنے کے لیے مریم نواز صاحبہ رات دن ایک کر رہی ہیں اور اس میں بہت سی تبدیلیاں لے کر بھی آئی ہیں۔ انہوں نے تو کچھ عرصہ پہلے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کوئی پولیس والا شہریوں کی عزت نفس مجروح نہ کرے۔ پولیس کے افسر اور اہلکار شہریوں کو سر کہہ کر مخاطب کریں۔
ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے شہریوں کو سر کہنے کی حد تک تو وزیراعلیٰ کے احکامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے لیکن عوام کو سر سمجھنا انھیں ابھی تک مشکل محسوس ہو رہا ہے چنانچہ سر کہنے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو ذہنی ٹارچر کرنے کے لیے پولیس "سر نوں لمیاں پالوو" جیسے کسی فلسفے پر عمل پیرا ہے جس کے زیر اثر مظلوم کی داد رسی کرنے کی بجائے اسی کو تختہ مشق بنا لیا جاتا ہے۔ چند ماہ قبل داتا صاحب کے قریب مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر سے پولیس کا سلوک اس صورت حال کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
داد رسی طالب خاتون کی وائرل ویڈیو سے تو کم از کم یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس کا معاملہ بدستور "وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے" والا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو خاتون کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا اور ویڈیو وائرل ہونے کی نوبت ہی نہ آتی۔ امید ہے کہ خاتون کی ویڈیو وزیراعلی پنجاب تک بھی پہنچ چکی ہوگی اور وہ اس کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر کو مزید بہتر بنانے کی اقدامات بھی کریں گی تاکہ کسی خاتون کو تھانے جاتے ہوئے یہ احساس نہ ہو کہ اہلکار اسے گندی نیت سے دیکھ رہے ہیں یا کسی شہری کو "سر نوں لمیاں پا لوو" جیسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔